ڈاکو سے محدث تک ……. از قلم، رشید یوسف زئی

مشرقی ادب کو اگر شاعری پر فخر ھے تو مغربی دنیا کو ڈرامہ اور ناول پر۔ ناول اپنے اغاز ھی سے مغربی ثقافت اور طرز زندگی کا حقیقی ائینہ دار رھا ھے۔ یورپ اور امریکہ کے اشاعت خانوں اور کتاب خانوں سے کہیں نہ کہیں روزانہ نئے اور پرانے ناول اسطرح نکلتے ھیں جیسے بیکریوں سے گرم کیک۔ اکثر ناول چند روز یا چند مہینے زندگی رکھتے ھیں، چند ایک ناول اور اسکے خالق امر ھوجاتے ھیں جیسے انگریزی میں ڈینئل ڈیفو،سموئیل رچرڈسن اور ھنری فیلڈنگ سے چارلس ڈکنز، برانٹے، آسٹن،جارج ایلیٹ، سر والٹر سکاٹ،تھامس ھارڈی،ڈی ایچ لارنس،جارج ارویل،بیچر سٹو، ھاتورن، سکاٹ فٹز جیرالڈ، ھرمین ملویل،گرھم گرین،جوزف ھل، ھندوستانی نژاد سر وی ایس نیپال وغیرہ۔۔روسی ادب میں ٹالسٹائی،لرمانتوف، چیخوف، دوستوفسکی موجودہ لاطینی امریکہ میں بقیدِ حیات گبریل گارسیا مارکیز اور صوفی ناولسٹ پاٶلو کوایلھو اور فرانسیسی ادب میں سٹینڈل، موپساں، سارتر اور وکٹر ھیوگو۔ ڈرامہ، خوراک اور فیشن کے لحاظ سے فرانس دنیا کا راھنما ھے۔ وائٹ ھاٶس دنیا کا طاقتورترین صدارتی محل ھے تاھم اوبامہ نے سموسے تیار کرنے والا فرانس سے لایا۔


جلیبی مسلمانو کی ایجاد ھے۔ ھارون الرشید کے دربار کے موسیقار استاد ابراھیم موصلی کے شاگر ابو الحسن علی بن نافع زریاب اپنے استاد کے حاسدانہ ریشہ دوانیوں سے تنگ آکر سپین فرار ھوا۔ زرخیز تخیل پائی تھی۔ فیشن،موسیقی اور خوراک تینوں میں عجیب و غریب ایجادات کئے۔ ایک شیرینی ایجاد کی جسے اپنے نام پر ”زریابی“ کہا۔ ھندوستانی ”ز“ کو ”ج“ یا ”ژ“ سے بدلتے ھیں۔ اور زریابی جریابی اور پھر مرور ایام سے جلیبی بن گئی۔ ایرانی اور پشتون زلوبی اور زروبی کہتے ھیں۔ (کہا جاتا ھے فرانس کی عالم فیشن کی قیادت کا سہرا زریاب کے سر ھے۔ یہ موضوع پھر کبھی) تاھم آجکل جلیبی کی بہترین مرکز پیرس ھے۔ناول میں فرانس برطانیہ کا تقریباً ھمسر ھے۔

عالمی ادب میں عموما اور فرنچ ادب میں خصوصا وکٹر ھیو گو ایک نام ھے۔ شاعر،ناول نگار اور ڈرامہ نویس وکٹرمیری ھیوگو(1802-85) فرانسیسی رومانوی ادب کا سربراوردہ نام ھے۔ کئی بار اسمبلی کا ممبر بھی بنا،جلا وطن بھی ھوا۔ شاعری،ڈرامہ اور ناول میں شاہکار لکھے۔ تاھم زیادہ شہرت ایک ناول Les Miserables سے ھوئی جو اخلاقی اور انسانی اقدار کے حوالے سے اکثر زبانوں میں ترجمہ ھوئی۔ ایک فاقہ زدہ مفلس روٹی کا ایک ٹکڑا چوری کرتے ھوۓ پکڑا جاتا ھے۔ سزا کے بعد ایک بشپ کے گھر مہمان بن جاتا ھے اور ایک شریف ادمی بن جاتا ھے

دور عباسی کا ھیبت دنیا میں چھا گئی تھی۔ بغداد دنیا کا دارلخلافہ تھا۔ دنیا کے جابر ترین خلیفہ کے صدر مقام پر ایسا ڈاکو مسلط ھوا کہ لوگ خلیفہ سے نہیں بس ایک ڈاکو کے ڈر سے کانپتےتھے۔ شریر بچوں کو جب ماں ڈراتی تو کہتی،”دیکھ ابن سباط اگیا“۔ یہ نام تک کافی شریر ترین ترین بچے کو شریف ترین بنی ادم بنانے میں منتر کا کام دیتا۔ کئی بار شاھی فوج کو شکست دینے کے بعدخلیفہ کےافوج ابن سباط کوپکڑنے میں کامیاب ھوئ۔ وہ جیل سے فرار ھوا۔ دوبارہ پکڑا اور دونوں ھاتھ فوراً کاٹھ دئیے گئے کہ بھاگنے میں مشکل ھو۔ پھر جیل سے فرار ھونے میں ایسا کامیاب ھوا کہ بغداد چھوڑا۔ تاھم پیشہ نہ چھوڑا اور پھرڈاکوٶں کی گینگ بنائ۔ ایک رات تن تنہا بغداد ڈاکہ ڈالنے ایا۔ ایک گھر میں چراغ جل رھی تھی۔ اندر گیا جس کمرے میں روشنی تھی اسی میں داخل ھوا۔ قیمتی کپڑوں کے تھان دیکھے۔ خوشی سے پھولے نہ سما سکا۔ پر تھانوں کو اٹھاۓ کسطرح۔۔۔ھاتھ کٹے ھوۓ ھیں۔ اتنے میں پیچھے سے ایک سفید پوش بوڑھے نے کاندھے پر ھاتھ رکھ کر سلام کیا اور پوچھا،” میں مہمان بھائی کا کیا خدمت کروں“۔ رعب ڈالنے کیلئے ڈاکو نے کہا،”انا ابن سباٌط“ بوڑھے نے کہا آپ جو کوئی بھی ھیں میرے بھائی اور اورمھمان ھیں میں کیا خدمات کروں؟ ڈاکو نے کہا کچھ خوراک اور ایک گلاس گرم دودھ لے آٶ میں بھوکا ھوں۔ بوڑھا لے ایا۔ ڈاکو سیر ھوا۔ پھر بوڑھے کو کہا یہ تھان باندھ کے اٹھاٶ اور میرے اگے جاٶ۔ بغداد کے باھر دریا کے اس پار بوڑھے کو کہا تھان رکھو اور بوڑھے کو دو لات مارے اور کہا خبردار اگر کسی کو کہا کہ ابن سباٌط ایا تھا۔ بوڑھے نے کہا ”اپ بے فکر رھے لیکن مجھ سے اپنے مھمان بھائی کے خدمت میں اگر کوئ کوتاھی ھوئ ھے تو اسکیلۓ معافی مانگتا ھوں“۔ اور رخصت ھوا۔ تھوڑے دیر بعد ڈاکو کو بوڑھے کے طرز عمل پہ شک ھوا کہ شاید کوئی حکومتی جاسوس تھا۔ وھی جاکےاسی گھر کے باھر خفیہ بیٹھ گیا کہ گھر کے مالک بوڑھے کی شناخت ھوسکے۔ نماز فجر سے قبل تہجد کا وقت ھے کہ وھی بوڑھا نورانی چہرے والا پگڑی اور قبا پہنے کئی لوگوں کیساتھ نکل کے کےمسجدکےطرف جا رھا ھے۔ دوڑ کے ابن سباط ڈاکو نے ایک بندے سے پوچھا یہ سفید ریش بوڑھا کون جس کے پیچھے آپ سب اتنے احترام سے جارھے ھیں۔ اس بندے نےجواب دیا،” کیا تم نہیں جانتے،یہ ھمارے شیخ حضرت جنید بغدادی ھیں۔“ ابن سباط مبھوت رہ گیا۔ مسجد پہنچ کے حضرت جنید بغدادی کے پاٶں پہ گرا،توبہ نکالی اور علم حدیث کےتحصیل میں لگ گیا۔ آج میں ایک کتابِ حدیث میں اس سے نقل حدیث پڑھ رھا تھا لکھا تھا،”و عن امیر امیرالمٶمنین فی الحدیث ابن سباٌط رحمہ اللہ تعالی۔۔۔“ وکٹر ھیوگو نے سرقہ کیا یا یہ توراد ھے۔ برصغیر کے مسلمانوں اور مذھبی و روحانی اجارہ داروں کی طرز عمل اسکی برعکس رھی ھے۔ یہاں کوئی جنید بغدادی نہ پیدا ھوا نہ ھوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں