خون جگر کس کے ہاتھ پر..؟؟

از قلم …… محمد احمد مرتضی
کل ایک دوست سے ملاقات ہوئی جو نسبتا” کم خواندہ ہے لیکن بہت سے معاملات پر اس کا مشاہدہ اور نقطہ نظر اس قدر گہرا ہوتا ہے کہ بہت سے پڑھے لکھے لوگ بھی شاید ایسے نہ سوچ سکتے ہوں جیسے وہ سوچتا ہے اس کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد میں اس کشمکش میں مبتلا ہو گیا اور یہ سوچنے پر مجبور ہوا کیا واقعی اپنے ہی ملک میں اپنے ہی شہر میں ہمارے گھر والوں کے جان و مال محفوظ بھی ہیں یا ہم ہر وقت کسی سانحے کی بھینٹ چڑھنے اور حکمرانوں کی حوس اقتدار اور جاہ و جلال کے نیچے دبنے اور ان کی شان و شوکت کے لیے اپنی جان و مال فراہم کرنے کا ذریعہ ہیں ؟ یہ وہ باتیں تھیں جنہوں نے مجھے باقاعدہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ہم بحیثیت قوم کس جانب گامزن ہیں کبھی کسی نے سوچا ہے ؟ ان سب باتوں کا جواب دینے سے پہلے ایک دو گزارشات آپ کے سامنے رکھ دوں تاکہ اس معاملے میں ہونے والے نقصان کو سمجھنے میں آسانی ہو سکے پہلی بات تو یہ ہے کہ پچھلے ستر سالوں میں حکومتوں نے جس کسی معاملے کو دبانا ہو اس کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن تشکیل دے دیا جاتا ہے اور اس کمیشن اور کمیٹی کی رپورٹ سالہا سال گزرنے کے بعد بھی عوام کے سامنے نہیں لائی جاتی جوکہ ہمارے حکمرانوں اور بحیثیت مجموعی ہماری بے ہسی اور سرد مہری کا منہ بولتا ثبوت ہے دوسری گذارش یہ ہے کہ بحیثیت قوم اور شہری ہم نے کبھی اپنی ذمہ داری کو محسوس کیا تو اس کا جواب بھی یقینا نفی میں ہوگا کیونکہ ہم نے اپنے حقوق و فرائض کو کبھی سمجھا ہی نہیں ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ ہمارا ایک فیصلہ پوری قوم کے مستقبل کے لیے کس قدر اہمیت کا حامل ہے اور اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی بجاۓ تمام ملبہ اور قصور حکومت وقت پر ڈال کر خود تمام صورتحال سے مبرا ہو جاتے ہیں ہمیں جس نے بھی سبز باغ دکھائے ہم اسی کے ہو کر رہ گئے موجودہ حکمرانوں نے ہمیں ریاست مدینہ کا نعرہ دیا اور عوام نے سوچا شاید کہ یہ واقعی ہی مسیحا ہوگا لیکن افسوس اس نام نہاد ریاست مدینہ کے ترجمان کس قدر بے حس ہیں کہ ہر غلط کام کا دفاع کرتے ہیں مبینہ طور پر اسرائیلی طیارے کی آمد سے لے کر آج تک ہر غلط کام کو درست ثابت کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی وزراء نے شراب کو شہد قرار دیا اور کل اس سانحہ پر بھی اپنی زبان کے ہاتھوں مجبور ہو کر بیان داغ دیا کہ دہشت گرد مار دئیے گئے لیکن ڈپٹی کمشنر ساہیوال نے بیان دیا کہ ملزمان نے کسی بھی قسم کی مزاحمت نہیں کی اور اہل علاقہ نے بیان دیا کہ یہ لوگ نہایت شریف اور نفیس لوگ تھے اہل علاقہ کو کبھی بھی ان کی جانب سے کوئی تکلیف نہیں پہنچی اگر وزراء کا بیان درست بھی ہے تو کیا یہ جو کچھ ہوا وہ درست تھا؟ کون سا قانون اور آئین کہتا ہے کہ کسی ملزم کو اس کے بچوں کے سامنے قتل کردیا جائے ریاست مدینہ میں حضرت عمر بن خطاب جیسے جلیل القدر صحابی بھی فرماتے تھے دجلہ کے کنارے مرنے والے کتے کا جواب بھی حکمرانوں سے لیا جائے گا لیکن یہاں ریاست مدینہ کا نعرہ دینے والے حکمران اس صورتحال کو درست ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں بات بات پر مغرب کی مثال دینے والے وزیراعظم نے 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود کسی وزیر یا وزیر اعلی اور آئی جی پنجاب کا استعفی کیوں طلب نہیں کیا یا ریاست مدینہ کا نعرہ بھی دیگر نعروں اور وعدوں کی طرح یوٹرن پالیسی کا شکار ہوگیا ؟ شیخ رشید اور ڈاکٹر طاہرالقادری جیسے نام نہاد انسانیت اور ہیومن رائٹس کے علمبردار کہاں ہیں کیا اب وہ اس قدر بے حس ہوچکے کہ ایک بیان بھی نہ دے سکے شہباز شریف بطور قائد حزب اختلاف اس واقعے کی تحقیقات اور معصوم بچوں کو انصاف دلوانے میں اپنا کردار ادا کریں جن بچوں کے سامنے ان کے والدین کو قتل کیا گیا ان کا کسی نے سوچا کہ وہ کیسے زندہ رہیں گے خاتون اول بشری بی بی جو پرہیز گار اور درد دل رکھنے والی خاتون ہیں جنہیں ایک کتے  کے آنسو نظر آجاتے ہیں انہیں بھی معصوم بچوں کے آنسو نظر نہیں آئے اور افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ ہمارے پی ٹی آئی کے فالوورز اب  بھی سوشل میڈیا پر اس وحشیانہ حرکت کا دفاع کر رہے ہیں ہم اس قدر تقسیم در تقسیم کا شکار ہیں کہ اپنی پسندیدہ جماعت اور حکومت کے ہر برے کام کا بھی دفاع کرتے ہیں اور ناپسند جماعت یا حکومت کے ہر اچھے اقدام پر بھی تنقید کرتے ہیں لیکن ہمیں بحیثیت قوم یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ انسان سوز واقعات کا دفاع کسی بھی صورت جائز نہیں امید کرتے ہیں کہ آئندہ چند روز میں اس تمام معاملے کی صاف اور شفاف تحقیقات کے بعد زمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انسانیت سوز اس واقعے کی انہیں کڑی سزا دی جائے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں