اسلامی تصوف کی چند بنیادی کتب

تحریر ، رشید یوسف زئی

ایک عارف صحیح معنوں میں عارف نہیں ہو سکتا جب تک وہ اس زمین کی مانند نہ ہو جس پر نیک و بد سبھی چلتے ہیں. جنید بغدادی رح

لاکھ اختلاف کے باوجود اس حقیقت سے انکار مشکل ھے کہ انسانی تاریخ کے کافی سرکش روحوں، اعلی ذہنوں اور پراضطرار دلوں کو بالآخر تسکین تصوف کی پر اسرار دنیا میں ملی. کسی نے تصوف کو “برائے شعر گفتن خوب است” کہا تو کسی نے توہمات کا ملغوبہ. مگر آخر الامر تصوف ان سب پر فتح پاگیا. غزالی، ابن قیم، شیخ شہاب الدین سہروردی مقتول، ملا صدرا، ملا ہادی سبزواری، سیںنٹ سیمیون St. Symion, سینٹ اگسٹائن، سینٹ جان دمشقی، سینٹ، انسلم، سینٹ سائرل، سینٹ اکویناس، رینے گینون( فرنچ آرٹسٹ اور فلسفی، اسلام قبول کی اور الحاج عبدالواحد یحیی بن گیا) وغیرہ بے شمار نام ہیں جو تصوف کے مخالفت سے ہی تصوف کے شکار بن کر خود ممتازصوفی بنے.

صوفی کسے کہتے ہیں؟ تصوف کی اصطلاح کہاں سے آئی؟ اہل علم و دانش ان سوالات کے متنوع جواب دیتے ہیں.
ایک گروپ کے مطابق صوفی عبادت گزار لوگوں کا وہ گروہ تھا جو ریشمی لباس ترک کرکے صرف اون (صوف) کا لباس پہنتے تھے. ایک حلقہ کی رائے صوفی صفا سے نکلا ہے یعنی دل کی صفائی. جب کو دل کا آئینہ تزکیہ عبادت اور ریاضت سے صاف کرتا ہے تو صوفی کہلاتا ہے. کچھ اسلامی سکالروں نے لکھا ہے کہ صوفی اصحاب رسول اللہ کے ان صحابہ سے متعلق ہے جو اصحاب صفہ کہلاتے تھے. تاہم ان سب توجیہات پر کوئی نہ کوئی اعتراض کیا گیا ہے. شمس العلماء علامہ شبلی نعمانی نے “الغزالی” میں “تصوف” کے باب کی آخر میں سب سے قوی رائے پیش کی ہے. لکھتے ہیں:

” تصوف کا لفظ اصل میں سین سے تھا اور اس کا مادہ سوف تھا جس کے معنی یونانی زبان میں حکمت کے ہیں. دوسری صدی ہجری میں جب یونانی کتابوں کا ترجمہ ہوا تو یہ لفظ عربی زبان میں آیا. اور چونکہ حضرات صوفیہ میں اشراقی حکماء کا انداز پایا جاتا تھا اس لئے لوگوں نے ان کو سوفی یعنی حکیم کہنا شروع کیا. رفتہ رفتہ سوفی سے صوفی ہوگیا.”
علامہ شبلی کی یہ توجیہہ سب سے زیادہ معقول ہے. فیثاغورث سے پہلے یونان میں ایک طبقہ خود کو Sophist یعنی دانا کہتے تھے. فیثاغورث نے ان پر طنز کی. اور انکساری سے اپنے لئے فیلسوف کا لفظ اختیار کیا. Phil کی معنی محبت اور Soph کی معنی دانائی، یعنی دانائی یا حکمت سے محبت رکھنے والا. فلاسفر اور صوفی بننے کی محرک اول اور منزل مقصود تقریباً ایک ہی ہے.

اسلام میں تصوف تین ارتقائی مراحل سے گزرا: حالت خوف، دوم حالت عشق اور سوم حالت فنا و اتصال.
رسول اللہ صلعم اور صحابہ کرام کے زمانے میں مذہب ایک سیدھا سادہ طریق زندگی تھا جس میں انسانی روئے کی تہہ میں خوف خدا کا جذبہ ہی سب قوی تر تھا. دوسری صدی ہجری میں تصوف خوف کی منزل سے چل کر محبت و عشق کے مقام تک پہنچا. تیسری صدی ہجری میں عباسی خلافت کے ابتدائی دور میں یونانی فکر و فلسفہ کی آمد ہوئی اور تصوف معرفت Gnosticism کے انتہائی مرحلے میں ہوئی جس میں ریاضت و عبادت اور جستجو سے روح کلی میں اتصال اور فنا صوفی کی منزل قرار پائی.

عموما صوفی حضرات اپنے سلسلہ ہائے معرفت کی آغاز حسن بصری سے کرتے ہوئے ان کو ان کی فقر وزہد کے بناء پر اولین صوفی قرار دیتے ہیں. تاہم یہ بات درست نہیں اسلئے کہ اس وقت تصوف اور صوفی کا نام تک اسلامی دنیا میں متعارف نہ تھا.
راقم کے خیال میں اولین اسلامی شخصیت جس نے اپنے لئے صوفی کا لفظ اختیار کیا تیسری صدی ہجری کے ابوہاشم کوفی رح تھے.
تصوف ایک باطنی اور انفرادی دنیا ھے. صوفی کا تجربہ نہ منتقل کیا جاتا نہ اس کے علاوہ کوئی اور اسکا ادراک کیا جاسکتا ہے. اس لئے اقبال نے تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ Reconstruction of Religious Thought in Islam میں صوفی کے تجربات کو ناقابل ادراک اور ناقابل آزمائش لکھا ہے. تاہم مختلف صوفیاء نے اپنے قلبی واردات اور اپنے پیشرؤوں کے حالات و سوانح قلمبند کرکے ان ناقابل انتقال اور لطیف کیفیات کو ھم تک منتقل کرنے کی سعی کی ھے. تصوف کے اسلامی لٹریچر میں کچھ کتابیں کلاسکیس کا درجہ اختیار کر چکے ہیں. چند ایک کی تعارف کی کوشش کرتا ہوں تاکہ دلچسپی لینے والے قارئین خود ان سے مستفید ہوسکیں.

“کتاب اللمع فی فی التصوف” ابوالنصر عبداللہ ابن علی السراج طوسی (متوفی 378) کی تصنیف ہے. تصوف کے مضامین کا بیش بہا خزانہ ہے. کئی صوفیا جیسے جنید بغدادی وغیرہ کے حوالے سے مستند مانی جاتی ہے.

“قوت القلوب فی معاملات المحبوب” ابوطالب محمد بن علی عطیہ مکی (376متوفی) کی تصنیف ہے. ابوطالب مکی مشہور صوفی محدث ابوسعید ابن العربی کا شاگرد تھا. (محی الدین ابن عربی الاندلسی کو محدث ابن العربی سے متفاوت کرنے ال معرفہ کے بغیر ابن عربی لکھا جاتا ہے) خطیب بغدادی نے ابوطالب مکی پر کافی تنقید کی ھے اور اس کے قوت القلوب کو ناقابل فہم اور بدعات سے بھری ہوئی قرار دیا ہے. لیکن آج ھم جب اس کی دونوں جلدوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو مکی کے روحانی تجربے اور اظہار کی تاثیر دل کو مسحور کرتی ہے. نثری و ادبی لحاظ سے بھی عربی ادب کی ایک شاہکار ہے. مسلمان مفکروں پر اس کے اثر کا اس سے اندازہ کیا جاتا ہے کہ امام غزالی کے احیاء العلوم کو قوت القلوب کی عام فہم شرح کہا جاتا ہے.

“کتاب التعرف للمذہب التصوف” ابوبکر محمد بن اسحاق الکلاباذی کی تصنیف ہے. بخارا کا رہنے والا حنفی عالم تھا. تمام صوفی حلقوں کی درمیان اختلافات اور ان کے مسلمہ عقائد میں تفاوتوں کو ایک دلربا انداز سے رفع کرنے والی اس سے بہتر کتاب مشکل سے مل سکتی ہے. التعرف کو صوفی نظریات کا مستند ماخذ مانا جاتا ہے. یہ صوفی روئے کے جواز میں پہلی آواز ھے. تصوف کے کسی اور کتاب نے اتنی جلدی اتنی وسیع مقبولیت حاصل نہیں کی. مشہور مستشرق جے اربری نے انگریزی میں ترجمہ کی ھے.

“طبقات الصوفیہ” ابوعبدالرحمن محمد ابن الحسین ابن موسی نیشاپوری کی تصنیف ھے. مصنف نے اپنے دور تک کے تمام صوفیا کے حالات واقعات شرح وبسط سے بیان کئے ہیں. مولانا عبدالرحمن جامی کی نفحات الانس اسی کے متن پر لکھی گئی ھے.

“حلیۃ الاولیا و طبقات الاصفیاء” حافظ ابو نعیم احمد ابن عبداللہ الاصفہانی کی کتاب ہے. اصل اور حقیقی صوفیانہ روایات کا گلدستہ ھے.
ابوالقاسم عبدالکریم ابن حوازن القشیری نیشاپوری کی “رسالہ قشیریہ”. اور ابوالحسن آبی عمر ابن ابی علی الجلابی الہجویری داتا گنج بخش کی” کشف المحجوب” دونوں اردو میں ترجمہ ھوئے ہیں اور مقبول عام ہیں.

ان کے علاوہ امام غزالی کی مشکاۃ الانوار، ابن قیم کی مدارج السالکین، خراز کی کتاب الصدق اور جے آربری کی
An Introduction to the History of Sufism, The Book of the Cure of Souls,
ٹی ڈبلیو آرنلڈ کی The Legacy of Islam ، اے ای کریمسکی کی A Sketch of Devepment of Sufism upto the End of the Third Century of Hijra ، بی بی میکڈانلڈ کی The Religious Attitude and Life in Islam ،آر اے نکلسن کی The Idea of Personality in Sufism The Mystics of Islam ، The Origin and Development of Sufism
اور سب سے بڑھ انڈین کشمیر کی پروفیسر غلام قادر لون کی جدید تحقیقی تصنیف “مطالعہ تصوف” اس جامع اور دقیق موضوع سے مکمل تعارف کیلئے لازم ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں