ساہیوال واقعہ ، حکومت کے لئے ٹیسٹ کیس

تحریر ، افضال احمد تتلا

کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جن کو بھول جانا انسان کے بس میں نہیں رہتا انسان اپنے شعور سے ان واقعات نکالنا چاہتا ہے مگر یہ واقعات لاشعور کا حصہ بن کر رھ جاتے ہیں ایسا ہی واقع سانحہ ساہیوال ہے یہ تحریر لکھنے سے پہلے کئی بار آنکھیں بھیگی,گلے میں اترتی ہوئی نمی کو قابو کرنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ تین معصوم بچوں کی تصویر آنکھوں کے سامنے گھوم رہی تھی ایک جیسے رنگ اور ڈیزائن میں ملبوس دو معصوم بچیاں(جن کو پنجاب کے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار اب قوم کی بچیاں کہہ رہے پوچھنے والی بات تو ہے کہ قوم کی بچیاں بننے کے لیے اپنی آنکھوں کے سامنے ماں باپ کو مرتے دیکھنا ضروری ہے کیا اتنی بڑی قربانی کے بغیر کوئی بچہ قوم کا بچہ نہیں بن سکتا) چار سالہ ہادیہ بغل میں فیڈر دبائے سہمی ہوئی آنکھوں سے ایک لمحے میں اپنی بدلتی ہوئی دنیا کو دیکھ رہی ہے جبکہ دس سالہ عمیر اپنے جسم پر زخم کھائے بے یارو مددگار ریاست کو تلاش کرتا ہوا معلوم ہو رہا ہے اور اس کے ساتھ سات سالہ منیبہ اپنے کپڑوں پر خون کے دھبے لیے کھڑی ہے اور یہ خون بھی کسی بیگانے کا نہیں بلکہ اس کے اپنے ماں باپ کا ہے جن کو 19 جنوری کو دن دہاڑے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے جوانوں نے ساہیوال ٹول پلازہ کے قریب مبیّنہ مقابلے میں ابدی نیند سلا دیا۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر یہ کار مشکوک تھی تو اس کو روکنا چاہیے تھا۔ اگر اس گاڑی میں اسلحہ بارود تھا یہ کیسے کئی کلومیٹر کا سفر طے کرکے لاہور سے ساہیوال تک آگئی یہ کئی ٹول پلازوں سے گزر کر آرہی ہے بقول سکیورٹی اداروں کے اس گاڑی کی سیف سٹی کیمروں کے ذریعے نگرانی بھی کی جارہی تھی تو پھر اس کار کو روکنا مشکل تو ہوسکتا ہے لیکن ناممکن نہیں کہہ سکتے کیونکہ ٹارگٹ بالکل واضع تھا اور اگر ہمارے اس اسپیشل ادارے جس میں موجود اہلکاروں کی تربیت پر عوام کے پیٹ کاٹ کر لاکھوں روپے لگائے جارہے بھی ایک واضع ٹارگٹ پر قابو پانے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو یہ ان پر سوالیہ نشان ہے بالفرض گاڑی میں موجود دہشت گرد تھے بھی تو دہشت گردوں کو پکڑنے کا یہ طریقہ ہے کہ انہیں سرعام گیر کر دن دہاڑے چلتی ہوئی سڑک پر گولیاں مار دی جائے یہ تک بھی نہ دیکھا جائے کہ گاڑی میں بچے اور خواتین سوار ہے یہ ہے اس ڈیپارٹمنٹ کی کارگردگی جس پر عوام کے ٹیکسوں سے اربوں روپے کا بجٹ خرچ ہورہا ہے۔وزیراعظم عمران خان صاحب نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں سی ٹی ڈی کے حوالے سے ایک بیان بھی دیا وزیراعظم صاحب کہتے ہیں “اگرچہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ دہشت گردی کیخلاف نمایاں خدمات سرانجام دے چکا ہے تاہم قانون کی نگاہ میں سب برابر ہیں۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ آتے ہی اس کی روشنی میں سخت کارروائی کی جائے گی۔ اپنے تمام شہریوں کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہے”یہاں پر ایک بات واضح کرتا چلوں ساہیوال کا سانحہ تحریک انصاف کے لیے ٹیسٹ کیس بن چکا ہے اگر عمران خان نے اس کیس میں گناہ گاروں کو بے نقاب نہ کیا پھر ان کی جماعت جس کا نام تحریک انصاف رکھا ہوا میں سے انصاف کا لفظ پھیکا پڑ جائے گا یہ صرف تحریک رہ جائے گی تحریک انصاف نہیں خان صاحب اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ نے تحریک انصاف کا رہنما بننا ہے کہ ایک اندھی, بہری اور گونگی تحریک کا،فیصلہ بہرحال آپ کے ہاتھ میں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں