انیسویں صدی کا مہاراجہ اور بیسویں صدی کا امیر المؤمنین

تحریر ، رشید یوسفزئی

پاکستانیوں اور خصوصاً پنجابیوں کے نفسیات تاریخ اور نیشنلزم کے حوالے سے عجیب و غریب سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں. سکندر، محمد بن قاسم، غوری اور غزنوی سمیت باہر سے آیا ھوا ہر حملہ آور ان کا ہیرو ہے. راجہ پورس، راجہ داہر اور اس مٹی کا ہر سپوت جس نے مقامی خود مختاری کی دفاع کی ہے ویلن اور معتوب و مقہور.مہاراجہ رنجیت سنگھ برصغیر کی تاریخ میں جدت فکر، روشن خیالی، ماڈرن ازم اور حب الوطنی کیلئے مثالی حکمران تھا. محدود اور چھوٹے سلطنت گوجرانوالہ کا یہ جوان سکھ کانا مہاراجہ، اسلام کے ہیرو مغل شہنشاہوں اور ظل الہیوں سے ھزار بار زیادہ ترقی پسند اور تیز ذہن و ھوش کا مالک تھا.

رنجیت سنگھ یورپ کے سائنسی اور دفاعی ترقی کا قائل تھا اور ان سے خوب استفادہ کرتا رہا. نپولین کو واٹرلو میں 1815 میں شکست ہوئی تو مہاراجہ نے اس کے دوسو فوجیوں کو اچھی تنخواہوں اور مراعات کے پیشکش کرکے بلایا جنہوں نے ریاست گوجرانوالہ کو برصغیر میں سب سے جدید ترین دفاعی اور پیشہ ورانہ قوت میں تبدیل کرنے کی بناء ڈالی. 1830 میں رنجیت سنگھ کی آرمی واحد ھندوستانی فوج تھی جو یورپی وردی پہن تھی تھی اور باقاعدہ ڈرل کرتی تھی. جدید ترین بندوقوں کیلئے اسوقت کے یورپی طاقت فرانس سے معاہدہ کرنے والا مہاراجہ رنجیت سنگھ ہی پہلا انڈین حکمران تھا. فرانسیسی اور اطالوی جرنیل، جنرل ایلارڈ Allard, جنرل ونچورا Ventura, جنرل کورٹ Court اور پشاور کے ھم جنس پرست اطالوی گورنر جنرل پاؤلو ایویٹبائل Paulo Avitabile (جو مابعد کے پشتون قصوں کہانیوں اور فوک داستانوں میں ابو طبیلہ کے نام سے مشہور ہے) انیسویں صدی کے گوجرانوالہ کے ایک سکھ راجہ کے تنخواہ دار یورپی جرنیل تھے!

رنجیت سنگھ کا مقرر کردہ درہ خیبر کا حاکم برطانوی مہم جو کرنل لیزلی Col. Leslie ، جس کا ھیڈکوارٹر علی مسجد تھا، ہی وہ شخص تھا جس نے جمرود تک پانی سپلائی کا منصوبہ بنا کے عمل میں لایا اور خیبر میں پہلے ڈیم کی تعمیر کی. بعد میں مسلمان ھوگیا اور فدا محمد خان نام اختیار کیا……. بطور شخصیت کوئی مسلمان شہنشاہ یا ظل الہی نوجوان غیر مسلم مہاراجہ رنجیت سنگھ کے برابر پختہ، فکر سادہ زندگی والا اور سنجیدہ نہیں گزرا. تاہم آج کے مقامی مجاہد نسلوں میں مہاراجہ رنجیت سنگھ ایک خونخوار مسخرے کے طور پر مشہور ہے جبکہ ھفتوں تک افیم، شراب کے نشے میں اپنے محل سراؤں اور ھزاروں لونڈیوں اور طوائف کے بانہوں میں خوابیدہ مغل حکمران ان کیلئے قابل فخر!

لارڈ آکلینڈ ایسٹ انڈیا کمپنی کے طرف سے مقررہ گورنر جرنل ھند نے افغانستان پر حملے اور شاہ شجاع کو بر سر اقتدار لانے کی منظور دیدی تو منصوبہ بنایا کہ رنجیت سنگھ کی فوج برطانوی فوج کی ساتھ شریک ہوکر افغانستان پر حملہ کرے اور رنجیت سنگھ اس کے زیر حکومت پنجاب اور پشتون علاقوں سے انگریز فوج کے گزرنے کی اجازت دے تاکہ پشاور خیبر سے ہوتے ہوئے جلال اباد اور کابل پر حملہ کرکے شاہ شجاع کو کابل کے تخت پر بٹھایا جائے. ان اھداف کی حصول کیلئے گورنر جنرل لارڈ آک لینڈ کے پرنسپل سیکرٹری سر ولیم میکناٹن William Macnaghten کو خطیر رقم کے پیشکش کیساتھ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے پاس گوجرانوالہ بھیجا گیا. متعلقہ امور کے جدید مؤرخ پیڈی ڈوچرٹی Paddy Dowcherty اپنے کتاب The Khyber Pass میں لکھتا ہے:
Macnaghten was placed in charge of securing Ranjit’s agreement to this plan but was entirely outwitted by the Maharaja………. Ranjit forbade the use of the Khyber route into Afghanistan, being alarmed at the thought of a British army passing through his kingdom.

میکناٹن کو رنجیت سنگھ کی اس معاہدے کیلئے رضامندی حاصل کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی لیکن مہاراجہ نے انگریزوں کو ان کی چلاکی میں شکست دی……. رنجیت سنگھ نے افغانستان پر حملے کیلئے درہ خیبر کی اجازت نہ دی کیونکہ وہ اپنے علاقے سے برطانوی فوج کے محض گزرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا.مجبورا برطانوی فوج کو سندھ سے ہوتے ہوئے درہ بولان کی راہ لینا پڑا……. یہ آج سے ایک سو پچاس قبل ایک نوجوان سکھ مہاراجہ کا رد عمل تھا.

ایک سو پچاس سال بعد، بیسویں صدی کے دوسرے نصف کے چوتھی دہائی میں امیر المومنین و امام المجاہدین جنرل ضیاء الحق کا ردعمل اس کے بالکل برعکس تھا. ڈین ککس Dean Kux پاک امریکہ تعلقات پر دنیا بھر میں سب سے مستند اتھارٹی تسلیم کی جاتی ہے. ککس کی کتاب The United States and Pakistan اپنے جامعیت کے لحاظ سے انٹرنیشنل ریلیشنز کی ایک شاہکار مانی جاتی ہے. ککس لکھتا ہے کہ امریکی وہائٹ ھاؤس کا مشہور ٹاؤٹ رابرٹ میک فارلان Robert McFarlane( سفاری دنیا میں بڈ Budd کے نام سے مشہور تھا. ایران کنٹرا معاملے میں تہران آیا تھا. ایرانی حکام ملنے کیلئے تیار نہ تھے) اسلام آباد میں صدر ضیاء الحق کیساتھ بیٹھا تھا تو ضیا الحق نے پوچھا:
“Budd, why don’t you ask us to grant bases?””بڈ، آپ ھم کو ھوائی اڈے کیلئے کیوں نہیں کہتے؟” ککس نے لکھا ہے کہ افغان جنگ میں ضیاء الحق نے پورے ملک کو پلیٹ میں رکھ امریکہ کو پیش کیا.یہ مرد حق کی سیاسی دانشمندی اور حب الوطنی تھی!

ملکی ترقی اور تحفظ کی بنیادی محرک وطنیت ہے. اور وطنیت اور مذہب ایک دوسرے کے دشمن. تاریخ کی گواہی ہے کہ مذہب سائنسی اور معاشی و معاشرتی و قومی ترقی ساتھ نہیں چل سکتے (میں تلوار اور جہاد سے لونڈیاں اور غلام بنانے کی بات نہیں کرتا) . مذہب کی بنیاد میں وطن دشمنی ہے. اگر ترکی آج خلافت کی زیر سایہ ھوتی تو کیا ہوتا؟ خلیفۃ المسلمین کی بیویاں بچے اور حرم بڑھتے، بس؟ مرد دانا و بینا مصطفی کمال نے بیک بینی و دو گوش مذہب کو ترکی سے نکالا. آج ترکی ایک عالمی طاقت ہے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں