نورشاہ ولی قبرستان میں جعلی قبریں تیارکر کے کیا ہو رہا ہے ، حساس ادارے نے سب بتا دیا

قدیرسکندر سے ،

فیصل آباد کے بڑے قبرستان نورشاہ ولی میں جعلی قبریں تیار کرکے بااثر افراد کو بھاری مالیت پر فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے.محکمہ اوقات کے مینجر اور نگران دربار بھی قبروں کی فروخت میں شامل ہیں .

حساس ادارے کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بابا نورشاہ ولی دربار تھانہ سول لائن علاقہ کے واقع ہے اوردربار کے عقت میں ایک بڑا قبرستان ہے جو کہ محکمہ اوقات کے زیرانتظام ہے تاہم اب یہ معاملہ سامنے آئی ہیں کہ قبرستان میں موجود اکثریں قبریں جعلی طورپر تیار کی گئیں ہیں جو قبرستان کی مختلف جگہوں پر موجود ہیں اور ان پر مٹی ڈال کر قبرنما ڈھیریاں لگا دی گئیں ہیں اور ان کے گرد چاردیواری کی گئی کہ جبکہ ان قبروں میں کسی بھی قسم کوئی جسد خاکی موجود نہیں ہے.

ان قبر نما ڈھیروں کو قبریں ظاہر کرکے ان کی خریدو فروخت کی جاتی ہے اور جب کوئی بااثر شخص یا اس کے لواحقین میں سے نورشاہ ولی قبرستان میں قبر کے لئے جگہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ جعلی قبریں انہیں فروخت کردی جاتی ہیں جس کے عوض بھاری رقوم وصول کی جارہی ہیں.

رپورٹ کے مطابق محکمہ اوقات کے مینجر عمیر اقبال اور نگران دربار ملک فریاد بااثر افراد سے سازباز کرکے ان کو قبریں ملکیتی طورپر فروخت کردیتے ہیں جبکہ محکمانہ طورپر اس کا کوئی ریکارڈ بھی موجود نہیں ہے. مینجر اور نگران دربار کی جانب سے قبرسان کے عملہ کو بھی ڈراتے دھمکاتے ہیں کہ اگر انہوں نے ان کے کہنے پر عمل نہ کیا تو انہیں نوکریوں سے فارغ کردیا جائے گا اور ان کی جگہ نیا عملہ لے آئیں گے.

اس حوالے سے دربار سے سے ملحقہ علاقہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ یہاں پر مقیم ہیں لیکن محکمہ اوقات کے مینجر اور نگران دربار بااثر افراد کو قبریں فروخت کر دیتے ہیں اس لئے انہیں قبرستان میں اپنے لواحقین کی میتیں سپردخاک کرنے کے لئے جگہ نہیں ملتی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں