بایزید انصاری : پشتونوں کا امام مہدی

تحریر ، رشید یوسفزئی

تاریخ اسلام میں مہدویت کے نام سے کئی احیائی، اصلاحی اور نیشنلسٹ تحریکیں اٹھے ہیں. ایران کے نامور ماڈرن محقق دکتر عبدالحسین زرین کوب نے اپنے شہکار تحقیقی تصنیف “دو قرن سکوت” (خاموشی کے دو صدیاں) میں ابن االمقنع، مازیار، افشین وغیرہ قوم پرست ایرانی ھیروز کا دلچسپ تذکرہ کیا ہے. ان میں “نقاب پوش پیغمبر” ابن االمقنع ایک گونہ اپنے دور کے امام مہدی تھا. مقنع نے اپنی ایک چاند بنائی تھی. رات کو اسے نمودار کرکے علاقے کو منور کرتا اور دن کو “چاہ نخشب” یا نخشب کے کنویں میں اسے غائب کرتا. عباسی فوج سے شکست کھائی. اپنے بیویوں سمیت ایک بڑی تندور میں چھلانگ لگا کے خودکشی کی. مشرقی تاریخ میں کیسے کیسے پر اسرار اور شاندار شخصیات چھپے ہیں!


ھندوستان میں سید محمد جونپوری نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا. ابوالکلام آزاد نے “تذکرہ” میں سید محمد جونپوری کی کھل کر تعریف کی ہے. ملا عبدالقادر بدایونی نے “منتخب التواریخ” میں اپنے تمامتر تنگ نظری کے باوجود سید محمد جونپوری کو “اعلی مرتبے کے اولیاء اللہ” میں سے لکھا ہے. “کنزالعمال” کے مصنف ملا متقی ھندی اور افغانستان کے مشہور محدث اور “الموضوعات الکبریٰ ” کے مصنف ملا علی قاری الھروی دونوں نے سید محمد جونپوری اور اس کے مہدوی فرقے کی مخالفت میں رسالے لکھے ہیں. برصغیر میں سب سے سخت جان مہدوی تحریک سید محمد جونپوری کی اصلاحی سعی تھی. ان کے پیروکار آج کل کراچی اور بلوچستان میں موجود ہیں جبکہ امریکہ میں مقیم ہمارے مشفق بزرگ رحمت علی خان صاب دنیا میں مہدویت کی روح رواں ہیں. جونپوری سولہویں صدی میں اپنے افغانستان سفر میں تربت، بلوچستان تشریف لائے تھے. ان کی جائے قیام تربت، بلوچستان میں “کوہ مراد” کی دامن میں تھی جو آج بھی ان کے پیروکاروں کیلئے مقام مقدس اور زیارت کی جگہ ہے. اسی سفر کے اختتام پر افغانستان کی صوبہ فرح میں فوت ہوئے. ابوالفضل علامی اور مولانا عبدالعلی بحرالعلوم کے بعد سید محمد جونپوری کو برصغیر پاک و ھند کی تاریخ میں سب اعلی دماغ کا مالک کہا جاتا ہے. سید محمد جونپوری کے پیروکار خود کو “مہدوی”کہتے ہیں، جبکہ غیر مہدوی دنیا ان کو (ذکر الہی پر ان کے تاکید کے وجہ سے) “ذکری” کہتے ہیں.

پنجاب کے قصبے قادیان میں مراز غلام احمد نے اپنے مہدی ہونے کا اعلان کیا. حدیث کی مشہور کتاب “ابن ماجہ” کی ایک حدیث “لا مہدی الا عیسی ابن مریم” (مہدی اور عیسی ابن مریم ایک ہی شخص ہے) کے بمصداق مرزا غلام احمد نے خود کو “مہدی موعود اور مسیح معہود” کہا. افریقہ میں برطانوی سامراج کے خلاف نیشنلسٹ اور حریت پسند تحریک کے لیڈر مہدی سوڈانی نے اپنی مہدویت کا اعلان کیا. سوڈان کی آزادی کی تحریک چلائی اور قابض فوج کے کمانڈر جرنل گورڈن کو قتل کیا. ممتاز انگریزی نثر نگار لائیٹن سٹریچی Lytton Strachey نے Eminent Victorians میں زندہ و تابندہ نثر میں اس افریقی تاریخ کا احاطہ کیا ہے. لارڈ کچنر نے جرنل گورڈن گورڈن کے قتل کے انتقام میں مہدی سوڈانی کے جسد خاکی کو قبر سے نکال کر اس کی بے حرمتی کی. سوڈان سے واپسی پر خود لارڈ کچنر سمندر میں غرق ہوا. اقبال نے مہدی سوڈانی پر فارسی میں کافی لکھا ہے. لارڈ کچنر کے سمندر برد ہونے کو اقبال نے مہدی سوڈانی کے جسد خاکی کا انتقام کہا ہے:
گفت اے کشنر اگر داری نظر انتقام خاک درویشے نگر
آسمان خاک ترا گورے نداد مرقدے جز در یم شورے نداد
خود ابوالکلام آزاد بھی ایک موقع پر اپنے مہدی ھونے کا اعلان کرنے والا تھا . اکابرین نے منع کیا. تاہم یہ موضوع پھر کبھی.
شیعیت اور اس کے مختلف فرقوں میں مہدی کا عقیدہ اور مہدیوں کا ظہور ھمارے بحث سے خارج ہے.
پشتون تاریخ میں نیشنلزم اور اصلاح کی خاطر اولین موومنٹ تحریک روشنائیہ کی شکل میں ابھری تھی. بایزید(تذکرۃ الابرار میں ان کی مہر کے حوالے سے بازید نقل ہے) انصاری پیر روشن بن عبداللہ قاضی بن شیخ محمد اس تحریک کا بانی تھا.
تمہید…….. جاری ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں