اچھے خوابوں کی تعبیر اور ہماری سوچ

تحریر، محمد امین کھنہ

ہماری تعمیری اور اچھی سوچ کے گرد ہی ہماری معاشی ، سماجی ، معاشرتی اور اقدار کے زاویے گردش کرتے ہیں۔ وہ خواب کبھی تعبیری صدف میں نہیں جاسکتے جس کا اچھا مقصد اپنے مستقبل ، ملکی ترقی اور ملت کی خوشحالی کے حوالے سے نہ ہو جب سوچوں میں ہی بادِ مسموم جیسی کیفیت ہو تو عملی تعبیر نہیں حاصل ہوسکتی۔ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے قابل فخر ملک ہے جس کے باشندے اولوالعزم جذبہ خدمت رکھتے ہیں۔

پاکستان کی دفاعی نوعیت بھی باعثِ طمانیت ہے یہ الگ بات ہے کہ اس کی معاشی ترقی کا گراف سمندر کی لہروں کی طرح اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ملک کو کچھ خاندانوں نے ایک باجگزار ریاست سمجھ کر اس کے وسائل کو جی بھر کر لوٹا ہے اور یہ ڈاکہ زنی کا تسلسل جاری ہے۔ قدرت نے سرزمین پاکستان کو بے پناہ نعمتیں و دیعت کی ہوئی ہیں دنیا کے معاشی ماہرین اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ بے پناہ وسائل ہونے کے باوجود پسماندگی ہی اس کا مقدر کیوں ہے۔ عوام میں احساسِ محرومی بڑھنے کی رفتار خاصی تیز ہے۔ کیونکہ اکثر حکمرانوں نے ان کو ریاستی لوازمات سے محروم رکھا۔ یا یوں کہہ لیجئے کہ زرسیاست زیادہ چلتی ہے۔ اس وجہ سے سیاسی انارکی اور عوام کا معیار زندگی نچلے گراف پر ہے سب سے بڑی وجہ ملک میں طویل عرصہ سے ناانصافی کا ماحول برپا ہے ناانصافی سے قومیں معاشرے اپنا تشخص کھو بیٹھے ہیں۔ کچھ حکمرانوں نے اپنے آپ کو آئین و قانون سے بالا سمجھا ہوا ہے۔ قوم ، معاشرے ہمیشہ آئین و قانون پر عمل کرکے ہی ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر حکمرانوں کا طرزِ حکمرانی صحیح سمت میں ہو تو ملک اچھی ڈگر پر چلے گا۔ لیکن اکثر مشاہداتی تجزیاتی طور پر سامنے یہ بات آئی کہ جمہوریت کو حکمرانی کا سلوگن کہنے والوں نے طرزِ شاہی اختیار کی ۔ جس کے سنگین نتائج عوام نے بھگتے۔ ملکی نظام میں تبدیلی ہمیشہ حکمرانوں ، اداروں کے کردار سے آتی ہے۔

دنیا کے تمام ممالک کے نظام اپنی اپنی جگہ اچھے ہیں نظام کی کامیابی بے لوث لوگوں کی مرہون منت ہوتی ہے۔ پاکستان ایک اسلامی سٹیٹ ہے۔ جو ایٹمی صلاحیت سے معمور بھی ہے۔ اگر اس کے قیام کے فلسفہ کی گہرائی میں جائیں تو معلوم ہوگا کہ قدرت نے خاص مقصد کے لیے یہ بے مثال خطہ و دیعت کیا ہے۔ اسلامک بلاک کے تحفظ کی چھتری ہے۔ پاکستان ایسا ساحل ہے جو مسلمانوں کے لیے ہر حالت میں امن و سلامتی کا ساحل ہے۔ مستقبل قریب میں پاکستان کے کردار کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔ تاریخی تجزیہ نگار اس کے کردار کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ پاکستان کو دہشتگردی کی جنگ میں کچھ مفادات ، وجوہ کے محور پر دھکیلا گیا لیکن مملکت خداداد کی حفاظت خالقِ کائنات کررہے ہیں۔ جس نے عطا فرمایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں