دنیا بھر میں بھارت کی شکست کے چرچے ، کتنے دن مقابلہ کر سکتا ہے..؟؟؟؟

پاکستان کی فضائیہ کی جانب سے بھارتی مگ 21 طیارے گرانے کے واقعہ کے بعد دنیا بھر میں بھارت کی شکست کے چرچے ہو رہے ہیں اور مختلف کمپنیوں اور ماہرین کی جانب سے بھارت کی فوجی قابلیت پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے .

امریکی اخبار نے تازہ رپورٹ میں حالیہ کشیدگی کے دوران بھارت کی شکست کا واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ پاکستان سے فضائی لڑائی ہارنے کے بعد بھارت کی فوج پر سوالات کھڑے ہوگئے۔ یہ بھی لکھا گیا ہے کہ پاکستان نے گرفتار پائلٹ کو بحفاظت واپس بھیج دیا لیکن پرانا و قدیم طیارہ مگ21 خوش قسمت ثابت نہ ہو سکا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی فوج کو درپیش چیلنجز اب کسی سے مخفی نہیں لیکن خود سے آدھی فوج اور ایک چوتھائی بجٹ کے حامل فوج کے ہاتھوں اپنا طیارہ گنوانا انتہائی اہم بات ہے۔ اسی طرح نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا کہ بھارتی حکومت کے اندازے کے مطابق اگر جنگ چھڑتی ہے تو انڈیا اپنی فوج کو صرف دس دن کا اسلحہ فراہم کر سکتا ہے جبکہ بھارتی فوج کے پاس موجود 68 فیصد ہتھیار اور دیگر جنگی سامان انتہائی پرانا ہے جسے آفیشل سطح پر قدیم تصور کیا جاتا ہے۔

ان رپورٹس کے بعد اب بھارت کے سیاستدانوں کی جانب سے بھی ملکی فوجی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں . اسی طرح ایک اور رپورٹ کے مطابق بھرتی پارلیمنٹ کے رکن اور پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے رکن گورو گوگوئی نے کہا کہ ہماری افواج کے پاس جدید سامان کی کمی ہے لیکن اس کے باوجود انہیں 21ویں صدی کے فوجی آپریشن کرنا پڑتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی آفیشلز کو بھارت کے ساتھ اتحاد مضبوط بنانے کی ذمے داری سونپی گئی ہے وہ اپنے مشن کے بارے میں انتہائی مایوس کن باتیں کرتے ہیں کیونکہ بھاری بھرکم بیورو کریسی کی وجہ سے ہتھیاروں کی فروخت اور مشترکہ جنگی مشقوں میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

امریکی آفیشلز نے بھارتی فوج میں اتحاد پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج کو فنڈز کی قلت کا سامنا ہے اور بھارت کی تینوں مسلح افواج آرمی، نیوی اور ایئر فورس ساتھ کام کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے مقابلے بازی کرتی نظر آتی ہیں۔

واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے کل عوامی جلسہ میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ اگر بھارت کی فضائیہ کے پاس رافیل طیارے ہوتے تو پاکستان کےساتھ حالیہ کشیدگی میں بھارت کو شکست کا سامنا نہ کرنا پڑتا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں