راجپوت قوم تاریخ کے آئینے میں


تحریر، ندیم راجپوت ایگزیکیٹو ممبر ایف یو جے دستور

راجپوتوں کی شجاعت جوانمردی شمشیرزنی مہمان نوازی کسی تعارف کی محتاج نہیں میدان جنگ میں لڑنا مرنا مارنا راجپوتوں کا پیشہ رہا ہے راجپوتوں کا سلسلہ نسب “حضرت اسحٰق علیہ السلام” کے بیٹے “آر” سے ملتا ہے آر کی اولاد وسطیٰ ایشیا میں آباد ہوئی اور “آریہ نسل” کہلائی چار هزار آٹھ سو سال قبل اس آریائی نسل کا ایک گروہ شمالی دروں کے راستے سے اس برصغیر میں داخل ہوا اوربعد میں صدیوں بزورشمشیر یہاں حکومت کرتا رہا ان لوگوں کا مذہب ہندومت اور زبان “سنسکرت” تهی ان لوگوں کے مذہب کی مناسبت سے برصغیر کو “ہندوستان” کہا جانے لگا راجپوت سنسکرت زبان کا لفظ ہے جو “راج” اور “پوت” سے مل کر بنا هے سنسکرت زبان میں راج بادشاہ کیلئے اور پوت اولاد کیلئے استعمال ہوتا ہے لفظی معنی “بادشاہ کی اولاد” کے ہیں  ان لوگوں نے اپنے لئے لفظ راجپوت استعمال کیا
راجہ سنسکرت زبان کے لفظ راج سے ہے جس کے معنی  بادشاہ کے ہیں  ہندوستان کے تمام راجپوت بادشاہ اپنے لیے لفظ راجہ استعمال کرتے تھے لفظ راجہ کے معنی چمکتی ہوئی چیز کے بھی ہیں تمام راجپوت بادشاہ چمکدار لباس، تاج، تلوار، ڈهال، خوبصورت گھوڑا استعمال کرتے تھے اس مناسبت سے بھی انہیں راجہ کہا گیا

شمالی دروں سے لے کر بحر عرب، بحر ہند، اور مشرقی پہاڑوں تک ہندوستان کے طول و عرض میں 36 راجپوت خاندان حکومت کرتے تھے ان کی درجنوں چھوٹی بڑی ریاستیں تھیں عقیدے کے اعتبار سے راجپوت دو بڑے گروہوں میں تقسیم ہوئے 
چندربنسی سورج بنسی پانڈو کی اولاد چندربنسی کہلائی اور  کورے کی اولاد سورج بنسی کہلائی  ان کورے اور پانڈوں کے درمیان جنگ “مہابهارت” ہوئی جو کئی ماہ جاری رہی اور اس میں ہڈیوں کے ڈھیر لگ گئے  فتح چندربنسیوں کی ہوئی
مورخین تسلسل کے ساتھ راجپوت دور 640ء سے 1192ء “پرتھوی راج چوہان” کی وفات تک تقریباً 6 سو سال لکهتے ہیں  لیکن ہندوستان پر “راجپوت اقتدار” “چارہزار آٹھ سو سال” ہے راجپوت حکومتوں کا زوال محمودغزنوی کی آمد 1009ء کے بعد شروع ہوا ہندوستان کے شمال مغربی بارڈر پر راجپوتوں کی آخری سلطنت “ویہند” تهی اس کی حدود دریاے چناب اور ملتان سے لے کر افغانستان کے صوبہ کابل تک تهی.حکمران راجہ جے پال تها غزنی پر محمود غزنوی کے والد امیرسبکتگین کی حکومت تهی ویہند اور غزنی کے درمیان جنگیں رہتی تھیں راجہ جےپال نے دو دفعہ غزنی پر چڑھائی کی لیکن شمال کے سرد موسم کی وجہ سے ہندی فوجوں کو کامیابی نہیں ہوئی محمود غزنوی کے حکومت سنبھالنے کے بعد دوبارہ جنگوں کا سلسلہ شروع ہوا محمود غزنوی کے ساتھ لگاتار تیسری جنگ میں شکست کے بعد راجہ جےپال نے خود کو آگ میں جلا دیا.اس کے بعد راجہ جےپال کے بیٹے راجہ انندپال کی محمودغزنوی کے ساتھ بڑی لڑائی پشاور کے مقام پر ہوئی جس میں پورے ہندوستان سے راجپوتوں نے شرکت کی  فتح محمود غزنوی کو نصیب ہوئی 
اور شمالی ہندوستان میں “اسلام” کی شمع روشن ہوئی راجہ انندپال کے بعد راجہ ترلوچن پال اور اس کے بعد راجہ بهیم پال دوسرے محاذوں سے فوج اکٹهی کر کے محمود غزنوی کے ساتھ نبض آزما رہے لیکن ریاست “ویہند” دوبارہ حاصل نہ کر سکے راجپوت حکومتوں کا دارالحکومت راجھستان کا علاقہ تها جہاں درجنوں راجپوت ریاستیں تھیں قیام پاکستان کے بعد کئی مشہور راجپوت شخصیات نے ملک و قوم کی خدمت کی جن میں سر فہرست میجر عزیز بھٹی شہید ہیں میجر عزیز بھٹی کو 1950ء میں پنجاب رجمنٹ میں کمشن ملا  پاکستان ملٹری اکیڈمی سے اعزاز کے ساتھ پاس آوٹ ہوئے اور بہترین کارکردگی پر شمشیر اعزاز اور نارمن میڈل حاصل کیا ستمبر 1965ءکی جنگ شروع ہوئی تو لاہور سیکٹر کے برکی ایریا میں ایک کمپنی کی کمان کر رہے تھے  دشمن نے بے پناہ قوت کے ساتھ پے در پے حملے کئے  ایک قیامت خیز جنگ جس میں بھارتی سپاہ ہر قسم کا اسلحہ بارود استعمال کر رہی تھی ہیڈکوارٹرز کے اصرار کے باوجود بھٹی شہید نے پوزیشن چھوڑنے اور آرام کرنے سے معذرت کر لی اور پانچ شب و روز آنکھوں میں کاٹ دئیے 11ستمبر کو یکایک دشمن کے ٹینک کا ایک گولہ لگا اور جام شہادت نوش کیا بے مثال ، بے پناہ جرأت اور بے لوث قربانی پر میجر عزیز بھٹی شہید کو نشان حیدر عطا کیا گیا عزیز بھٹی شہید کے بعد اسی خاندان سے تعلق رکھنے والے ان کے بھانجے میجر شبیر شریف ہیں پاکستان کا یہ واحد خاندان ہے جو دو نشان حیدر رکھتا ہے میجر شبیر شریف 28 اپریل 1943ء کو گجرات میں پیدا ہوئے انہوں نے 21 سال کی عمر میں 1964ء میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی آپ شروع ہی سے وطن عزیز پر جان قربان کرنے کا جذبہ رکھتے تھے پاک بھارت1965 ءکی جنگ میں وہ بحیثیت سیکنڈلیفٹیننٹ شریک ہوئے اور جنگ میں بہادری سے دشمن کا مقابلہ کرنے پر انہیں ستارہ جرات سے نوازا گیا میجر شبیر شریف شہید 3 دسمبر 1971 ء کو سلیمانکی سکیٹر میں فرنٹئیر رجمنٹ کی ایک کمپنی کی کمانڈ کر رہے تھے اور انہیں ایک اونچے بند پر قبضہ کرنے کا ٹارگٹ دیا گیا تھا میجر شبیر شریف کو اس پو زیشن تک پہنچنے کے لئے پہلے دشمن کی بارودی سرنگوں کے علاقے سے گزرنا اور پھر 100 فٹ چوڑی اور 18فٹ گہری ایک دفاعی نہر کو تیر کر عبور کرنا تھا دشمن کے توپ خانے کی شدید گولہ باری کے باوجود میجر شبیر شریف نے یہ مشکل مرحلہ طے کیا اور دشمن پر سامنے سے ٹوٹ پڑے3 دسمبر کی شام تک دشمن کو اس کی قلعہ بندیوں سے باہر نکال دیا 6 دسمبر کی دوپہر کو دشمن کے ایک اور حملے کا بہادری سے دفاع کرتے ہوئے میجر شبیر شریف اپنے توپچی کی اینٹی ائیر کرافٹ گن سے دشمن ٹینکوں پر گولہ باری کر رہے تھے کہ ٹینک کا ایک گولہ انہیں لگا اور وہ شہید ہوگئے میجر شبیر شریف کے بھائی جنرل راحیل شریف پاکستان آرمی کے سربراہ رہے اور آج کل اسلامی اتحادی فوج کے سربراہ ہیں جوکہ پاکستان کے ساتھ ساتھ راجپوت خاندان کے لیے بھی باعث فخر ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں