انسداد ڈینگی مشترکہ ذمہ داری


تحریر، محمد اویس عابد

ڈینگی ایک سماجی مسئلہ ہے جس کے روک تھام کے لئے کمیونٹی کا تعاون ناگزیر اور معاشرتی آگاہی بڑی اہمیت کی حامل ہے اس مقصد کے لیئے معاشرے کے ہر فرد کو انسداد ڈینگی مہم میں شامل رکھنے کے لئے متعدد پروگرامز پر عملدرآمد جاری ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے رواں موسم میں درجہ حرارت کی تبدیلی کے باعث ڈینگی لاروا کی افزائش گاہوں کا صفایا کرنے کے لیے واضع اور سخت ترین ہدایت جاری کر رکھی ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال پانچ کروڑ سے زائد افراد ڈینگی بخار کاشکار ہورہے ہیں اور سالانہ 20ہزارافراد ڈینگی مچھر کے کاٹنے سے ہلاک ہو جاتے ہیں دنیا کے تقریبا ایک سو ممالک میں ڈینگی وائرس پھیلانے والے 38اقسام کے قریب مچھر ہیں جس میں پاکستان میں ان میں سے ایک قسم کا مچھر پایا جاتا ہے پہلی دفعہ اسی 80ء کی دہائی میں ڈینگی وائرس سے براعظم (ایشیاء،افریقہ اورامریکہ) کے افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے جب جب اس وقت ڈینگی بخار سے بچاؤ کے لئے نہ تو کوئی دوائی اور نہ ہی ٹیکہ تھا ۔پاکستان میں پہلی بار 1994ء میں اس وارئس سے لوگ متاثر ہوئے۔حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق محکمہ صحت کا سینٹری پٹرول انٹاما لو جٹس اور دیگر متعلقہ سٹاف ان ڈور اور آوٹ ڈور سر ویلنس میں مصروف عمل ہیں اور گھرگھر جا کرذرائع کو چیک کرنے کے علاوہ کباڑ خانوں ٹائر شاپس پودوں کی نرسریوں قبرستانوں پارکوں کھڑے پانی کی جگہوں اور دیگر مقامات جہاں ڈینگی لاروا پیدا ہو سکتا ہے وہاں چیکنگ کا عمل جاری ہے۔حکومت پنجاب کی طرف سے تمام امور کی براہ راست نگرانی کی جا رہی ہے ضلعی اورتحصیل سطح پر ایمرجنسی رسپانس کمیٹیاں فعال ہیں جو باقاعدگی سے میٹنگز کر کے ڈینگی لاروا کے انسداد کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لینے کے علاوہ تمام تر امور مر گہری نظررکھے ہوئے ہیں۔

ڈینگی سے بچاو کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل پیراہونے سے متعلق احساس کا بیدار ہونا بے حد ضروری ہے اس سلسلے میں پر شعور و آگاہی پیدا کی جا رہی ہے تاکہ شہری اپنے گھروں ،کاروباری مراکز اور اپنے اردگرد دیگر مقامات پر صفائی ستھرائی کو یقینی بنائیں کسی جگہ پانی کھڑا نہ رہنے دیں تاکہ ان میں ڈینگی لاروا پیدا نہ ہوسکے۔آگاہی مہم میں محکمہ سماجی بہبود ،تعلیم ، صحت ، ماحولیات ، کو آپریٹیو فشریز، ترقیاتی ادارے ، لوکل گورنمنٹ ، میونسپل کارپوریشن ،میونسپل کمیٹیزاور دیگر محکمے وسیع پیما نے پر حصہ لے رہے ہیں تعلیمی اداروں میں وقفے وقفے سے انسداد ڈینگی پر خصوصی لیکچرز ، سیمینارز اور ہمہ نوعیت کے دیگر پروگرامز منعقد کیے جاتے ہیں جن میں ڈینگی لاروا کی افزائش کے ذرائع ، نقصانات اور اس سے بچنے کے لیے احتیاطی طریقوں کے بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہے علاوہ ازیں پرائیویٹ تعلیمی ادارے، صنعتی و تجارتی یونٹس، سماجی تنظیمیں بھی بھرپور انداز میں مہم میں شریک ہیں جبکہ ہر ادارے کے اندر اور باہر انسداد ڈینگی کے حفاظتی اقدامات کے بارے میں بینرز / پوسٹرز آویزاں کرنے کے علاوہ لوگوں کے احساس کو بیدار رکھنے کے لیے دیگر اقدامات بھی جاری ہیں ڈینگی کی آگاہی کے لیے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سمیت ہر ممکن تشہیری ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں جن کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ آج ہر شہری ڈینگی کے خطرات سے آگاہ ہے اور وہ انسداد ڈینگی اقدامات میں اپنا کردار ادا رہا ہے۔

موجودہ تبدیل ہوتے موسم میں ڈینگی کے ممکنہ خطرات موجود ہیں جس کی روک تھام کے لیے سرکاری سطح پر ہمہ نوعیت کے اقدامات کیے جا رہے ہیں لیکن اس مسئلے پر کمیونٹی کے تعاون کے بغیر قابو نہیں پایا جا سکتا لہذاوہ ہر شہری کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ڈینگی لاروا کی افزائش روکنے میں اپنا کردار ادا کرکے قامی فرض نبھانا ہے۔ اس سلسلے میں ضروری ہے کہ ماحول کو صاف اور خشک رکھا جائے اپنے گھروں کے اندرونی حصوں ، چھتوں ، پودوں کی کیاریوں ، گملوں ، پانی کی ٹینکیوں ، فریج کی ٹرے ، ایئر کولر ز اور دیگر جگہوں پر پانی کھڑا نہ رہنے دیا جائے۔ پرانے ٹائروں ، کاٹھ کباڑ کو تلف کر دیں انسداد ڈینگی کے سلسلے میں حکومتی اقدامات کابھرپور ساتھ دیں اور احتیاطی تدابیر کو اپنے معمولات کا حصہ بنا لیں آئیے ہم سب مل کر ڈینگی کے خلاف جاری کوششوں کو کامیاب بنائیں کیونکہ یہ ہمارا مذہبی ، اخلاقی ، سماجی اور قومی فریضہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں