دیہی علاقوں کی مٹتی ہوئی روایات


ازقلم ، افضال احمد تتلا

“دیہات خدا نے بنائے اور شہر انسان نے” یہ فقرہ کب پڑھا مجھے یاد نہیں مگر یہ الفاظ میرے شعور میں ہمیشہ کیلئے محفوظ ہوگے اور شاید کہنے والے نے یہ اس لئے کہا ہے کہ قدرتی ماحول کی وجہ سے قدرت کو قریب سے دیکھنے کے مواقع جتنے دیہی علاقوں میں میسر ہوتے ہیں اتنے شہروں میں نہیں مل سکتے۔ مگر عصر حاضر میں تیزی سے بدلتی ہوئی دیہی زندگی کا موازنہ کریں تو “دیہات خدا نے بنائے اور شہر انسان نے” ان الفاظ کی صداقت پھیکی پڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے کیونکہ وقت کی دھول میں مٹی ہوتے ہوئے کچھ رنگ ، خوشبوئیں اور آوازیں جو ہمارے دیہاتی ماحول کا حسن تھیں ماند پڑ گئی ہیں وہ سرِشام کھیتوں سے واپس آتے گڈے [بیل گاڑی] کے پہیے کی چرخ چوں کے ساتھ بیلوں کے گلے کی گھنٹیوں کا جلترنگ بَیلوں کے گلے میں جب گھنگروجیون کا راگ سناتے تھے۔ان گڈوں (بیل گاڑی) پے بٹھا ہوا کسان بیلوں کو ہاکتے ہوئے جب سکر (بیلوں کو کنٹرول کرنے کیلئے بولی جانے والی مخصوص بولی) مارتا تو بیلوں کے گلے کے گھنگروؤں کے ساتھ مل کر یہ سکر جو جلترنگ بجاتی اس کو سن کےجو راحت محسوس ہوتی اس راحت کی چاشنی سے غم کوسوں دور ہو جاتا تھا اور خوشیوں کے کنول مسکاتے تھے۔صبح منہ اندھیرے کھیتوں پر چھائی کہرے کی دھندلی چادر میں سبزے کی جھلک اور اس سبزے میں کھیتوں میں کام کرتے ہوئے کڑیل جوان اور عمر رسیدہ بوڑھے اپنی خمیدہ کمروں کے ساتھ ہل جوتنے کیلئے بیلوں کی “جوگ”(دو بیل اکھٹے کرکے ایک جولے میں جوتے جاتے ان بیلوں کو جوگ کہتے ہیں) کو تیار کرنے میں محو ایسا نظارہ پیش کر رہے ہوتے تھے جیسے یہ اسی قدرتی ماحول کا حصہ ہیں اور پھر کھیتوں میں کام کرتے ہوئے ان کسانوں کیلئے کھانا لانے والی گھریلو عورتیں جس لگن اور فکرمندی سے اپنی یہ ذمداری نبھاتی اس کی مثال جدت کے پجاری اس موجودہ دور میں ملنا مشکل ہے اسی طرح دوپہر ڈھلتے ہی دانے بھوننے کی بھٹی پر بچوں کا رش اور شور”ماسی میں پہلے آئی ساں”(ماسی میں پہلے آئی تھی) کی آواز کے ساتھ گندم, چنے, مکئی ودیگر غذائی اجناس کے دانے گڑ سمیت “ماسی” کو دینا تاکہ ان دانوں کو بھون کر گڑ میں مکس کردیا جائے مگر اب وہ خالص غذائیں ہیں, بھٹیاں ہیں اور نہ ہی ان بھٹیوں کے سامنے بٹھ کر دانے بھوننے والی ماسیاں۔ یہ بھٹیاں بھی دیہی روایات کا اہم حصہ تھی مگر جیسے ہی جدت کا “دیو” دیہی علاقوں میں گھسا اس نے ان بھٹیوں کو ماسیوں سمیت نگل لیا-

اسی طرح گندم کو پیس کر آٹا بنانے کیلئے کھڑاس ہوتے تھے جن کو چلانے کیلئے بیل استمال کیے جاتے۔ کھڑاس سے پس کر گندم کا جو آٹا بنتا وہ زیادہ صحت بخش ہوتا تھا کیونکہ کھڑاس کے پتھر کے پاٹ گندم کے دانے کو صرف پستے تھے جلاتے نہیں تھے(اب آپ چکی سے گندم پسائی کروائے تو اس سے نکلنے والا آٹا ناقابل برداشت حد تک گرم ہوتا) انہی کھڑاسوں پر اکثر اوقات بیلوں کی دوڑیں لگوائی جاتی جو دیہی علاقوں کا اہم شغل ہوتا تھا کبھی کبھی کھڑاس پر پسائی کی غرض سے گندم لے کر آنے والے نوجوان کے مابین دنگل بھی کروایا جاتا۔لیکن اس طرح کے سارے کام صرف کھیل کی حد تک ہی محدود رکھے جاتے تھے ناکہ ان کو آنا کا مسئلہ بنا کر آپس میں کدورت کو ہوا دینا ہوتا تھا پرانے بزرگوں کے مطابق تب لوگ ایک بیل اور ایک بیٹے کو خصوصی توجہ کے ساتھ پالتے تھے تاکہ کھیل کے میدانوں میں ان کا نام بلند رہے مگر اب تو وہ صحت فضاء ماحول ہے اور نہ ہی ماضی کے وہ دیہی شغل زندہ رہے۔دودھ کے اوپر ابلائی کی تہہ مزید گاڑھی کرنے کے لئے دودھ کو کمہار کے بنے ہوئے مٹی کے برتن میں ڈال کر آپلوں کی ہلکی آنچ پے کئی گھنٹوں تک اس طریقے سے پکنے دینا کہ اس میں جوش بھی پیدا نہ ہو اور یہ ٹھنڈا بھی نہ رہے یوں اس پکتے ہوئے دودھ کی مخصوص خوشبو کے ساتھ دوپہر کو تنوروں میں لگتی ”مسی” روٹیوں کی اشتہا انگیز خوشبو بہت محصور کن ہوتی تھی۔شام کو چولہوں میں کپاس اور ٹاہلی کی سوکھی چھڑیوں کے جلنے سے سوندھی سوندھی مہک اور گاوٗں کے اوپر پھیلتا سرمئی دھواں طلسماتی سا ماحول پیدا کردیتا تھا پتہ نہیں تب یہ دھواں اپنے اندر ماحول کو آلودہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا تھا کہ یا پھر دیہی علاقوں کی فضاء ہی اتنی صاف ستھری ہوتی تھی کہ وہ اس دھواں کو اپنے اندر یوں جذب کرلیتی کہ ماحول فضائی آلودگی سے پاک رہتا۔شہری علاقوں کی فضائی آلودگی کو دیکھتے ہوئے انور مسعود دیہی ماحول کو کچھ یوں یاد کرتے ہیں

آکسیجن یہاں نہیں ملتی

پھیپھڑوں کو دھوئیں سے بڑھتا ہوں

یاد کرتا ہوں گاؤں کو اپنے

جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں

اسی طرح کچے گھروں کو مٹی سے لیپ کرنا , چولہے کے پاس مٹی کے فرش پر پورے کنبے سمیت بیٹھ کر کھانا کھا لینا,لوہار کی دوکان پر بیٹھ کر گاؤں کے حالات حاضرہ پے گفتگو کرنا,نائی کی دوکان میں ہیپاٹائٹس سے بے خوف ہوکر حجامت بنوانا,شام کو حقے کی گڑگڑاہٹ کے ساتھ خوشگوار ماحول میں حالات حاضرہ کے ساتھ ساتھ فصلوں کی بوائی اور کٹائی کے حوالے سے گفت و شنید کے علاوہ اپنی پوری ہوتی ہوئی ضرورتؤں کے تذکرے ہوتے تھے مگر پھر ایسا ہوا کہ ہمیں ضرورتؤں سے زیادہ خواہشیں عزیز ہوگی اور پھر ایک خواہش پوری ہوتی تو دوسری جاگ جاتی انہی خواہشوں کی دوڑ میں ہی ہم اپنی روایات کو پیچھے چھوڑتے چلے گئے یہاں تک کہ خواہشات پوری کرتے کرتے یہ بھول بٹھے کہ ضرورت تو پوری ہوجاتی ہے مگر خواہش کبھی بھی پوری نہیں ہوتی۔جب دیہی لوگوں نے بھی گڈے (بیل گاڑی) کی جگہ گڈی (گاڑی) کی خواہش کو اپنی ضرورت بنایا تو ایسی “ضروریات” پورا کرنے کیلئے گاؤں کی کمائی کم لگنے لگی یوں کمائی کی غرض سے شہروں کا رخ کرنے والوں سے اپنے گاؤں کے ناطے ٹوٹتے چلے گئے بلاشبہ ایسے لوگوں نے گڈے کی جگہ گڈی تو حاصل کرلی مگر وہ یہ بھول بٹھے کہ زندگی کو ان مادی اشیاء کے ساتھ ساتھ امن, سکون, اطمینان, خوشی, فرحت اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے اور اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ سب قدرتی ماحول سے قریب رھ کر ہی ممکن ہے اور قدرتی ماحول دیہی روایات میں تلاش کرنا مشکل نہیں اس لئے ضروری ہے کہ مٹتی ہوئی دیہی روایات کا زندہ رکھا جائے ورنہ بقول شاعر آپ یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں گئیں کہ

ضرورتؤں کی بیڑیاں پڑی ہوئی ہے پاؤں میں

تم ہی بتاؤ لوٹ آؤں کس طرح گاؤں میں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں