حکمرانوں کے فیصلے اور بیرونی دبائو…؟؟


ازقلم، محمد احمد مرتضی

پچھلے چند دنوں سے جنرل شاہد عزیز کی کتاب پڑھنے کا موقع ملا جسکا استاد محترم شیخ عامر حمید صاحب نے ہسٹری کے لیکچر کے دوران تجویز کی بطور ہسٹری کے طالبعلم مجھے یہ کتاب پڑھنے کا اشتیاق ہوا  یہ کتاب پاکستان کی تاریخ اور سیاست کو سمجھنے میں کافی معاون و مددگار ہے اس کتاب میں جنرل صاحب نے کارگل جنگ سے لیکر 12 اکتوبر 1999ء کو حکومت کا تختہ الٹنے تک کی روداد بیان کی اور 9/11 کے بعد فرد واحد جنرل پرویز مشرف کے فیصلے کی کارستانی بھی بیان کی کیسے مشرف صاحب نے ملک کو امریکہ کی جنگ میں شامل کرکے آگ میں دھکیل دیا اور ملک و قوم کو اپنی حوس اقتدار کی بھینٹ چڑھا دیا سب سے پہلے بات کارگل جنگ کی کر لیتے ہیں جنرل صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ کارگل آپریشن کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی یہاں تک کہ جی ایچ کیو میں بھی جائزہ نہیں لیا گیا  منصوبے کا علم صرف چار جنرلز کو تھا میرا کہنا تھا کشمیر میں ایک اور محاذ کھول دیں تاکہ کارگل میں پھنسی اپنی سپاہ کو نکالا جا سکے مشرف پریشانی کے عالم میں بولے تم چاہتے ہو معاملہ مزید بگڑ جائے کارگل میں افواج پاکستان کے سپاہی کئی روز تک بھوکے پیاسے لڑتے رہے پاک فضائیہ کو آخر تک محاذ سے دور رکھا گیا اور پھر اس جنگ کی ناکامی کا ملبہ حکومت پر ڈال کر حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا-

جنرل صاحب نے اس کتاب میں انکشاف کیا کہ 9/11 کے بعد کور کمانڈر کانفرنس میں بہت سے کور کمانڈرز نے اس جنگ میں شرکت سے انکار کیا تو مشرف صاحب نے یہ کہہ کر انہیں اس جنگ پہ آمادہ کیا کہ اگر ہم نے اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہ دیا تو ہمارے ایٹمی ہتھیار بھی تباہ کر دئیے جائیں گے ہمیں پتھر کے زمانے میں بھیج دیا جائے گا اور ہماری معشیت تباہ ہو جائے گی سوال یہ ہے کہ ایک شخص نے اپنی حوس اقتدار کی خاطر ملک و قوم کو تباہ کردیا اور ملکی ادارے خاموش تماشائی بنے رہے جنرل پرویز مشرف نے حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد قوم سے پہلے خطاب میں کہا کہ ہمارا مقصد حکومت کرنا نہیں ہے بلکہ ہم 90 روز میں انتخابات کرواکے اقتدار منتخب حکومت کے حوالے کر دیں گے لیکن ایسا نہ ہو سکا اور قوم کا 90 روز کا انتظار 9 سال پر محیط ہوگیا –

جنرل شاہد عزیز لکھتے ہیں ایم او کی میٹنگ میں کوئی بھی کور کمانڈر امریکہ کو فضائی اڈے دینے کے حق میں نہ تھا لیکن مشرف بولے میں امریکہ کو ہاں کر چکا ہوں اس سے قبل افغانستان پر حملے کے لیے امریکی طیاروں کو بلوچستان کی فضائی حدود  استعمال کرنے کی اجازت دی جا چکی تھی اور امریکی احکامات کی راہ میں رکاوٹ بننے والے کو مشرف سائیڈ لائن کر دیتے تھے جنرل یوسف امریکی جنگ میں شمولیت کے خلاف تھے وائس چیف آف آرمی سٹاف مشرف کی امریکہ نواز پالیسیوں سے پریشان تھے افغان طالبان کو پاکستان میں داخل کرنے کے ذمہ دار امریکی تھے انہیں تورا بورا سے دھکیل کر ہماری سرزمین تک لایا گیا ہمیں علم ہونے تک بہت دیر ہوچکی تھی افغانستان کے بعد کشمیر پر بھی مشرف حکومت نے یوٹرن لے لیا مشرف کشمیر سے زیادہ بھارت سے مراسم بڑھانے پر زور دیتے تھے دہشت گردی کی جنگ کو پاکستان تک پھیلانا امریکہ کا منصوبہ تھا مشرف نے امریکی دباو پر کشمیری مجاہدین کی امداد بند کی بھارت سے جنگ کا خطرہ پیدا کرکے قوم کو امریکی پالیسی پر رضامند کیا گیا بھارت کو خطے  کی بڑی طاقت کے طور پر منوانا بھی منصوبے کا حصہ تھا اسی لیے کشمیر کی جنگ آزادی کو دہشت گردی قرار دیا گیا دسمبر 2001ء میں کشمیر پر حملے کا خدشہ تھا بھارت کو بھرپور جواب دینے کی میری تجویز کو نہ صرف مسترد کر دیا گیا بلکہ مولانا مسعود اظہر اور جیش محمد پر پابندی لگا دی گئی –

مشرف نے کشمیر پر بھارت کو دباو میں لینے کا موقع ضائع کردیا بھارت نے اپنے مطالبات منوا کر کشمیر سے فوج واپس بلائی جسے مشرف نے اپنی کامیابی قرار دیا جنرل مشرف نے اپنی ذاتی پسند نا پسند کو ملکی مفادات پر مقدم سمجھا جس کا نقصان ملک و قوم کو ہوا اور اس کا خمیازہ قوم آج تک بھر رہی ہے مشرف کی ان تمام کارروائیوں سے فوج کا امیج بھی متاثر ہوا جسے بعد میں آنے والے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور جنرل راحیل شریف نے اپنی کوششوں اور کاوشوں سے دوبارہ بہتر بنانے کی کوشش کی آج بھی وطن عزیز میں اسی پالیسی پر عمل کیا جارہا ہے حکومت منصوبہ بندی کے بغیر چلائی جارہی ہے جس سے ملک و قوم کا نقصان ہورہا ہے حکمران ماضی سے سیکھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے اور ملک کو اسی ڈگر پر لے کر جارہے ہیں جیسے مشرف امریکی دباو برداشت نہیں کر سکے اور ملکی مفاد کو پس پشت ڈال کر اپنی مرضی اور منشا کے فیصلے قوم پر مسلط کرتے رہے ویسے ہی موجودہ حکمران بھی بیرونی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دے رہے ہیں جس کا خمیازہ پاکستان اور پاکستانی عوام کو ادا کرنا ہوگا 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں