سپننگ ملز کا کاٹن یارن میں “وسکوس” کی ملاوٹ کا دھندہ ، پروسیسنگ ملز کو کروڑوں کا نقصان

سپنگ ملز مالکان کی جانب سے کاٹن یارن میں ” وسکوس ” کی ملاوٹ کا دھندہ عروج پر پہنچ گیا ہے جس کی وجہ سے کئی ملزبندہو چکی ہے جبکہ دوسری طرف ہزاروں مزدور اپنا روزگار کھو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ۔ کپڑے کی پروسیسنگ کے دوران کاسٹک سے کاٹن مضبوط جبکہ وسکوس سے گلنا شروع ہو جاتی ہے جس سے بڑا نقصان برداشت کرنے پرمجبور ہیں۔


ذرائع کے مطابق کورے کپڑے کی ڈائینگ او ر پرنٹنگ پروسیسنگ سے پہلے اسے کا سٹک لگایا جاتا ہے جو کاٹن کے دھاگوں کی مضبوطی میں اضافہ کرتا ہے جبکہ وسکوس اس مر حلے پر گلنا شروع ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے کورا کپڑا پھٹ کر ناقابل استعمال ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے کپڑے کی مارکیٹ میں کروڑوں روپے کے کلیم کے جھگڑے پیدا ہو چکے ہیں۔ اس مسئلہ کی وجہ سے جہاں رواں سال موسم گرما کے لئے لان کی پرنٹنگ متاثر ہوئی ہے وہیں ایکسپورٹر ز کو بیرون ملک سے بھی شکایات مو صول ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی طرح کاٹن یارن میں وسکوس کی ملاوٹ کے سبب پروسیسنگ انڈسٹری کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے اور کئی ملیں جزوی طور پر بند ہو چکی ہیں ۔

سپننگ ملزمالکان کی ملاوٹ سے جہاں پر ایک طرف پروسیسنگ ملز بند ہورہی ہے تو دوسری جانب ہزاروں مزدور بھی اپنے روزگار سے محروم ہو کر سڑکوں پر ٓنے پر مجبور ہیں ۔اس صورتحال میں آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن ( اپٹپما) نے احتجاج پر غور شروع کردیا ہے۔ اس مسئلے سے متعلق سپننگ ملز ایسوسی ایشن اور یارن مارکیٹ کے عہدیداروں کے علاوہ وفاقی سیکرٹری انڈسٹری و ٹیکسٹائل کو بھی آگاہ کر چکے ہیں۔

ریجنل چئیرمین اپٹپما چوہدری حبیب گجر ننے واضح کیا ہے کہ اگر آئیندہ چند روز میں اس مسئلے کے حل کے لئے عملی پیشرفت نہ ہوئی تو وہ احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے۔جب تک سپننگ ملیں یارن کی ہر طرح کی پیکنگ پر اس کی ” بلینڈ ریشو ( Ratio ) ” اور “مکمل Specification ” لکھنے کی پابندی نہیں کرتیں یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

انہوں نے ہماری ٹیکسٹائل منسٹری اور تمام متعلقہ حکومتی ارکان اور گورنمنٹ سے پُر زور اپیل ہے کہ پاکستان میں ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل پروسیسنگ کی صنعت کو بچانے کے لئے بزنس قانون کے تحت سپننگ ملز کو پابند کیا جائے کہ وہ یارن کی ہر طرح کی پیکنگ پر یارن کی بلینڈ ریشو ) Ratio ) اور مکمل Specification ـ ـ” درج کریں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت تباہ ہو جائے گی اور پاکستان صرف ٹریڈ کنٹری بن کر رہ جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں