’’میں نے ایک قبر کو ہندوستان میں حکومت کرتے دیکھا ہے‘‘ 


ازقلم ، محمد احمد مرتضی

خواجگانِ چشت کے بادشاہ خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ12 فروری 1142ء بمطابق  14رجب المرجب بروز سوموار537ہجری کو حضرت خواجہ غیاث الدین حسنؒ کے ہاں پیدا ہوئے آپؒ نجیب الطرفین سید ہیں مطلب آپ حسنی حسینی سید ہیں آپؒ پندرہ برس کے تھے کہ شفقتِ پدری سے محروم ہوگئے ورثہ میں آپؒ کو ایک انگوروں کا باغ اور پن چکی ملی۔اور انہی کی دیکھ بھال میں مشغول رہتے ایک روز ایک مجذوب جن کا نامِ نامی حضرت ابراہیم قندوزیؒ تھا باغ میں تشریف لائے اور ایک طرف ہو کر بیٹھ گئے خواجہ معین الدین چشتیؒ کی ان بزرگ پر نظر پڑی تو آپؒ َ ادب و سلام بجا لائے اورانگور کا ایک خوشہ توڑ کر بزرگ کی خدمت میں پیش کیا حضرت قندوزیؒ نے انتہائی خوش دلی سے انگور تناول فرمائے اور اپنے پاس سے روٹی کا ایک خشک ٹکڑاچبا کر خواجہ معین الدینؒ کو کھانے کیلئے دیا اور فرمایا کہ یہ تم کھاؤ یہ تمہارا حصہ ہے آپؒ نے وہ روٹی کا ٹکڑا چبایا تو دل کی دنیا ہی بدل گئی تمام حجابات اُٹھ گئے اور یوں لگاکہ جیسے ابھی معرفتِ الہیٰ کے سمندر میں غوطہ زن ہو ئے ہیں پھر آپؒ نے باغ اور پن چکی فروخت کر دی اور تمام رقم غرباء ومساکین میں تقسیم فرمادی –

اس کے بعد آپؒ نے حصولِ تعلیم کی غرض سے سمر قند ،بخارا ،بغداد شریف،ملتان ریف،نیشاپور،تبریز،خزان،استرآباد،اوش،بلخ،سبزوار،مہنہ اور دیگر علاقوں کا سفر اختیار فرماتے ہوئے حضرت سید عبدالقادر جیلانیؒ ،شیخ نجم الدینؒ شیخ شہاب الدین سہروردیؒ ،خواجہ اجمل شیرازیؒ ،شیخ سیف الدین باخرزیؒ ،شیخ جلالؒ ،محمد واحد چشتیؒ اوردیگر اولیاء کرام سے اکتسابِ فیض کیا دورانِ سفر ہی نیشاپور کی ایک بستی ہارون،جسے لوگ ہرون بھی کہتے ہیں میں حضرت خواجہ عثمان ہارونیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیس سال ان کی خدمت گزاری میں رہے اورانہی سے بیعت وخلافت سے مشرف ہوئے آپؒ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے خالہ زاد بھائی تھے،(بعض روایات میں بھانجابھی لکھا گیا ہے)آپؒ نے تقریباًََ پانچ ماہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی خدمت میں بھی گزارنے کا شرف حاصل کیا اور اسی دوران سرکار غوثِ اعظمؓ کے ساتھ ایک ہی حجرہء خاص میں 57روز قیام فرمایااورروحانی فیض اور اسرار ورموز کی دولت سے مال مالا ہوئے۔شہنشاہِ بغدادشیخ عبدالقادر جیلانیؓ نے جب اپنے عہدِ مبارک(470ھ تا561ھ)میں یہ اعلان فرمایا کہ ’’میرا قدم تمام ولیوں کی گردن پر ہے۔‘‘تو اُس وقت حضرت خواجہ غریب نواز،ؒ خراسان کے پہاڑوں میں عبادت وریاضت اور مجاہدہ میں مصروف عمل اور یادِ الہیٰ کے سمندر میں غوطہ زن تھے سرکار غوثِ اعظمؒ کایہ فرمان ہوا کی معطر لہروں کی دوش پر سفر کرتا ہوا خواجہ غریب نوازؒ کی سماعتوں سے ٹکرایا تو آپؒ نے اپنی گردن خم کرتے ہوئے عرض کیا کہ ’’حضور! آپؓ کاقدم میری گردن پر ہی نہیں بلکہ سر آنکھوں پر ہے‘‘گویا پیرانِ پیر کی طرف سے خواجہ معین الدین اجمیریؒ کی ولائت پر مُہر تصدیق ثبت ہو گئی 583ھ میں روضہء رسولؐ اور خانہ کعبہ کی زیارت کی تڑپ لیے خواجہ معین الدین اجمیریؒ نے اپنے پیرو مرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونیؒ کی معیت میں مکہ اور مدینہ شریف کا سفر اختیار فرمایا حجِ بیت اللہ سے فارغ ہوکر مدینہ شریف میں درِ رسولﷺ پہ حاضری دی اور بصدادب واحترام حضورِ اقدسﷺ کی بارگاہِ مقدس میں سلام پیش کیا

’’الصلوٰۃ والسلام علیکم یا سید المرسلین وخاتم النبین۔‘‘
روضہء رسولﷺ سے آواز آئی’’وعلیکم السلام یا سلطان الہند۔‘‘

اسی رات رسولِ عربیﷺ نے آپؒ کوخواب میں اپنی زیارت سے سرفراز فرمایا اور برصغیر پاک وہند کی ولائت تفویض فرمائی اور حکم صادر فرمایا کہ ’’جاؤ برصغیر پاک وہند میں دین اسلام کی تبلیغ کا کام سر انجام دو۔‘‘سو آپؒ نے اپنے پیرومرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونیؒ سے اجازت طلب کی اور ہندوستان کی جانب سفر اختیار فرمایا۔حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ نے سر زمین ہندوستان پر پہلا قدم رکھتے ہی سب سے پہلے داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کے مزارِ پر انوار پر حاضری دینے کی سعادت حاصل کی۔اورچالیس دنوں کے چلہ سے فارغ ہو کر رخصت ہونے لگے تو بے ساختہ خواجہ غریب نوازؒ کی زبان مبارک پر داتا علی ہجویریؒ کی شان میں بطورِ خاص یہ شعر جاری ہواکہ
گنج بخش فیضِ عالم مظہرِ نور خدا
نا قصاں را پیرِکامل کاملاں رارہنما

اس مردِ خدا کی زبان مبارک سے نکلا ہوا یہ شعر اِس قدر زبان زدخاص وعام ہوا کہ کہ جس کی گونج چہار سو پھیل گئی۔اور لوگ آپؒ کے آستانہ سے فیض پانے لگے۔پھر اِس کے بعد آپؒ نے مقامی زبان سیکھنے کیلئے شہرِ اولیاء ملتان شریف کا رخ کیاکچھ عرصہ یہاں قیام فرماکر زبان پر عبورحاصل کیااور اولیائے ملتان کے فیوض وبرکات اور روحانی دولت سے مالا مال ہوئے۔اس کے علاوہ دہلی اور اجمیر کے حالات وواقعات بارے میں معلومات حاصل کیں تاکہ دین اسلام کی ترویج واشاعت اور تبلیغ کیلئے مستقبل میں کوئی لائحہ عمل ترتیب دیا جا سکے یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب مشہور راجپوت حکمران پرتھوی راج اپنی دولاکھ فوج اور تین ہزار ہاتھیوں کے لشکرکے بل بوتے پر حکومت کررہا تھا اور اقتدار  کے اِس نشے میں غرور وتکبر کی چادر اوڑھ کر پورے ہندوستان میں دندناتا پھر رہا تھا۔لیکن عقل کے اُس اندھے کوخبر نہیں تھی کہ یہاں ایک مردِ کامل کی آمد ہونے والی ہے ،جس کے باعث اُس کا راج ختم ہونے کو ہے آپؒ نے اجمیر کو دین اسلام کی تبلیغ کا مرکز بنایا۔اور اتفاق سے جس جگہ آپؒ نے قیام فرمایا،وہ جگہ پرتھوی راج کے اونٹوں کی جائے قیام نکلی پرتھوی راج کے چیلوں نے جب دیکھا کہ ایک’’ مسلمان‘‘ ہمارے راجہ کی زمین پربڑی آن اور شان سے اپنے چالیس درویشوں کے ہمراہ براجمان ہے۔تو انہوں نے خواجہ غریب نوازؒ کو وہاں سے اُٹھنے کیلئے کہا۔خواجہ غریب نوازؒ نے بے نیازی کے عالم میں فرمایا کہ ’’میاں !اتنا بڑا میدان ہے تمہارے راجہ کے اونٹ کسی بھی جگہ بیٹھ سکتے ہیں۔ہمیں کیوں تنگ کرتے ہو۔‘‘ساربان آپؒ کو اُٹھانے پہ بضد رہے ۔آخر کار خواجہ معین الدین اجمیریؒ یہ فرما کر اُٹھ کھڑے ہوئے کہ ’’اچھا میاں!اب آپکے راجہ کے یہ اونٹ یہاں بیٹھے ہی رہیں گے۔‘‘خواجہ غریب نوازؒ نے اپنے درویشوں سمیت اناساگر نامی جگہ پر جاکر قیام فرمایا جو بعد میں مسجد اولیاء کے نام سے مشہور ہوئی-

 ادھر پرتھوی راج کے اونٹ میدان میں ایسے بیٹھے کہ اُٹھنا ہی بھول گئے۔ساربانوں نے ہزار کوشش کی مگر اونٹوں کے کانوں میں جوں تک نہ رینگی ،اور اُن کے پیٹ زمین کیساتھ چپک گئے۔شہر بھر کے لوگ ساربانوں کی اس مضحکہ خیز کوششوں کو دیکھنے لگے۔راجہ پرتھوی راج کو بھی اِس عجیب’’تماشا‘‘ کی خبر پہنچ چکی تھی،اور وہ بھی اس جگہ پہنچ گیا،اونٹ نہ اُٹھے نہ انہیں اُٹھنا تھا،کیوں کہ یہ مردِ کامل کی زبانِ حق سے نکلنے والے الفاظ تھے آخر کار ان شاہی ساربانوں کی عقل ٹھکانے آئی اورا نہیں قبلہ خواجہ غریب نوازؒ کے وہ الفاظ یاد آئے جو آپؒ نے اُٹھتے ہوئے فرمائے تھے۔راجہ پرتھوی راج بے حدخوف زدہ ہوا اور چیلوں کو حکم دیا کہ جاؤ اُس بزرگ سے جاکر معافی مانگو اورادب بجا لاؤ اور جو اُن کی خواہش ہے اسے پوری کرو،ساربان کانپتے ہوئے آپؒ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور آپؒ کے قدموں میں گر کر معافی چاہی۔آپؒ قدرے مسکرائے اور ساربانوں سے کہا کہ جاؤ’’تمہارے راجہ کے اونٹ اُٹھ گئے ہیں۔‘‘ساربان گبھرا کر اُٹھے اور میدان کی جانب دوڑ لگادی،میدان میں پہنچے تواونٹ واقعی اُٹھ کھڑے تھے۔حضرت خواجہ معین الدین اجمیریؒ کی یہاں یہ پہلی کرامت تھی۔جو چہار سو پھیل گئی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے آپؒ کے عقیدت مندوں میں خوب اضافہ ہوا متعصب ہندوؤں میں تہلکہ مچ گیا اور بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے۔اور پرتھوی راج چوہان کو آپؒ کے خلاف کارروائی کرنے پر آمادہ کرنا شروع کردیا-

وہ خود بھی حضرت خواجہ غریب نوازؒ کی تبلیغی سرگرمیوں سے خوف زدہ تھا اور آپؒ کی کمالات وکرامات کواپنی تباہی وبربادی کا پیش خیمہ تصور کررہا تھا۔اور اُس نے اجمیر کے سب سے بڑے مہنت رام دیوکی خدمات حاصل کیں اور اُسے ہر طرح کے حکومتی تعاون کی پیشکش کی۔رام دیو،پنڈتوں اور پجاریوں کے ہجوم میں بڑی شان سے گردن اکڑائے خواجہ غریب نوازؒ کے آستانہء عالیہ کی جانب بڑھا اور جیسے ہی آپؒ کے روبرو ہواتو آپؒ نے ایک ہی نگاہِ خاص سے اس کی کایا پلٹ ڈالی،اور اگلے ہی لمحے آپؒ کے قدموں میں گر پڑا اور اسلام کی امان میں آنے کی آرزو کررہا تھا۔شکار کرنے آیا تھا اور شکار ہو کر چلا گیا۔پرتھوی راج اور ہندوآپؒ کے اس عمل سے اور زیادہ خوف زدہ ہو گئے۔ہندوستان میں شعبدہ بازی عام تھی۔ہندو اور پرتھوی راج یہ خیال کرنے لگے کہ آپؒ انہی ساحرانہ قوتوں کے بل بوتے پر ہندوؤں کو دائرہ اسلام میں داخل کر رہے ہیں۔چنانچہ پرتھوی راج نے ہندوؤں کی مشاورت سے جے پال جو ہندوستان میں نامور جادو گر تھا کو آپؒ کیساتھ مقابلہ کیلئے اکسایا۔جے پال اور اُس کے چیلوں نے پے درپے حملے کیے۔آپؒ نے اپنی کھڑاؤں پاؤں مبارک سے اتاری اور ہوا میں اچھال دی،وہ ہوا میں اڑتی اڑتی بلند ہوتی چلی گئی اور جے پال کے سر پرمنڈلانے لگی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے جے پال کے سر پر کھٹاخ کھٹاخ برسنے لگی۔جے پال نے اِس آفت سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوااور وہ بھی اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے آپؒ کے قدموں میں آگرا اور مشرف بہ اسلام ہوا آپؒ نے اس کا اسلامی نام عبداللہ رکھا۔جے پال کے مسلمان ہوتے ہی ہندوؤں نے جوق درجوق اسلام قبول کرنا شروع کردیا اور یوں آپؒ کی نگاہِ فیض اور اخلاقِ کریمانہ کے باعث تقریباََ نوے(90)لاکھ لوگوں نے آپؒ کے دستِ مبارک پر بیعت ہوتے ہوئے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی سعادت حاصل کی۔آپؒ کے خلیفہء اکبر اور حضرت بابا فریدالدین گنجِ شکرؒ کے پیر ومرشدحضرت خواجہ بختیار کاکیؒ نے آپؒ کی مجالس کا احوال اور آپؒ کے ارشاداتِ عالیہ’’دلیل العارفین‘‘کے نام سے قلمبند کیے تھے جو یقیناًآج بھی متلاشیانِ حق اور بھٹکے ہوئے لوگوں کی راہنمائی کیلئے ایک انمول تحفہ ہے۔خواجہ بختیار کاکیؒ فرماتے ہیں کہ’’میں بیس سال حضرت خواجہ غریب نوازؒ کی خدمت میں رہا اور میں نے اس دوران کبھی کسی حاجت مند کو خالی ہاتھ واپس نہیں جاتے دیکھا جب بھی کوئی شخص مانگنے کیلئے حضرت خواجہ غریب نوازؒ کے پاس آتا آپؒ مصلے کے نیچے ہاتھ ڈال کر جو اُس کی قسمت میں ہوتا اُسے مرحمت فرماتے۔‘‘اسی طرح ایک جگہ حضرت بابا فریدالدین گنجِ شکرؒ ارشاد فرماتے ہیں کہ’’میں ایک مرتبہ کچھ عرصہ تک خواجہ معین الدین قدس سرہ العزیزکے روضہ میں معتکف رہا۔عرفہ کی رات روضہ متبرکہ کے نزدیک نماز ادا کی اور وہیں کلام اللہ شریف پڑھنے میں مشغول ہو گیا تھوڑی رات گزری تھی کہ میں نے پندرہ سپارے ختم کرلئے سورہ کہف یا سورہ مریم میں ایک حرف مجھ سے ترک ہوگیا حضرت مخدوم کے روضہ سے آواز آئی کہ یہ حرف چھوڑ گئے ہو، اسے پڑھو،دوبارہ آواز آئی عمدہ پڑھتا ہے خلف الرشید ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔‘‘جب میں قرآن پڑھ چکا تو حضرت خواجہ غریب نوازؒ کے پائنتی سر رکھ دیااور رو کر مناجات کی کہ مجھے نہیں معلوم کہ میں کس گروہ میں سے ہوں،یہی فکر تھی کہ روضہ اطہر سے آواز آئی کہ مولانا!جو شخص نماز ادا کرتا ہے وہ بخشے ہوؤں میں سے ہے۔حضرت خواجہ غریب نوازؒ کے اس روحانی سلسلہ چشتیہ کو حضرت خواجہ بختیار کاکیؒ ،حضرت بابا فرید الدین گنجِ شکرؒ ،حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء،حضرت خواجہ قبلہء عالم نور محمد مہارویؒ اور حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسویؒ نے خوب بڑھایا۔بلاشبہ یہ سہرا انہی بزرگانِ دین ہی کے سر ہے کہ جنہوں نے محنت شاقہ اور اخلاص سے دین اسلام کی تبلیغ کا فریضہ سر انجام دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج برصغیر پاک وہند کی فضاؤں میں’’صدائے عظیم‘‘گونج رہی ہے۔

آپؒ نے 6رجب 633ھ بمطابق 15 مارچ 1236ء وصال فرمایا ۔آپؒ کا سالانہ عرسِ پاک جو کہ’’ چھٹی شریف‘‘کے نام مشہور ہے یکم رجب سے چھ رجب تک انتہائی شایانِ شان طریقے سے منایا جاتا ہے۔جس میں دنیا بھر سے لوگ عرس کی تقریبات میں شامل ہونے کی سعادت حاصل کرتے ہیں اور آپؒ کے آستانہء عالیہ سے فیض پاتے ہیں۔لارڈ کرزن وائسرائے ہند نے 1902ء آپؒ کے مزارِ اقدس پر حاضری دینے کا شرف حاصل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’میں نے ایک قبر کو ہندوستان میں حکومت کرتے دیکھا ہے‘‘ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں