خواجہ خواجگان حضرت خواجہ غریب نواز ؒ  


ازقلم ، محمد احمد مرتضی

حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ 12 فروری 1142ء بمطابق 14رجب المرجب 537ھ سوموارکو ہرات میں واقع خراسان و سیتان کے قصبہ سنجر میں نجیب الطرفین حسنی و حسینی خانوادہ میں پیدا ہوئے آپ کے والد بزرگوار حضرت خواجہ غیاث الدین رئیس شہر اور تجارت کے پیشے سے تعلق رکھتے تھے اور ایک با اثر شخصیت کے مالک تھے آپ کی والدہ ماجدہ کا نام نامی سید ام الورع ماہ نور تھا والدہ ماجدہ کی طرف سے حضرت امام حسنؓ اور والد بزرگوار کی طرف سے سلسلہ نسب حضرت سید الشہدا امام حسینؓ سے جا ملتا ہے  آپؒ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے خالہ زاد بھائی تھے(بعض روایات میں بھانجابھی لکھا گیا ہے)آپؒ نے تقریباًََ پانچ ماہ حضور غوث اعظم  شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی خدمت میں بھی گزارنے کا شرف حاصل کیا اور اسی دوران سرکار غوثِ اعظمؓ کے ساتھ ایک ہی حجرہء خاص میں 57روز قیام فرمایا اور روحانی فیض اور اسرار ورموز کی دولت سے مال مالا ہوئے شہنشاہِ بغدادشیخ عبدالقادر جیلانیؓ نے جب اپنے عہدِ مبارک(470ھ تا561ھ)میں یہ اعلان فرمایا کہ ’’میرا قدم تمام ولیوں کی گردن پر ہے تو اُس وقت حضرت خواجہ غریب نواز خراسان کے پہاڑوں میں عبادت وریاضت اور مجاہدہ میں مصروف عمل اور یادِ الہیٰ کے سمندر میں غوطہ زن تھے سرکار غوثِ اعظمؒ کایہ فرمان ہوا کی معطر لہروں کی دوش پر سفر کرتا ہوا خواجہ غریب نوازؒ کی سماعتوں سے ٹکرایا تو آپؒ نے اپنی گردن خم کرتے ہوئے عرض کیا کہ حضور! آپؓ کاقدم میری گردن پر ہی نہیں بلکہ سر آنکھوں پر ہے گویا پیرانِ پیر کی طرف سے خواجہ معین الدین اجمیریؒ کی ولائت پر مُہر تصدیق ثبت ہو گئی 583ھ میں روضہء رسولؐ اور خانہ کعبہ کی زیارت کی تڑپ لیے خواجہ معین الدین اجمیریؒ نے اپنے پیرو مرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونیؒ کی معیت میں مکہ اور مدینہ شریف کا سفر اختیار فرمایا حجِ بیت اللہ سے فارغ ہوکر مدینہ شریف میں درِ رسولﷺ پہ حاضری دی اور بصد ادب واحترام حضورِ اقدسﷺ کی بارگاہِ مقدس میں سلام پیش کی

الصلوٰۃ والسلام علیکم یا سید المرسلین وخاتم النبین۔‘‘ روضہء رسولﷺ سے آواز آئی’’وعلیکم السلام یا سلطان الہند، اسی رات رسولِ عربیﷺ نے آپؒ کوخواب میں اپنی زیارت سے سرفراز فرمایا اور برصغیر پاک وہند کی ولائت تفویض فرمائی اور حکم صادر فرمایا کہ جاؤ برصغیر پاک وہند میں دین اسلام کی تبلیغ کا کام سر انجام دو حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ نے سر زمین ہندوستان پر پہلا قدم رکھتے ہی سب سے پہلے داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کے مزارِ پر انوار پر حاضری دینے کی سعادت حاصل کی اورچالیس دنوں کے چلہ سے فارغ ہو کر رخصت ہونے لگے تو بے ساختہ خواجہ غریب نوازؒ کی زبان مبارک پر داتا علی ہجویریؒ کی شان میں بطورِ خاص یہ شعر جاری ہوا
گنج بخش فیضِ عالم مظہرِ نور خدا
نا قصاں را پیرِکامل کاملاں رارہنما

 آپ برصغیر پاک وہند میں بڑے بڑے بزرگوں کے پیر و مرشد  اور سلسلہ چشتیہ کے بانی ہیں آپ بیس سال تک سفر وحضر میں حضرت خواجہ عثمان ہارونی ؒ کی خدمت میں حاضر رہ کر مرشدپاک کے ہاتھوں خلافت کے منصب پر فائز ہوئے حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ  پرتھوی راج کے دور حکومت میں اجمیر شریف (ہندوستان)میں تشریف لائے جہاں اس وقت پتھورا رائے اس علاقے کا حکمران تھا اجمیرشریف تشریف لانے کے بعدآپ ؒ  عبادتِ الٰہی میں مشغول ہو گئے پتھورا رائے اپنی رعایا کیلئے ایک مغرور اور جابر حکمران تھا ایک روز اُس نے آپ ؒ  کے ایک عقیدت مند کو کسی وجہ سے ستایا وہ بیچارا فریاد لے کر آپ ؒ  کے پاس پہنچا آپ نے اُس کی سفارش میں پتھورا رائے کے پاس ایک پیغام بھیجا لیکن اُس نے آپ کی سفارش قبول نہ کی اور اعتراض کرنے لگا کہ یہ شخص یہاں آکر بیٹھ گیا ہے اور غیب کی باتیں کرتا ہے جب حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ کو یہ بات معلوم ہوئی تو اِرشادہوا کہ ہم نے پتھورا زندہ گرفتار کر کے حوالے کر دیا اُسی زمانہ میں سلطان معز الدین عرف شہاب الدین غوری کی فوج غزنی سے پہنچی پتھورا رائے لشکر اِسلام سے مقابلہ کے لئے آیا اور سلطان معزالدین کے ہاتھوں گرفتار ہو گیا اُس کے بعد سے ہندستان میں کفر کے اندھیرے چھٹنے لگے اور اِسلام کا دور شروع ہو گیا’ آپ کے کلام وملفوظات دلیل العارفین میں حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ نے جمع کئے ہیں جس میں سے چند ایک بیانات مندرجہ ذیل ہیں آپ نے فرمایا: عاشقِ الٰہی کا دِل محبت کی آگ میں جلتا رہتا ہے‘ لہٰذا جو کچھ بھی اُس دِل میں آئے گا جل جائے گا اور نابود ہو جائے گا کیونکہ آتشِ محبت سے زیادہ تیزی کسی آگ میں نہیں ارشاد فرمایا:بہتی ندیوں کا شور سنو کس طرح شور کرتی ہیں لیکن جب سمندر میں پہنچتی ہیں بالکل خاموش ہو جاتی ہیں اِرشاد فرمایا میں نے حضرت خواجہ عثمان ہارونی ؒ کی زبان سے خود سنا ہے‘ فرماتے تھے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ جَلَّ جلالہٗ کے اَیسے اولیاء اللہ بھی ہیں کہ اگر اِس دُنیا میں ایک لمحہ بھی اُس سے حجاب میں آجائیں تو نیست ونابود ہو جائیں اِرشاد فرمایا:میں نے حضرت خواجہ عثمان ہارونیؒ کی زبان سے سنا ہے‘ فرماتے تھے کہ جس شخص میں تین باتیں ہوں تو سمجھ لو کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اُسے دوست رکھتا ہے‘ اول سمندر جیسی سخاوت‘ دوم آفتاب جیسی شفقت‘ سوم زمین جیسی تواضع اِرشاد فرمایا: نیک لوگوں کی صحبت نیکی کرنے سے بہتر اور برُے لوگوں کی صحبت بدی کرنے سے بدتر ہے اِرشاد فرمایا:مرید اپنی توبہ میں اُس وقت راسخ اور قائم سمجھا جائے گا جب کہ اُس کی بائیں طرف والے فرشتے نے بیس سال تک اُس کا ایک بھی گناہ نہ لکھا ہو-

شیخ المحدثین عبدالحق محدث دہلویؒ فرماتے ہیں، یہ بات اَکابر متقدِّمین سے بھی منقول ہے اور بعض متاخرین صوفیاء نے اِس بات کی حقیقت اِس طرح بیان فرمائی ہے کہ مرید کے لئے ہر وقت توبہ و اِستغفار کے ہوتے ہوئے گناہ نہیں لکھا جاتا یہ مطلب نہیں کہ گناہ اُس سے بالکل سرزد ہی نہ ہو اِسی وجہ سے مشائخِ عظام اپنے مریدوں کو سوتے وقت اِستغفار کی تاکید کرتے ہیں تاکہ دن بھر کے وہ گناہ جو اَبھی تک رحمت الٰہی کی وجہ سے نہیں لکھے گئے کتابت وظہور میں نہ آئیں اِرشاد فرمایا:میں نے حضرت خواجہ عثمان ہارونیؒ کی زبانی سنا‘ فرماتے تھے کہ اِنسان مستحقِ فقر اُس وقت ہوتا ہے جب کہ اِس عالم فانی میں اُس کا کچھ بھی باقی نہ رہے محبت کی علامت یہ ہے کہ فرمانبردار رہتے ہوئے اِس بات سے ڈرتے رہو کہ محبوب تمہیں دوستی سے جدا نہ کردے اِرشاد فرمایا:عارفوں کا بڑا بلند مقام ہے جب وہ اِس مقام پر پہنچ جاتے ہیں تو تمام دُنیا ومافیہا کو اپنی دو اُنگلیوں کے درمیان دیکھتے ہیں اِرشاد فرمایا:عارف وہ ہے جو کچھ چاہے تو فوراً اُس کے سامنے آجائے اور جو کچھ بات کرے تو فوراً اُس کی جانب سے اُس کا جواب سن لے اِرشاد فرمایا:محبت میں عارف کا کم سے کم مرتبہ یہ ہے کہ صفاتِ حق اُس کے اَندر پیدا ہو جائیں اور محبت میں عارف کا درجۂ کامل یہ ہے کہ اگر کوئی اُس کے مقابلہ پر دعویٰ کر کے آئے تو وہ اپنی قوت ِکرامت سے اُسے گرفتار کر لے ہم برسوں یہ کام کرتے رہے لیکن آخر ہیبت کے علاوہ کچھ ہاتھ نہ آیا فرمایا کہ تمہارا کوئی گناہ اِتنا نقصان نہیں پہنچائے گا جتنا کسی مسلمان کی بے عزّتی کرنے سے پہنچے گا اِرشاد فرمایا:پاسِ انفاس اہلِ معرفت کی عبادت ہے اور معرفتِ خداوندی کی علامت یہ ہے کہ مخلوق سے بھاگے اور معرفت میں خاموش رہے اِرشاد فرمایا:ولی کو ولایت اُس وقت تک نہیں مل سکتی جب تک وہ معارف کو یاد نہ کرے اور ولی وہ ہے جو اپنے دل سے غیر اللہ کو نکال باہر کرے تاکہ وہ بھی اُسی طرح اَکیلا ہو جائے جیسے اُس کا محبوب یکتا ہے اِرشاد فرمایا:بد بختی کی علامت یہ ہے کہ اِنسان گناہ کرتا رہے پھر اِس کے باوجود اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں خود کو مقبول سمجھے اور ولی کی علامت یہ ہے کہ خاموش اور غمگین ہو جس نے بھی نعمت پائی وہ سخاوت کی وجہ سے پائی درویش وہ ہے جس کے پاس جو بھی حاجت لے کر آئے تو اُسے خالی ہاتھ واپس نہ کرے اور ولی محبت میں اَیسا شخص ہے جو دو عالم سے دِل ہٹا لے در حقیقت صبر کرنے والا وہ ہے جس کو مخلوق سے تکلیف و اَذیت پہنچے لیکن نہ وہ کسی سے شکایت کرے نہ کسی سے ذکر کرے اور سب سے بڑا ولی وہ ہے جو سب سے زیادہ حیران ہو پھر اِرشاد فرمایا:ولی کی علامت یہ ہے کہ موت کو پسند کرے‘ عیش وعشرت اورراحت کو چھوڑ دے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی یاد سے محبت رکھے ولی وہ ہے جو صبح اُٹھے تو رات کی یاد نہ آئے سب سے بہتر وہ ہے جس کا دِل وسوسوں سے پاک ہو اِرشاد فرمایا: علم ایک بے پناہ سمندر ہے اور معرفت اِس کی ایک نالی‘ سو کہاں اللہ جَلَّ جلالہٗ کہاں بندہ‘ علم‘ اللہ جَلَّ جلالہٗ کے لئے ہے اور معرفت بندہ کے لئے اہلِ معرفت اَیسے آفتاب ہیں جو تمام عالَم پر درخشاں ہیں اور تمام عالَم اُن کے نور سے روشن ہے لوگ اللہ تبارک وتعالیٰ جَلَّ جلالہٗ کا قرب صرف اُس وقت پاسکتے ہیں جب نماز خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کریں کیونکہ نماز مومن کی معراج ہے آپؒ کی نگاہِ فیض اور اخلاقِ کریمانہ کے باعث تقریباََ نوے(90)لاکھ لوگوں نے آپؒ کے دستِ مبارک پر بیعت ہوتے ہوئے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی سعادت حاصل کی بعض محققین کے نزدیک حضرت خواجہ معین الدین اجمیریؒ کی وفات15 مارچ 1236 بمطابق 6 رجب المرجب 633ہجری کو ہوئی اور اجمیرشریف میں جہاں آپ کی رہائش تھی وہیں مزار شریف بنایا گیا  آپ کا مزار مبارک اِبتداً اینٹوں سے بنایا گیاپھر اُس کو علیٰ حالہ باقی رکھ کر پتھر کا ایک صندوق اُس کے اُوپر بنایاگیا اِسی وجہ سے آپ کے مزار کی بلندی پیدا ہوگئی سب سے پہلے آپ کے مزار کی عمارت حضرت خواجہ حسین ناگوریؒ نے بنوائی اُس کے بعد دروازہ اور خانقاہ کسی بادشاہ نے تعمیر کرائے جہاں ہر سال بلکہ روزانہ دنیا بھر سے ہزاروں عقیدت مند سلام عقیدت و محبت پیش کرتے ہیں آپؒ کا سالانہ عرسِ پاک جو کہ’’ چھٹی شریف‘‘کے نام مشہور ہے یکم رجب سے چھ رجب تک انتہائی شایانِ شان طریقے سے منایا جاتا ہے جس میں دنیا بھر سے لوگ عرس کی تقریبات میں شامل ہونے کی سعادت حاصل کرتے ہیں اور آپؒ کے آستانہء عالیہ سے فیض پاتے ہیں مشہور ہے کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ کی وفات کے بعد آپ کی پیشانی پر یہ نقش ظاہر ہوا کہ حَبِیْبُ اللّٰہِ مَاتَ فِیْ حُبِّ اللّٰہِ یعنی ’’اللہ پاک کا حبیب اللہ کی محبت میں دُنیا سے سفر کر گیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں