اراکین پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا ، رکاوٹ کون بنا؟؟؟

پنجاب حکومت کی جانب سے اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں 100 فیصد سے زیادہ کا بل بھی پیش کیا گیا تھا اور گزشتہ چند دنوں کے دوران اس حوالےسے متعدد خبریں سامنے آرہی تھیں لیکن اب ایک چونکا دینے والی خبرسامنے آئی ہے –

وزیراعظم عمران خان نے پنجاب اسمبلی کے ارکان کی تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر نوٹس لے لیا ہے۔اوروزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے رابطہ کیا ہےاور واضح کیا ہے کہ اراکین پنجاب اسمبلی کی تنخواہیں خیبرپختونخوا اسمبلی کےارکان سے زیادہ نہ کی جائیں-

میڈیا رپورٹس کے مطابق ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا بل اسمبلی میں باضابطہ طور پر پیش کیا گیا۔ اسپیکر نے بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا۔ جس میں ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہ 80 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ مہمان داری کا الاؤنس 10 ہزار سے بڑھا کر 20 ہزار روپے کرنے کی تجویز کی گئی ہے۔ ارکان اسمبلی کو اس وقت 83 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ اور مراعات مل رہی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بل ایوان میں پیش کرنے کی تحریک حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی۔ بل میں ارکان کی تنخواہ اور مراعات بڑھانے کی تجویز دی گئی تھی۔

اب وزیراعظم عمران خان نے جب معاملے کا نوٹس لیا ہے جو ہدایت وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کو کی گئی ہے اس کے بعد حکومتی حلقوں میں ہلچل سی مچ گئی ہے –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں