وفاقی حکومت کے 3 وزرا کو فارغ کرنے کا مطالبہ سامنے آ گیا ، وزرا کے نام کیا ہیں..؟؟؟؟

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا ہے کہ وفاقی حکومت کی کابینہ میں تین وزیر ایسے ہیں جن کی سوچ انتہا پسندانہ ہیں اس لئے موجود وقت میں پاکستان ایسی سوچ کے حامل وزرا کی کابینہ میں شمولیت کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لئے ان تینوں وزرا کو فوری طورپر کابینہ سے باہر نکالل دیا جائے –

پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے مجبور کیا گیا تو اُن وزرا کے نام بھی بتا دو گا۔ جب تک کالعدم تنظیموں سے ہمدری رکھنے والے وزراء حکومت میں ہیں کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کو تسلیم نہیں کیا جائے گا – اس لئے ان تینوں وزیروں کو کابینہ سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے-

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ جعلی اکائونٹس کے کیس کی منتقلی حدود کی خلاف ورزی ہے۔ بتایا جائے کہ پنڈی میں ایسا کیا ہے جو کیس وہاں لے جایا جارہا ہے۔ سیاسی انجنیئرنگ کے لیے بے نامی اکاؤنٹس کیس میں گھسیٹا جارہا ہے۔

قبل ازیں بلاول بھٹو زرداری نے اسپیکر سندھ اسمبلی سے ملاقات اور پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کی جس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم کسی کی جیل کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے،سڑکوں پر نکلنے اور لانگ مارچ کیلئے تیار ہوں، ہم احتجاج سمیت بہت سےآپشن اپنے پاس رکھتے ہیں، جمہوریت کو احتساب سےکوئی ڈرنہیں،میں اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھوں گا۔

انہوں نےواضح کیا کہ سندھ اسمبلی پرافسوس ناک حملہ کیاگیا ہے، اسپیکر سندھ اسمبلی پیپلز پارٹی کا عہدہ نہیں ہے، سندھ اسمبلی پہلی اسمبلی ہے جس نے پاکستان کی قرارداد منظور کی، اس وقت کی اسمبلی میں بھی آغا سراج درانی کے رشتے دار تھے۔ لیکن سابق آمر مشرف کے بنائے گئے ادارے نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغاسراج درانی کوبغیر کسی ثبوت اسلام آباد سے گرفتار کیا، گرفتاری کے بعد ثبوت تلاش کیے جارہے ہیں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ حکومت اتنا ظلم کرے جتنا کل وہ برداشت کر سکتی ہے ، سلیکٹڈ وزیراعطم نے ملک کو چلانے کے لئے ابھی تک کوئی پالیسی نہیں دی صرف پرانے معاملات کا رونا رویا جا رہا ہے لیکن یہ سب کب تک چلے گا، حکومت نے 100 دن میں تبدیلی لانے کااعلان کیا تھا اب تو 200 دن ہو گئے ہیں لیکن تبدیلی آئی ہے تو صرف مہنگائی ، بیروزگاری میں ، بے گھروں کی تعداد میں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں