پنجاب کے سینئر وزیر اور وزیراطلاعات کے بعد ایک اور وزیر پر الزامات کی بارش، رپورٹ طلب

پاکستان تحریک انصاف کی پنجاب حکومت میں سینئر وزیر عبدالعلیم خان اور وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کے بعد ایک اوروزیر کے برے حالات چلنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں جن کا تعلق بہاولپور ضلع سے ہے-

میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب حکومت کے صوبائی وزیر خورک سمیع اللہ چوہدری پر بھی مبینہ کرپشن کے الزامات عائد کئے جارہے ہیں جس کا نوٹس وزیراعظم عمران خان نے لے لیا ہے جس سے صوبائی وزیر کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے-

رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو اُن کی مبینہ کرپشن کی اطلاعات ملی ہیں،جس پر انہوں نے سمیع اللہ چوہدری کو بلا کر سرزنش کی ہے اور مبینہ کرپشن بارے وضاحت طلب کی ہے –

اس حوالے سے صوبائی وزیر خوراک سمیع اللہ نے میڈیا کو وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ وزیراعظم نے اُنہیں ہٹانے کی ہدایت دی ہیں، وہ خود پر کرپشن کے الزامات کو چیلنج کرینگے، کرپشن ثابت ہوجائے تومیری گردن اڑادی جائے۔

وزیرخوراک کا کہنا ہے کہ 5مرلے کے مکان میں والدہ کےساتھ رہتا ہوں،ذاتی کار بھی نہیں، ایجنسیوں کی رپورٹ پر انکوائری کرالیں، کرپشن ثابت ہو تو وزارت کیا ایم پی اے بھی نہیں رہوں گا۔ انہوں نے تمام الزامات کو مکمل مسترد کردیا ہے-

واضح رہے کہ گندم خریداری سیزن شروع ہونے والا ہے جس کی وجہ سے سرکاری گوداموں کی تعمیر و مرمت ، کرایہ پرحاصل کرنے سمیت گندم کی برآمد سمیت دیگر معاہدے کئے جن میں کرپشن کی شکایت مل رہی ہیں اسی طرح اپنے ہاتھ کے افسران کی تعیناتیاں بھی کئے جانے کی اطلاعات مل رہی ہیں –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں