85 فیصد نمبر کے لئے طالبہ کو سینئر حکام کے پاس بھیجنے کا سکینڈل ،خاتون ٹیچر کیساتھ کیا ہوا؟؟

بھارت میں تعلیمی اداروں میں اخلاقیات کا جنازہ کا ایک اور کیس سامنے آیا ہے جب کالج کی خاتون ٹیچر نے سینئر حکام کو خوش کرنے کے لئے طالبات کو بھیجنے کے الزامات سامنے آئے تھے تاہم اب نئی خبر یہ ہے کہ مدراس مدراس ہائی کورٹ نے سیکس اسکینڈل کیس میں 11 ماہ سے قید خاتون کالج ٹیچر کی مشروط ضمانت منظور کرلی۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہائی کورٹ کے جسٹس این کیرو باکارن اور ایس ایس سندر پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے مدورائی کامراج یونیورسٹی (ایم کے یو) کے سینیئر حکام کو خوش کرنے کے لیے طالبات کو بھیجنے کے الزام میں پروفیسر نرمالا دیوی کی مشروط ضمانت منظور کی۔

جبکہ اس موقع پر موجود سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہیں اس ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ جبکہ ججز نے ضمانت حاصل کرنے والی سابق خاتون ٹیچر نرمالا دیوی پر کسی بھی میڈیا کو انٹرویو نہ دینے کی شرط بھی عائد کی ہے اور سخت ہدایت کی ہے کہ وہ اس کیس کی تحقیقات مکمل ہونے تک پولیس ٹیم کے ساتھ مکمل تعاون کو یقینی بنائیں-

واضح رہے کہ نرمالا دیوی دیوانگا آرٹس کالج جو ایم کے یو کالج سے الحاق شدہ ہے میں اسسٹنٹ پروفیسر تھیں۔ اور گیارہ ماہ قبل ان کی طالبہ کے ساتھ ایک آڈیو کلپ وائرل ہونے کے بعد 16 اپریل کو کالج اور خواتین کے فورم کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات پر پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا تھا- جبکہ آڈیو کلب میں انہیں طالبہ کو 85 فیصد مارکس اور پیسوں کے لیے حکام کے ساتھ ’ایڈجسٹ‘ کرنے کا کہتے سنا گیا تھا۔

کالج انتظامیہ نے واضح کر دیا ہے کہ خاتون ٹیچر کی گرفتاری سے قبل ہی کالج کی انکوائری کے بعد سے ہی انہیں برطرف کر دیا تھا اور اب ان کا کالج یا کالج انتظامیہ یا کالج اساتذہ سے کوئی تعلق نہیں –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں