میاں نوازشریف نے علاج بارے حکومت کو ایسا جواب دیدیا کہ سب دنگ رہ گئے

مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے علاج کے معاملے پر حکومت کے بھجوائے گئے خط کے جواب میں واضح کیا ہے کہ علاج کے نام پر تضحیک کا نشانہ نہیں بن سکتا ، مختلف ہسپتالوں میں گھما کر تذلیل کی جارہی ہے ، ایسے لے جایا جاتا ہے جیسے میں خانہ بدوش ہوں ، اب کسی ہسپتال نہیں جائوں گا،

سابق وزیراعظم نے یہ بھی جواب دیا کہ عدالتوں پر مکمل اعتماد ہے اگر عدالتوں کی جانب سے ریلیف ملا تو اپنا علاج خود کروائیں گے-

اس حوالے سے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ جواب 2 سے 3 روز میں حکومت کو بھجوا دیا جائے گا۔واضح رہے کہ احتساب عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر سکتے ہیں اور سزا کی معطلی کے لیے درخواست بھی دے سکتے ہیں۔ ت

میڈیا رپورٹس کے مطابق حزب اختلاف کی جانب سے یہ الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ یہ سیاسی بنیادوں پر مقدمات دائر کیے گئے ہیں اور یہ کہ انتقامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ اس صورتحال میں کیا حزب اختلاف کے دعووں میں وزن ہے یا آمدن سے زیادہ اثاثے ساری کہانی خود سنا رہے ہیں؟ اس کے علاوہ نواز شریف کے لیے اب آئندہ قانونی مرحلے کیا ہو سکتے ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں