دہشت گردی کے محرکات اور عالمی امن


تحریر : سید صداقت حسین جعفری

گلوبل میں موجود تمام ممالک کی ہر قسم کی ترقی اور عوام کے بہتر مستقبل کیلئے عالمی امن ضروری ہے کسی بھی ملک میں دہشت گردی، انتہا پسندی کے حملوں کا اثر پوری دنیا پر بلاواسطہ یا بلواسطہ پڑتا ہے۔ دہشت گردی کے سدباب اوراس سے ہونے والے نقصان کااثر متعلقہ ملک کی معاشیات اور امن پرپڑتا ہے دنیاجدید دور کے جدید تقاضوں اورچیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے بڑی سرعت سے متحرک ہے ۔ پوری دنیا میں جنگی ماحول کی کیفیت ہے کسی خطے میں کم اور کہیں زیادہ ہے اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دہشتگردی اوربعض ممالک کے جنگجو رویہ کی بدولت جو وسائل انسانی مستقبل کے لیے خرچ ہونا ضروری ہیں وہ دہشت گردی اورجنگ و جدل کی نظر ہورہے ہیں جس کی وجہ سے دنیا میں غربت، بھوک اور معاشی ناہمواری کاگراف بڑھ رہا ہے اور اس کے پڑنے والے اثرات کواحساسِ محرومی سے تعبیر کیاجاسکتا ہے۔

ان حقائق کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ عالمی امن اورانسانوں کی سلامتی کے لیے دنیا کی امیدوں کا مرکز اقوامِ متحدہ کاباوقار ادارہ معرض وجود میں آیا۔ جس کے منشور پر ہر رکن ملک نے دستخط کئے ہیں لیکن افسوس کہ عالمی قوانین کی پرواہ نہیں کی جاتی۔ حقوق انسانی کی گردان کرنے والوں کے سامنے حقوق انسانی کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ لیکن یہ کچھ طاقتیں جو استعماری سوچ کی حامل ہیں مفادات کے اندھے غارسے نکلنے کو تیار نہیں۔ اقوام متحدہ اوراس کے تمام رکن ممالک کے سامنے انسانوں کی بدترین نسل کشی ہو رہی ہے۔ بچوں، بوڑھوں ،خواتین کو تہ تیغ کیا جارہاہے لیکن یہ بے حسی ، یا شاید بے بسی کی فضا میں ہیں ، اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کیا قانون موجود نہیں اگر ہے تو اسے متحرک کیوں نہیں کرتے انسانیت کی بقاء اور سلامتی اور امن کو جتنا خطرہ بھارت اور اسرائیل کی ننگ انسانیت کاروائیوں سے ہے کسی پہلو سے نہیں قیامت سے پہلے انہوں نے قیامت برپا کردی ہے۔ کچھ طاقتوں کو اپنا نظامِ حکومت اور معیشت کا پہیہ گھمانے کیلئے مہلک اور کیمیاوی اسلحہ بیچنے کا فن آگیا ہے۔ ان کا مہلک اسلحہ بکنا چاہیے خواہ انسانیت ان کے ہتھیاروں سے مرے یا بھوک سے دم توڑے کچھ سپر طاقتوں کاگھناؤنا ڈپلومیٹ منصوبہ ہے کہ کسی بھی ملک میں سیاسی ، معاشی ، دفاعی انتشار پیدا کرکے حکومت اور عوام کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر دیتے ہیں۔ہائی گراف کی انتشار کیفیت دو ملکوں میں پیدا کرکے جنگی ماحول بنادیا جاتا ہے پھر کچھ ملک ایک فریق کواور کچھ دوسرے فریق کو حمایت دیتے ہیں مہلک اسلحہ دیتے ہیں جس سے بے شمار بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں اور ان کی معیشت تباہ ہو جاتی ہے نفرتوں کی ایسی دیوار کھڑی کردی جاتی ہے جو آسانی سے زمین بوس نہیں ہوتی۔ اس مقصد کے لیے دنیا کے بڑے اداروں کو بھی استعمال کیاجاتاہے جب ملک میں تباہی اور بربادی کے جگہ جگہ منظرابھرآئیں پھر انہی استعماری طاقتوں کی سوچ یکدم تبدیل ہو جاتی ہے وہ انسانیت کے نجات دہندہ بن جاتے ہیں۔

9/11 کا واقعہ ایران و عراق ، کویت ، افغانستان، پاکستان سوڈان اوردوسری جگہوں پر یہی سوچ حاوی رہی اور اسی سوچ کا تسلسل جاری ہے اگر اقوام متحدہ نے انسانیت کی بقاء اور سلامتی کا نظریہ سامنے نہ رکھا تو دنیا میں کئی محاذ کھل سکتے ہیں۔ کئی خطے ویت نام کی صورت حال پیداکرسکتے ہیں۔ عالمی تاریخ جابر طاقتوں کی سازشوں ، جارحیت اورہوس اقتدار اور ہوس زر سے بھری پڑی ہے تاریک بھی اُ ن کو مہلت نہیں دیا کرتی جو تاریخ سے سبق حاصل نہ کرسکیں۔ دہشت گردی کو روکنا ہے تودہشتگردی کے محرکات ختم کرنا ہوں گے اور سب سے اہم بات دہشتگردوں کے سہولت کاروں کی بیخ کنی ہے داعش القاعدہ یہ کہاں سے وجود میں آئے دنیا اپنی نسلوں کی بقاء اور اچھے مستقبل کے لیے امن کی خواہاں ہے۔ اسکے لیے ضروری ہے کہ اقوام متحدہ اپنی میز پر پڑے ہوئے ’’ریڈیکل ایشوز‘‘ مقبوضہ فلسطین و کشمیر کے مسئلوں کو حل کروانے کیلئے بھارت اور اسرائیل سے اپنے عالمی قوانین کے تناظر میں سلامتی کونسل کی پاس شدہ قراردادوں پر عمل کروائیں۔ سرد جنگ گردم جنگ کے نزدیک ہوتی جارہی ہے امن کی فضاء میں بادِ مسمو کی فضاء داخل ہو رہی ہے۔ انسانیت پر لیکچر دینے والوں کو مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین مسلمانوں کا ہی نہیں انسانیت کا مسئلہ سمجھنا چاہیے امن کی فاختہ زیتون کی شاخ سے اُڑ چکی ہے نیلگون آسمان پر اس کی پرواز میں تیزی آرہی ہے امن کی فاختہ کو پھر واپس لانے کیلئے دنیا حقیقت کودیکھے اقوام متحدہ کا جرأت مند کردار انسانی کی بقاء و امن کے لیے آب حیات ہے ۔جنگ و جدل میں جنگی گیت سنائے اور سنے جاتے ہیں امن کا راگ نہیں سنا اور سنایا جاتا ہے۔ جارحیت کی حمایت کرنے والوں کو محسوس کر لینا چاہیے کہ خوفناک منظر ان سے بھی اوجھل نہیں ہوگا ۔ بالاخر صبح کی سپیدۂ سحر تاریکی پر غالب آتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں