رحیم یار خاں کی سفری یاترا

میں آج کل ایک سرکاری ادارے میں وکیل کے طور پر فرائض منصبی سر انجام دے رہا ہوں اس امید کے ساتھ کے اللہ پاک میرے ساتھ ساتھ اس کا انجام بھی اچھا کریں گے۔ ایک دفعہ کسی سرکاری کیس کے سلسلہ میں رحیم یار خاں جانے کا اتفاق ہوا۔میرے ساتھ سرکاری گاڑی،ڈرائیور کے ساتھ ایک اعلیٰ پائے کا آفیسر بھی تھا۔ اعلیٰ پائے سے مراد سری پائے بالکل نہیں کیونکہ سری پائے کے مقام تک پہنچنا وہ بھی سردیوں کے موسم میں ہر کسی کے بس میں نہیں۔میرے ایک دوست کے مطابق پائے سے سری تک کا سفر جان جوکھوں میں ڈالنے سے کم نہیں۔ خیر ہم لوگوں نے بذریعہ ساہیوال جی ٹی روڈ سے رحیم یار خاں جانے کا پروگرام ترتیب دیا اور رخت سفر باندھ کر منزل کی جانب چل دیے۔ڈرائیور کی عمر لگ بھگ بیس بائیس کے قریب تھی اور طبیت میں صدر صدام کی سی پھرتی تھی۔ گاڑی کے ساتھ ساتھ مجھے بھی اندازہ ہو گیا تھا کہ گھر والوں نے اس کا نام صدام ہی کیوں رکھا ہے۔صدام صاحب نے گاڑی کو راکٹ یا کوئی مزائل سمجھ رکھا تھا۔میں پچھلی سیٹ پر بیٹھااسی سوچ میں گم تھا کہ مزائل ابھی کہ ابھی نشانے پر بیٹھا اور ہم سب چاند گاڑی پر بیٹھے خلاؤں کے سفر پر روانہ ہو جائیں گے۔ 

میں حسبِ ماء مقدم ڈرائیور سے مخاظب ہوا اور اسے اپنی محبت کی یقین دہانی کے لئے آفر کی کہ جہاں دل کرے چائے یا روٹی کے لئے بریک لگا لے مقصد اسے راضی رکھنے کے ساتھ ساتھ باخیریت منزل مقصود تک رسائی تھا۔خیر صدام صاحب نے میری آفر کی عزت رکھی اور ایک بہت بڑے ہوٹل پر جہاں بڑے بڑے ٹرک کھڑے تھے بریک لگا دی۔ ہم نے نماز ظہر ادا کی اور دال روٹی کا آرڈر دے دیا۔پٹھانوں کے بڑے بڑے ٹرک اور ٹرالے بحری جہازوں کی طرح لنگر انداز تھے اور ڈرائیور ٹولیوں کی شکل میں بیٹھے خوش گپیوں میں ایسے مشغول تھے جیسے منزل مقصود یہی ہے۔ویٹر ہمارا آرڈر لے آیا۔ ماش کی دال کو پانی میں ایسے اُبالا گیا تھا کہ اسے دیکھ کر انڈے کی سفیدی کا گمان ہو۔اوپر لگاہری مرچ کا لیپ بالوں کا رنگ ”لعل“ کرنے کے لئے لگائی گئی مہندی کی لُک دے رہا تھا۔ ہمارے پیٹ میں بھوک سے چوہے دوڑ رہے تھے روٹی پر ٹوٹ پڑے کے کہیں چوہے زیادہ نقصان نہ کردیں۔ ابھی آخری چند نوالے با قی تھے کہ آفیسرِ اعلیٰ ہاتھ دھونے کے بہانے جان چھڑا کر چل دیئے۔پتہ نہیں اب جان کھانے سے چھڑائی تھی یاپیسوں سے۔میں نے سخت سردی میں جیب کی گرمی کو ہوا لگائی اور بل ادا کر نے کے بعد ہم نے دوبارہ سفر شروع کیا۔

راستے میں ہم نے دیکھا کہ لوگ مالٹوں کے ہار بنائے روڈ پر ایسے کھڑے تھے جیسے گاہک کا نہیں بلکہ کسی دولہے کا انتظار کر رہے ہوں لیکن مجال ہے کہ کوئی گاڑی ان کے پاس آکربریک لگائے۔مالٹے فروخت کرنے کا یہ انداز میرے لئے بالکل نیا تھا۔ بعض جگہ روڈ کے ساتھ ساتھ گُڑ اور سکڑ بیچنے والوں کے اسٹال بھی لگے ایک خوبصورت نظارہ پیش کر رہے تھے۔اسی طرح میں نے دیکھا کہ بہت سے موٹر سائیکلوں والے بڑے بڑے ٹرالوں کی انگلی پکڑے پیچھے پیچھے بڑے ادب کے ساتھ چل رہے تھے۔ میں نے صدام سے دریافت کیا کہ یار یہ کیا چکر ہے۔ تو اس نے بتایا کہ سر یہ احترام ً بڑوں کے پیچھے پیچھے چل رہے ہیں جس سے ان کو انجن کی گرم گرم ہواتحفے میں ملتی ہے۔ میں سوچ میں گم تھا کہ اگر کہیں خدانخواسطہ بڑے ٹرک نے اچانک بریک لگا دی تو اس موٹر سائیکل کی ایسی محبت بھری جپھی پڑے گی کہ سوار کی آنکھوں سے بھی شدت جذبات سے خون کے فوارے نکلیں گے۔ اس جان لیوا محبت سے باز رکھنے کے لیئے پولیس اہلکار کہیں نظر نہیں آرہے تھے اگر کہیں تھے بھی تو شائد وہ اسے جائز سمجھتے تھے کیونکہ یہ نظارے مجھے جی ٹی روڈ پرہر جگہ نظر آرہے تھے۔راستے میں جاتے ہوئے ایک جگہ مامے والا کا اسٹاپ آیا میں بڑا خوش ہوا کے آگے کہیں چاچے والا بھی آئے گا لیکن کسی بہت بڑی سازش کے تحت شائد چاچے کا سبق ہمیں پڑھایا ہی نہیں جاتا۔مختلف جگہ پر رضایوں کے اسٹال بھی لگے نظر آ رہے تھے میرے لیئے یہ چیز ذرا حیرت والی تھی اعلیٰ آفیسر نے معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے بتایا کہ رضائی میں سونے سے سردی نہیں لگتی مجھ جیسے ان پاڑھ کو بہت جلدی پتہ چل گیا کیونکہ ٹھنڈ توبہت لگ رہی تھی لیکن ٹھنڈ پانے کوکوئی چیز میسر نہیں تھی۔

رحیم یار پہنچ کر جن عزیزوں کے ہاں ہم مہمان بننے جار ہے تھے سارا راستہ وہ ہمارے ساتھ رابطے میں رہے کہ شائد ہم ٹل جائیں اور کہیں اِدھر اُدھر ہو جائیں کیونکہ قریب پہنچنے پر جب رابطہ کیا توان کا موبائل بند ہوچکا تھا۔پھر شائد خدا کو مجھ مسکین پر ترس آ گیا کہ میری کال مل گئی۔وگرنہ صدر کے ساتھ ساتھ آفیسر اعلیٰ کابوجھ بھی سر پر محسوس ہو رہا تھا۔ خیر صبح ناشتے سے فارغ ہوئے اور متعلقہ دفتر پہنچ گئے۔ ڈھونڈنے میں دشواری تو ہوئی لیکن جدید ٹیکنالوجی موبائل کی صورت میں ہاتھ میں تھی۔جو چیز ہاتھ میں ہو اس کا جو ہم نوجوان حال کرتے ہیں وہ تو اپ کو تو پتہ ہی ہے۔ آفس میں داخل ہوئے تو جناب معتصب صاحب آفس بوائے کے ساتھ لڑائی میں مشغول تھے پتہ چلا کہ آفس بوائے نے شیشے کے ایک نہیں دو گلاس توڑ دئیے تھے۔ آفس بوائے تیس پینتس سال کا نوجوان تھاجو دل توڑنے کی بجائے گلاسوں کو توڑکر من کی آگ بجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ ٹھنڈے موسم کی کارستانیوں سے کون واقف نہیں۔نزلہ،زکام توہر گھر کامہمان ہوتا ہے۔ 

فارغ ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگتی ہم بھی وہاں سے جلدی فارغ ہو گئے اور واپسی کا سفر باندھ لیا۔ٹھنڈے موسم کی شدت ہمارے ساتھ ساتھ محوسفر تھی۔وہی نظارے جو گزرے کل ہمارے ساتھ تھے پھر شروع ہوگئے۔راستے میں صدام نے ایک ہوٹل پر کھانا کھانے کے لیئے بریک لگائی۔نماز ظہر کا وقت تھا ہم نے نماز ادا کی آفیسر اعلیٰ نے بھی نماز ادا کی اور ہم کھانا کھانے کے لیئے ہوٹل ایک کمرے میں برجمان ہوگئے۔ کھانا کھایاآفیسراعلیٰ نے جیب سے پیسے نکالنے کی ناکام کوشش کی اور اس جملے کے ساتھ جیب سے ہاتھ نکالا اوہ یار!میرا پرس تو گاڑی میں ہے۔ بحرحال ہم نے مل کر کھانا کھایا ادائیگی کے بعد دوبارہ منزل مقصود کی طرف دوبارہ سفر شروع کر دیا۔ راستے  میں ایک جگہ چائے پی جب بورڈ کی طرف نظر گئی تو لکھا تھا یہاں پرچرسی چائے دستیاب ہے۔ فوراً اپنا منہ شیشے میں دیکھا کہ چرسیوں والی ”لُک“تو نہیں دے رہا۔صدام نے یہ حرکت نوٹ کر لی اور وضاحت کی کہ نام چرسی چائے ہے لیکن چائے میں چرس نہیں ہوتی۔ میں نے حیرانگی سے کہا یار عجیب بے ایمانی ہے۔ہمارے لوگوں کا کیا بنے گا مسافروں کو بھی لوٹنے سے باز نہیں آتے۔ کوئی ہے جو ان کو پوچھے۔لیکن صدام کی گاڑی اب پہلے سے زیادہ تیز تھی ہم اپنے اندازے سے زیادہ پہلے اپنوں گھروں میں پہنچ چکے تھے۔ہمیں صدام نے بتایا کہ چرسی چائے بہاول پور کی سوغات ہے اور لوگ بڑے شوق سے پیتے ہیں۔ امید ہے کہ اگر دوبارہ موقع ملا توہم ایک دفعہ پھر اس کا لطف اُٹھائیں گے۔خدا ہم سب کا حامیوں ناصر ہو۔آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں