کاتب وحی حضرت امیر معاویہ


ازقلم ، محمد احمد مرتضی

آپ کا نام معاویہ بن ابی سفیان بن حرب بن امیہ بن عبدالشمس بن عبدالمناف ہے آپ چار پشتوں کے بعد رسول اللہ ﷺ  کے شجرہ سے جا ملتے ہیں آپ کا خاندان بنی امیہ خاندان رسول ﷺ بنی ہاشم کا قریبی تھا آپ کو ابوعبدالرحمن اور خال المومنین بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ آپ کی بہن سیدہ ام حبیبہ رسول اللہﷺ کی ازواج میں شامل تھیں آپ بعثت سے پانچ سال قبل پیدا ہوئے تھے اور ہجرت کے وقت آپ کی عمر اٹھارہ سال تھی آپ نے متعدد شادیاں کیں لیکن دو بیویوں سے آپ کو اولاد ہوئی ایک سے یزید اور ایک بیٹی اور دوسری سے عبداللہ اور عبدالرحمن تھے علماء کا کہنا ہے کہ آپ والدین کے ساتھ فتح مکہ میں مسلمان ہوئے ہیں آپ نے فتح مکہ کے فوراً بعد ہجرت کی اور مدینہ آگئے یہاں آپ رسول اللہﷺکے کاتب تھے اور آپ رسول اللہ ﷺ کے لئے وحی اور دوسری کتابت کرتے تھے اس لئے آپ کو کاتب وحی بھی کہا جاتا ہے محدثین کا آپ سے حدیث روایت کرنا آپ کی صداقت و عدالت کی اس قدر واضح دلیل ہے جس پر مجالِ انکار کی جراء ت دنیا میں کسی کو نہیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ جنگ حنین ، طائف اور تبوک میں شریک رہے –

حضرت معاویہ اور آپ کے خاندان نے خلافت صدیق میں بہت قربانیاں دیں اور جہاد میں بھرپور حصہ لیا ارتداد کی جنگوں اور جنگ یمامہ میں دوسرے صحابہ کے ساتھ آپ شریک رہے حضرت صدیق نے آپ کے بھائی یزید بن ابی سفیان کو امیر بنا کر شام بھیجا تھا جہاں ان کا انتقال ہوگیا تو حضرت صدیق نے حضرت معاویہؓ کو ان کی جگہ امیر بنایا اس موقع پر آپ کے والد نے آپ سے فرمایا کہ ہم اسلام لانے میں ان سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور یہ ہم سے بہت آگے ہیں امیر المومنین نے تم پر اعتماد کیا ہے اس کو بخوبی نبھانا حضرت فاروق اعظمؓ کی خلافت میں سیدنا معاویہ نے شام و حمص کو فتح کرلیا اور فاروق اعظمؓ نے وہاں کا گورنر انہیں ہی بنا دیا آپ حضرت فاروق اعظم ؓکے واحد گورنر ہیں جن کی کوئی خاص شکایت کبھی نہیں آئی آپ رعیت کا بہت خیال رکھنے والے تھے آپ نے چاہا کہ بحری فوج بھی تیار کرلی جائے لیکن حضرت فاروق اعظم نے آپ کو اس کی اجازت نہیں دی حضرت عثمان غنیؓ کے دور میں آپ پورے شام و اردن کے گورنر تھے آپ کا علاقہ وہ واحد علاقہ تھا جہاں حضرت عثمان کے خلاف کوئی شورش نہیں ہوئی آپ نے حضرت عثمان کے حکم سے پہلی اسلامی بحری فوج بنائی اور قبرص کو فتح کیا یہ مسلمانوں کی پہلی بحری جنگ تھی جس کے سالار معاویہؓ تھے اس کے بارے میں رسول اللہ ؐے پیش گوئی کی تھی اور اس جنگ کے شرکاء کو جنت کی بشارت دی تھی-

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ ان علاقوں کی فتوحات کے بعد اب یہ چاہتے تھے کہ اسلام کو اب سمندر پار یورپ میں داخل ہونا چاہیے یورپ وافریقہ پر حملہ اور فتح کے لیے بحری بیڑے کی اشد ضرورت تھی۔بحرِروم میں رومی حکومت کا ایک بہت بڑا بحری مرکز تھا جو شام کے ساحل کے قریب ہونے کے باعث شام کے مسلمانوں کے لیے کسی وقت بھی بڑا خطرہ بن سکتا تھا اسے فتح کیے بغیر شام ومصر کی حفاظت ممکن نہ تھی اس کے علاوہ سرحدی رومی اکثر مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے مسلمانوں کو تنگ بھی کرتے رہتے تھےخلیفہ وقت حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے اجازت ملنے کے بعد حضرت امیر معاویہؓ نے بڑے جوش خروش کے ساتھ بحری بیڑے کی تیاری شروع کردی اور بحری مہم کا اعلان کردیا چنانچہ جذبۂ جہاد سے سرشار مجاہدین شام کا رخ کرنے لگے28ہجری میں آپ پوری شان وشوکت تیاری وطاقت اور اسلامی تاریخ کے پہلے بحری بیڑے کے ساتھ بحر روم میں اترے لیکن وہاں کے باشندوں نے مسلمانوں کے ساتھ صلح کرلی یوں ان کے سر پرپڑنے والی افتاد ٹل گئی بعد میں مسلمانوں کو تنگ کرنے اور بدعہدی پر ایک بار پھرحضرت امیر معاویہؓ پوری بحری طاقت اور عظیم الشان بحری بیڑے کے ساتھ جس میں تقریبا پانچ سو کے قریب بحری جہاز شامل تھے.قبرص کی طرف روانہ ہوئے آپؓ کی قیادت میں اس پہلی بحری لڑائی اور فتح قبرص کے لیے بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرامؓ، جن میں حضرت ابو ایوب انصاریؓ ، حضرت ابوذرغفاریؓ، حضرت ابودرداءؓ، حضرت عبادہ بن صامتؓ اور حضرت شداد بن اوسؓ قابلِ ذکر ہیں، شریک ہوئے اس لڑائی میں رومیوں نے بڑے جوش وخروش سے حصہ لیا تجربہ کار رومی فوجوں اور بحری لڑائی کے ماہر ہونے کے باوجود اس لڑائی میں رومیوں کو بد ترین شکست ہوئی اور مسلمانوں نے بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے قبرص کو فتح کرلیا محدثین فرماتے ہیں کہ :حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن دو اسلامی لشکروں کے بارے میں مغفرت اور جنت کی بشارت وخوش خبری بیان فرمائی ان میں سے ایک وہ لشکرہے جو سب سے پہلے اسلامی بحری جنگ لڑے گا اور اس کا اولین مصداق یہی لشکر ہے۔

آپ نے رومیوں کے خلاف 16جنگیں لڑیں حتی کہ آخری وصیت بھی یہی تھی کہ روم کا گلا گھونٹ دو مؤرخین کا بیان ہے کہ32ھ سے56ھ کے سال اسلامی فتوحات کے نمایاں سال شمار ہوتے ہیں ان سالوں میں حضرت معاویہؓ کی سرکردگی میں قسطنطنیہ ، سندھ کا کچھ حصہ ، کابل ،ہندوستان ، ملک سوڈان، افریقا،سسلی، قبستان، بخارا وسمر قند سمیت بلادِ عجم اسلامی خلافت کے زیرِ نگیں آئے حضرت امیر معاویہؓ کی حکمت عملی اور جوانمردی کے بیسیوں واقعات کتب تاریخ میں موجود ہیں اپنی مدبرانہ سیاسی سوچ اور حکمت عملی کی بدولت آپ نے تقریباً 64 لاکھ مربع میل پر حکمرانی کی کئی ملکوں کے ملک ، شہروں کے شہر ،جزیروں کے جزیرے ، قلعوں کے قلعے اور علاقوں کے علاقے آپ کے دور میں فتح ہوئے اور وہاں اسلامی ریاست کو فروغ دیا گیحضرت معاویہ کی خلافت کے اہم واقعات وسطی ایشیا کی فتوحات ، شمالی افریقہ کی فتوحات ، رومیوں سے معرکے ، قسطنطنیہ پر حملہ جس کی پیش گوئی رسول اللہؐ نے کی تھی آپ ؓ 18ہجری سے لے کر 41 ہجری تک، تقریبا 22سال گورنر رہے۔

آپ ؓ نے تقریبا 19 سال تک 64لاکھ مربع میل کے علاقے پر حکومت کی 41 ہجری میں حضرت سیدنا امام حسن مجتبی علیہ السلام و رضی اللہ عنہ کی خلافت کے منسب سے دستبرداری پر آپ ؓ خلیفہ بنے امام حسن و حسین علیہا السلام سمیت تمام مسلمانوں نے آپ کے دست حق پر بیعت کیحضرت معاویہؓ کے فضائل میں یہ ہی کافی ہے کہ آپ رسول اللہ ﷺ کے کاتب وحی تھے اس کے علاوہ جب رسول اللہ ﷺ نے خواب دیکھا تھا کہ میری امت کے لوگ پہلی دفعہ سمندر میں جہاد کر رہے ہیں تو آپ بہت خوش ہوئے تھے اور ان کو جنت کی بشارت دی تھی یہ پہلا خوش نصیب لشکر جس نے رسول اللہ ﷺ کے خواب کو حقیقت میں بدل دیا امیر المومنین عثمانؓ کے دور میں قبرص کے جہاد پر گیا تھا اور اس کے امیر حضرت  امیر معاویہؐ تھے حضرت معاویہ کے حق میں احادیث بھی موجود ہیں جن سے آپ کی شان اور اہمیت بیان ہوتی ہے ان احادیث میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں امام احمد اپنی مسند میں امام بخاری ،تاریخ بخاری میں اور امام ترمذی اپنی سنن میں یہ حدیث نقل کرتے ہیں رسول اللہ  ﷺ نے آپ کے حق میں دعا کی کہ اے اللہ اس کو ہدایت یافتہ بنا اور اس کے ذریعہ سے ہدایت دے امام نسائی نے اپنی سنن ، ابن خزیمہ نے اپنی صحیح اور امام احمد نے اپنی مسند میں یہ حدیث نقل کی ہے رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا کہ ا ے اللہ معاویہ ؓ کو حساب و کتاب کا علم دے اور اسے عذاب سے بچالے ابن کثیر نے بیہقی وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ  ﷺ نےحضرت معاویہ ؓ کو کہا کہ عنقریب اللہ تمہیں میری امت پر حاکم بنائے گا ان کی اچھی بات قبول کرنا اور بری بات سے درگزر کرنا ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا  میری امت کا سب سے بڑا لشکر جو بحری لڑائیوں کا آغاز کرے گا اس پر جنت واجب ہے ابن اثیر اور تمام تاریخوں کے مطابق حضرت سیدنا امیر معاویہ ؓ واحد شخص ہیں جنہوں نے سب سے پہلے بحری بیڑے کا آغاز کیا اور مسلمان قوم سب سے پہلی مرتبہ بحری جہاد سے سرفراز ہوئی حضور سرور کائنات ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر یہ اعلان فرمایا ’’من دخل دار ابی سفیان فہو امن‘‘ یعنی ابتدائے اسلام کی عسرتوں اور پریشانیوں میں جو مکان پناہ گاہ رسول اللہ ﷺ بنا آج جو شخص بھی اس میں پناہ حاصل کرے گا اسے امان دے دی جائے گی (مسلم شریف) فاتح عرب و عجم، شمشیر اسلام، رازدارد رسالت ﷺ کاتب وحی، خال المومنین، خلیفہ سادس امیر المومنین سیدنا امیر معاویہؓ 22رجب المرجب 60 ہجری کو اس دنیا سے رخصت ہوئے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں