پولی پولی ڈھولکی ؟ (ازقلم ،  معاذ بن محمود )

مجھے آپ سب قارئین کی معصومیت پر پورا بھروسہ ہے۔ پھر بھی ڈھٹائی کہہ لیجیے یا چند معصومین کے وجود پر ایمان، یہ چھوٹا سا لطیفہ پھر سے سنائے دیتا ہوں۔ اس کے بعد باقی کی بات کرتے ہیں۔

ایک میراثی گروہ کے والد صاحب یعنی سرپرست اعلی میراثی وفات پاجاتے ہیں۔ میراثیوں کا یہ جتھہ غم خواری سے نابلد تھا۔ انہیں تو عادت تھی فقط خوشیوں کی جو دوسروں کی خوشیوں میں چھپی ذاتی آمدن سے جڑی ہوتی۔ گروہ کے تمام میراثی ڈھولک طبلے اور ہارمونیم بجانے کے عادی تھے۔ ابا جی کا جسد خاکی سامنے پڑا تھا جس پر اصولاً بین ڈالا جانا تھا مگر میراثی تھے کہ ڈھولکی بجانے کے عادی۔ آخرکار ایک سے صبر نہ ہوا اور دوسرے سے سرگوشی کرتے مخاطب ہوا، “مولا خوش رکھے۔۔۔ جدوں جنازہ نہیں اٹھدا اسی پولی پولی ڈھولکی نہ بجا لئیں؟”

تو بھیا ایسا ہے کہ جمہوریت ہو یا آمریت، بعض الناس کو بلکہ یوں کہہ لیجیے کہ اکثر من الناس کو اپنی روزی روٹی سے مطلب ہے۔ دال روٹی ملتی رہے یہ اندر اندر خوش رہیں گے۔ لیکن کیا ہے کہ ہمیں بولنے کی بھی عادت ہے۔ بولنے کا سیدھا تعلق سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے ہے۔ اسی لیے بیشک بندہ ہو میراثی مگر اوپر والے کی کرپا سے وہ یہ ثابت ضرور کر سکتا ہے کہ جے ایف ۱۷ تھنڈر، ایف ۱۶ یا رافیل سے کہیں بہتر لڑاکہ طائر ہے۔ اب ایسے بولنے والے کو اپنی ذہنی عکاسی کے لیے مین سٹریم میڈیا کا پلیٹ فارم مل جائے تو ہارون الرشید اور ارشاد بھٹی قسم کے کردار سامنے آتے ہیں۔ میڈیا پر مقابلہ ذرا سخت ہے۔ چانس بھی سب کو نہیں ملتا۔ سو اکثر اپنے اندر کا دانشور سامنے لانے واسطے سوشل میڈیا کا رخ کرتے ہیں۔

گزشتہ برس ایسا ہی ذہن رکھنے والی ایک خونخوار رویے کی حامل خاتون کی سربراہی میں چند لونڈے اور کنیائیں ڈارک ویب کو لیگی حکومت سے جوڑنے کو مرے جارہے تھے۔ زینب معصوم کی نعش کو چند گِدھ اور گدھے یوں بھنبھوڑ رہے تھے کہ الحذر۔ بارہواں برس ہے ہم انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان سے وابستہ ہیں، اس کے باوجود بھی بلیک اینڈ وائٹ رائے دینے سے گریز کرتے ہیں۔ علم تو ہے مگر اپنی رائے کے مقدم ہونے پر محض علم کامل نہ ہونے کے باعث گریز کرتے ہیں۔ خاتون پھر بھی مصر تھیں کہ وہ جو کہہ رہی ہیں اس پر ایمان لایا جائے۔ اگلے چند دن میں عفیفہ جو ویسے بھی سکہ بند حوالداری کے باعث مشہور ہیں، غدار پشتین اور پاک فوج مد ظل علیہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کو ہیں۔ یہ کوئی خوفناک خواب نہیں بخدا حقیقت ہے۔ کیا کریں کہ آزادی اظہار رائے پر کسی ایک فریق کی اجارہ داری نہیں۔ ہم اس پولی پولی ڈھولکی کو سننے پر بھی مجبور ہیں، رہیں گے۔

یہ ڈھولکی بجتی رہی ہے اور شاید بجتی رہے گی۔ ایک نگاہ میڈیا پر دوڑائیے۔ مشرف دور کے وسط سے نواز و زرداری فرشتے دکھائے جاتے تھے، مشرف شیطان۔ پھر مشرف گیا زرداری آیا۔ کچھ ہی عرصے بعد زرداری حکومت کے زیریں جامے شام کو نجی چینلز پر دھلنے شروع ہوجاتے۔ ایک دن زرداری حکومت بھی فارغ ہوئی۔ اب نواز پارٹی جو جیالوں کی حکومت میں فرشتہ صفت دکھائی جاتی، ملعون ثابت ہونا شروع کی گئی۔ پانچ سال میڈیا ٹرائل جاری رہا حتی کہ خان صاحب آگئے۔ وہی خان صاحب جنہیں پچھلے پانچ سال مسیحا بنا کر پیش کیا جاتا رہا آج اسی میڈیا کے نشانوں پر ہیں جن کی شان میں ہمارے اینکر حضرات حمد و ثناء جاری رکھتے تھکتے نہ تھے۔ ہماری عوام تو خیر ہر ہیجان کو لبیک کہنے کی عادی ہے ہی، ایک طائرانہ نگاہ اپنے دانشوروں پر ڈالی جائے تو زبان سے فقط ا، ب، ج، چ اور ح سے آغاز ہونے والی مغلظات ہی نکلتی ہیں۔ یہ اینکر بھی پولی پولی ڈھولکی بجاتے ہیں اور عشاق ناچنا شروع کر دیتے ہیں۔

صاف بات کرتے ہیں۔ مجھ سمیت کئی طالب علموں کا ماننا ہے کہ خان صاحب لائے گئے ہیں۔ بقول سیاسی مخالفین، وزیراعظم دراصل نصب شدہ زیراعظم ہیں۔ چلئے اب آچُکے تو جمہوریت کے نام پر ایک جمہوری عہدے پر فائز شخصیت کے ساتھ ہماری نیک تمنائیں ضرور رہیں۔ مجبور آدمی اور کر بھی کیا سکتا ہے۔ ٹرمپ وائٹ ہاؤس پہنچ سکتا ہے تو خان صاحب ہمارے وزیراعظم ہاؤس میں چھوڑ دیے جائیں، یقین آ ہی جاتا ہے۔ ہم سیاسی مخالفین ہوکر یہ مانتے ہیں کہ بندے کو وقت پورا کرنے دیا جائے لیکن ان عظیم ہستیوں کا کیا کریں جنہوں نے ہمیں اور آپ کو یہ یقین دلایا کہ مسیحا ہے اور یہی ہے، اور پھر آج اسی مسیحا پر لعنت بھیجتے ہیں؟ پچھلے پانچ سال اس سے پچھلے پانچ سال اور اس سے پچھلے جانے کئی سال۔ ڈھولکی ہے اور یہ دانشور ہیں۔ ناچنے والے واہ واہ کرنے والے بہتیرے۔

شکاگو یونیورسٹی میں امریکی قانون کے پروفیسر کیس سنسٹین اپنی کتاب Republic: Divided Democracy in The Age of Social Media میں تحریر کرتے ہیں:

”مغالطوں کی قیمت بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس کی ایک مثال وہ منظرکشی ہے جس کے تحت صدر اوبامہ امریکہ میں پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اس قسم کے مغالطے (اگرچہ یہ تباہ کن ترین نہیں تھا) ختم ہو بھی جائیں تب بھی یہ سیاسی غلط فہمیوں، غیر یقینی، شکوک و شبہات اور کئی بار نفرت کی عکاسی اور ان کے فروغ میں کردار ادا کرتے ہیں”۔

ریاست میں ہمہ وقت چھائی رہنے والی مایوسی اور غیر یقینی کی صورتحال ہر طرح سے ریاست کے استحکام کے خلاف جاتی ہے۔ آپ شخصیت سے نفرت کر سکتے ہیں لیکن شخصی بنیادوں پر نظام سے متنفر نہیں ہوسکتے۔ اس کے لیے آپ کو اپنے ذہن میں کم سے کم بھی یہ بحث ضرور چھیڑنی ہوگی کہ جمہوریت نہیں تو متبادل کون سا نظام اور کیوں؟ ہم پچھلی دہائی میں دہائیاں دیتے رہے کہ بھائیوں ملکی استحکام کی خاطر نظام کا ساتھ دو فرد پھر بدل جائیں گے۔ وہ جن کا داؤ مگر چلتا ہے اپنی ہی ایک سوش رکھتے ہیں، نظام کا انہدام جس کی بنیاد اور مقصد محسوس ہوتا ہے۔ لاکھوں روپے پکڑ کر یورپ کے سبز باغ بذریعہ یونان پہنچا کر دکھانے والے جہلم کے اس پار کھڑا کر کے نکل جاتے ہیں۔ پانچ سال کبھی مذہب کارڈ استعمال کر کے تو کبھی غداری کے نام پر، کبھی کرپشن کا راگ الاپ کر تو کبھی مہنگائی کے بھوت سے ڈرا کر ہمیں یورپ والے سبز باغ دکھائے گئے۔ آج جب حقیقت ہل پر آشکار ہورہی ہے تو یہی بنارسی ٹھگ ایک نئے بہروپ میں سامنے ہیں۔ چونکہ ہم دہائی دینے سے بڑھ کر کچھ کرنے سے قاصر ہیں لہذا درخواست کریں گے کہ ڈھولکی بجانے کی عادت سے مجبور ان میراثیوں کی تال پر ناچنا چھوڑ دیں، ان کی دھن کسی اور کی ہے۔ آپ سے جو غلطی ہوئی سو ہوئی، اب آگے کا سوچئے کہ ایک نئی نسل کو وہی امتحان درپیش ہے جس میں آپ ہمیشہ سے ناکام و نامراد لوٹتے آئے ہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا میں بیٹھے ان میراثیوں کو پہچانیے، آخر کب تک یہ آپ کو کسی اور کی دھن پر نچانے کے لیے پولی پولی ڈھولکی بجاتے رہیں گے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں