یارن کی چائنا کو ایکسپورٹ کا کھولنا ٹیکسٹائل انڈسٹری اور ملکی معیشت کیلئے تباہ کن ، چوہدری حبیب

فیصل آباد (ویب ڈیسک)پاکستان یارن کی چائینہ کو ایکسپور ٹ کا کھولنا پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری اور ملکی معیشت کو تباہ کرنے کے مترادف ہے، ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری اس اقدام کی شدید مذمت کرتی ہے۔ اس فیصلہ کے مضر اثرات کے پیش نظر اسے فوراً واپس لیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن ( اپٹپما) فیصل آباد ریجن کے ریجنل چئیرمین چوہدری حبیب احمد گجر نے کیا۔

انہوں نے کہا بغیر سوچے سمجھے آٹھائے جانے والے اقدامات کا نتیجہ ہمیشہ غلط نکلتا ہے۔ چائینا کو یارن کی ایکسپورٹ کھول دینے سے صرف سپننگ ملوں کو فائدہ پہنچے گا جبکہ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں شامل بالخصوص ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری جس سے لاکھوں افراد وابستہ ہیں تباہی کا شکار ہوجائے گی کیونکہ یارن ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری کا بنیادی اور اہم خام مال ہے۔ اس کے ساتھ سائزنگ اور ویونگ سیکٹر یارن کی کمی کے باعث اپنا کام جاری نہیں رکھ سکیں گے اور ٹیکسٹائل پروسیسنگ کی طرح اس سیکٹر کے مزدور بھی بے روزگاری کا سامنا کرنے پر مجبور ہوں گے اور ورکرز کے ساتھ منسلک کرڑوروں افراد کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو جائیں گے۔ ان صنعتوں سے متعلقہ ڈائیز و کیمیکلز، فاؤ نڈری، پیکنگ ،مشینری ، مینٹینس، Oil & Lubricant اور ٹیکسٹائل پروسیسنگ انڈسٹری سے وابسطہ ہر طرح کی انڈسٹری ،کاروبار اور متعلقہ تمام شعبے شدید متاثر ہونگے۔

چوہدری حبیب احمد نے کہا کہ ٹیکسٹائل صنعت کے یارن سیکٹر کو نوازنے کیلئے دوسرے ٹیکسٹائل ویلیو ایڈڈ سیکٹرز کو تباہ کر دینا انصاف نہ ہوگا، اس کے مضر اثرات کا کسی کو اندازہ ہی نہیں کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سے متعلقہ اداروں کے مالکان اور مزدور اس صورت میں بے چینی کا شکار ہو گئے ہیں اور حکومت نے فی الفور کوئی ایکشن نہ لیا تو اس سے امن وامان کے مسائل بڑھیں گے۔ صنعتی اور تاجر برادری نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس بارے میں کوئی جامع پالیسی بنائی جائے تاکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ویلیو ایڈڈ سیکٹر کو فروغ دے کر ملکی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جاسکے ۔ اور حکومت کو چائیے کہ اس بارے میں تمام ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سکیڑز سے مشاورت کی جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں