عوامی لیڈر، بے مثال قائد …ذوالفقار علی بھٹو!


ازقلم ، ڈاکٹر میاں عدیل عارف

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ہم سے بچھڑے 40سال بیت گئے مگر ذوالفقار علی بھٹو کی یادوں کے چراغ آج بھی پاکستانی قوم کے دلوں میںروشن ہیں اور ہمیشہ رہیں گے،قیام پاکستان سے لیکر آج تک سیاسی سٹیج پر بہت سے سیاسی اداکار آئے اور اپنا اپنا کردار ادا کر کے جاتے رہے۔ قائد اعظم کے بعد ذوالفقار بھٹو تھے جن کو عوام میں پذیرائی ملی۔ ذوالفقار بھٹو5 جنوری 1928 کو صوبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد کانام شاہ نواز بھٹو تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو تینوں بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ آپکی مادری زبان سندھی تھی۔ آپ کے والد سر شاہ نواز خان بھٹواپنے دور میں حکومتی سطح پر ایک مقام رکھتے تھے اسی لیے اس دور کی انگریز حکومت نے ان کی خدمات پر انہیں سر کے اعزاز سے نوازا تھا۔

یاد رہے انگریز حکومت سر کا خطاب انہیں دیتی تھی جنکی خدمات ان سے مشروط ہوں۔ آپ کی والدہ کا نام خورشید بیگم تھا ،آپ کے والد سندھ کے جاگیرداروں میں شامل ہوتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ابتدائی تعلیم بمبئی کے کیتھڈرل سکول سے حاصل کی۔ اس کے بعد 1950میں برکلے یونیورسٹی کیلیفورنیا سے سیاسیات کی ڈگری حاصل کی اور 1952 میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے اصولِ قانون میں ماسٹرز کیا، تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے کراچی میں وکالت کا آغاز کیا اورایس ایم لا کالج میں بین الاقوامی قانون پڑھانے لگے،

انہوں نے سیاست کا آغاز1958میں کیا اور پاکستان کے پہلے آمرفیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کے دورِحکومت میں وزیرتجارت، وزیراقلیتی امور، وزیرصنعت وقدرتی وسائل اوروزیرخارجہ کے قلمدان پرفائز رہے، ستمبر1965 میں انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کا موقف بڑے بھرپورانداز سے پیش کیا۔ جنوری 1966 میں جب صدر ایوب خان نے اعلانِ تاشقند پردستخط کیے تو ذوالفقارعلی بھٹو انتہائی دلبرداشتہ ہوئے اور اسی برس وہ حکومت سے علیحدہ ہوگئے۔ انہوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مسئلہ کشمیر کو مرکزی حیثیت دی تھی۔ قائد عوام نے دسمبر 1967میں پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھی، جو بہت جلد پاکستان کی مقبول ترین سیاسی جماعت بن گئی۔عوامی جلسوں میں عوام کے لہجے میں خطاب انہی کا خاصا تھا،1970کے عام انتخابات میں پیپلزپارٹی نے مغربی پاکستان جبکہ شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں نمایاں کامیابی حاصل کی، اقتدار کے حصول کی اس لڑائی میں نتیجہ ملک کے دوٹکڑوں کی صورت میں سامنے آیا۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد وہ 1971 میں پاکستان کے صدر اورپھر 1973 میں پاکستان کے وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے۔

ملک کے دولخت ہونے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دورِاقتدار میں بے پناہ کارنامے انجام دیئے، انہوں نے 1973میں ملک کو پہلا متفقہ آئین دیا، یہی نہیں ان کے دور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس کوآج بھی ان کی بڑی کامیابی قرار دیا جاتا ہے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع کرنے کا سہرا ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔بات اسلامی دنیا کو اکٹھا کرنے کی ہو یا ملک کو متفقہ آئین دینے کی، ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے ہی انداز میں سیاست کی اور آمر کے سامنے سر جھکانے سے زیادہ جمہوریت اور عوام کی خاطر مقتل کو ترجیح دی۔پیپلزپارٹی کا دورِ حکومت ختم ہونے کے بعد انیس سو ستتر کے عام انتخابات میں دھاندلی کے سبب ملک میں حالات کشیدہ ہوئے، جس کے نتیجے میں پانچ جولائی 1977کو جنرل ضیا الحق نے مارشل لا نافذ کردیا۔ ملک میں ہونیوالے مظاہروں کے نتیجے میں قائد ِعوام کو دوبار نظر بند کرکے رہا کیا گیا تاہم بعدازاں ذوالفقارعلی بھٹو کو قتل کے ایک مقدمہ میں گرفتار کرلیا گیا اور 18 مارچ 1977 کو انہیں اس قتل کے الزام میں موت کی سزا سنادی گئی۔ذوالفقارعلی بھٹو نے اس سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی، جس میں تین ججوں نے انہیں بری کرنے کا اور تین ججوں نے انہیں سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا۔پاکستانی سیاست کے افق کے اس چمکتے ستارے کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں 4اپریل 1979کو پھانسی دیدی گئی اورہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ا یک روشن چراغ سے محروم ہو گئے ،مگر آج بھی لوگ بھٹو سے دیوانہ وار محبت کرتے ہیں آج بھی اس کی یادوں کے چراغ عوام کے دلوں میں روشن ہیں جبکہ بھٹو کو تختہ دار تک پہنچانے والے بھولی بسری داستان کا حصہ بن چکے ہیں۔قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد شہید ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو ایسے لیڈر تھے جنہو ں نے بے شمار قربانیاں دے کر پاکستان کو نا قابل تسخیر بنایایہ وہ لیڈر ہیں جن کا نام آج بھی پاکستانی قوم کے دلوں میں زندہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں