ٹیلنٹ کی بےعزتی کرنا کوئی ہم سے سیکھیے (تحریر : یاسررسول)

عارف والا کے رہائشی ریڑھی بان محمد فیاض نے جہاز تیار کرلیا ہے، ماشاءاللہ۔ فیاض کی تعلیم انڈر میٹرک ہے لیکن جہاز بنانے اور اڑانے کے شوق نے اسے ایک بڑا انجنیئر بنادیا ہے۔ لیکن بدقسمتی کہ فیاض کے ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے مقامی پولیس نے الٹا اسکے خلاف مقدمہ درج کردیا اور تو اور عدالت نے بھی ڈی گریڈ کرتے ہوئے اسکا بنایا جہاز تحویل میں لیکر 3 ہزار کا جرمانہ بھی کردیا۔

قسم سے اس مقامی پولیس اور عدالت کو اکیس توپوں کے آگے باندھ کر سلامی دینے کا دل کر رہا ہے۔اب جہاز مقامی تھانے میں خراب ہورہا ہے کوئی پوچھنے والا ہی نہیں، پولیس والے جہاز پر چڑھ کر اسکے ساتھ سیلفیاں لیکے اسکا کباڑا بنا ریے ہیں۔

یہ ہے اس ملک میں ٹیلنٹ کی قدر ؟

ٹیلنٹڈ جوان “محمد فیاض” نے آرمی چیف جنرل باجوہ سے اپیل کردی ہے کہ اس کا جہاز واپس دلوایا جائے۔

ہمارے ملک میں ہمیشہ ٹیلنٹ کو اسی طرح ڈی گریڈ کیا جاتا ہے اسکی وجہ کیا ہے؟

یہاں فیاض جیسے ٹیلنڈ لوگوں کو پاگل، بیوقوف، کھر دماغ اور پتا نہیں کیسے کیسے القابات سے نواز کر بےعزتی کی جاتی ہے جبکہ انگریزوں میں ایسے ہی ٹیلنٹڈ پاگل نظر آئیں تو انہیں آئن سٹائن، نیوٹن اور سٹیفن ہاکنگ کی طرح ہیرو بناکر ان کے ٹیلنٹ سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گورے دن دگنی رات چگنی ترقی کرتے ہیں اور ہم اپنے ٹیلنڈ نوجوانوں کو بیروزگار چھوڑ کر پھر کہتے ہیں ملک ترقی کیوں نہیں کر رہا۔

ہمیں آلو پر اللہ کا نام ڈھونڈنے سے فرصت ملے تو کائنات کی کھوج لگانے کا کام بھی کرنا چاہیے لیکن پہلے اپنے اردگرد محمد فیاض جیسے ٹیلنٹڈ جوانوں کی حوصلہ افزائی کرنا سیکھیے۔ پتا نہیں کتنے ٹیلنٹڈ جوان نوکری نہ ملنے کی وجہ سے ہیرونچی بن گئے کتنوں نے خودکشی کرلی مگر ہمارے سیاسی حکمران نواز زرداریوں کو کوئی فرق نہیں پڑا کیونکہ ان کے خزانے دن دگنی رات چگنی رفتار سے بڑھتے جارہے تھے۔

“محمد فیاض” جیسے بیشمار ٹیلنٹ اس ملک میں بیروزگار پھر رہے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں کیونکہ ہمارے سیاسی حکمرانوں نے ملک میں رشوت خوری عام کر رکھی ہے۔ آپ میں کتنا بھی ٹیلنٹ ہو آپکو نوکری نہیں ملتی لیکن اگر کوئی کتنا ہی اول نمبر کا گدھا ہو، بو ساتھ میں دو لاکھ رشوت دے رہا ہو تو اسکی نوکری فورا پکی ہوجاتی ہے۔ ایسا کیوں ہورہا ہے میرے وطن میں ؟

ایسا اس لیے ہورہس ہے کیونکہ ہمارے نواز زرداری جیسے سیاسی لیڈران نے اوپر سے لیکر نیچے تک اپنے کرپٹ سیاسی کارکان اعلی سرکاری عہدوں پر بھرتی کیے ہوئے ہیں جن کا منشور ملکی ترقی نہیں بلکہ صرف اور صرف زیادہ سے زیادہ پیسہ بنانا ہوتا ہے اس لیے وہ ٹیلنٹ والوں کے بجائے رشوت دینے والوں کو ترجیع دیتے ہیں۔ نتیجہ ملک ترقی نہیں کرتا اور فیاض جیسے ٹیلنٹڈ جوان جہاز بنانے کے بجائے ریڑھی لگاکر گمنام زندگی گزار دیتے ہیں۔

ہمیں اس سوچ کو بدلنا ہوگا !

اس مقصد کے لیے ہمیں تعلیم عام کرنی ہوگی، تعلیم یافتہ ہوں گے تو شعور آئے گا پھر ہمیں معلوم ہوگا کہ کہاں کہاں ہمارا نام نہاد سیاسی لیڈر ہمارے ساتھ ہاتھ کرکے لنڈن دبئی میں ہمارے ہی پیسوں سے محلات بنا رہا ہے۔ پھر ہم رشوت خوروں کا گھیرا تنگ کرکے انہیں دوسروں کے لیے عبرت کا نشان بناسکیں گے تاکہ ان سے عبرت حاصل کرکے کسی اور میں رشوت لینے کی ہمت نہ رہے اور اس سب ڈے ہٹ کر اگر آپ بھی رشوت دیکر نوکری لینا چاہتے ہیں یا رشوت دیکر نوکری حاصل کرچکے ہیں تو پھر اپنے آپ پر خود لعنت بھیجیے۔ اس ملک کے اصل غدار آپ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں