آنیوالی نسلوں کو جدید اور منظم شہر دینے کی پلاننگ کرنے کا عزم ، کمشنر محمود جاوید بھٹی

فیصل آباد (ویب ڈیسک) آنے والی نسلوں کو ایک جدید، منظم، مربوط اور متحرک صنعتی و تجارتی شہر دینے کیلئے اس شہر کے باسیوں کو مستقبل کے فیصل آبادکی ماسٹر پلاننگ میں انتہائی فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہ بات ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی نے آج فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیائی طور پر دو دریاؤں کے درمیان واقع یہ پاکستان کا محفوظ ترین اور سب سے بڑا ضلع ہے۔ اس نے جس تیزی سے ترقی کی ہے اس کی وجہ سے مسائل کا پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔ تاہم اب مقامی لوگوں کو اس شہر کی ” اونرشپ”کو قبول کرتے ہوئے فیصل آباد ترقیاتی ادرہ اور میونسپل کارپوریشن سمیت دیگر اداروں سے مل کر جامع حکمت عملی طے کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں اس وقت فیصل آباد کا سب سے بڑا مسٔلہ جامع ماسٹر پلان کی تیاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں کمشنر کے منصب کا چارج سنبھالے چند روز ہی ہوئے ہیں ۔ ابھی انہیں اس شہر کی سڑکوں کے نام بھی یاد نہیں تاہم وہ تاجر برادری کی طرف سے اٹھائے جانے والے ٹریفک، سڑکوں کی فوری مرمت، تجاوزات، نکاسی آب اور پارکنگ سمیت دیگر مسائل کو حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

سڑکوں کی مرمت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ پانی کھڑا رہنے سے ہوئی ہے ۔ ہمارے موسم تبدیل ہو رہے ہیں۔ اس لئے معمول سے زیادہ بارشیں ہونگی اس لئے سڑکوں کو مستقل توڑ پھوڑ سے بچانے کیلئے نکاسی آب کا مربوط نظام ضروری ہوگا۔ تجاوزات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ تجاوزات لوگ کرتے ہیں۔ متعلقہ ادارے بھی نیم دلی سے ان کو ہٹاتے ہیں لہٰذا اس سلسلہ میں کوئی ایسا مستقل درمیانی راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے جس سے سڑکوں پر بلا تعطل ٹریفک بھی رواں رہے اور کوئی شخص جائز کاروبار سے بھی محروم نہ ہو۔ پارکنگ پلازوں کی تعمیر کے حوالے سے کمشنر نے کہا کہ چند روز قبل ہی انہوں نے چنیوٹ بازار کے باہر زیر تعمیر پارکنگ پلازے کا معائنہ کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر کے بعد انہوں نے بھی اس سلسلہ میں چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سے ملاقات کی ہے انہوں نے یقین دلایا ہے کہ پنجاب حکومت اس کیلئے وسائل مہیا کرے گی اور اس مقصد کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں فنڈ مختص کئے جائیں گے۔ پنجاب حکومت یہ رقم بطور قرض دے گی جسے بعد میں اس سے ہونے والی آمدن کے ذریعے واپس کیا جائیگا۔ انہوں نے تاجروں سے کہا کہ وہ مزید پلازوں کی تعمیر کیلئے بھی جگہ کی نشاندہی کریں لیکن ان کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت شروع کیا جائیگا ۔ سکولوں کے اردگر درش کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انہوں نے آج ہی متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی میٹنگ بلانے کی ہدایت کی ہے تاہم ان کا خیال ہے کہ ہر بچہ سکول گاڑی میں نہ آئے۔ سکول سے دور ایک جگہ پر گاڑی بچے کو چھوڑ دے جہاں سے بس کے ذریعے بچوں کو سکول پہنچایا جائے۔ انہوں نے تبدیل ہونے والے کمشنر آصف اقبال چوہدری کا ذکر کیا اور کہاکہ وہ ان کے شروع کئے جانے والے کاموں کو آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے سپورٹس، ماحولیات اور شجرکاری کے سلسلہ میں جو کمیٹیاں قائم کی تھیں وہ بھی ان سے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھیں گے تا ہم لوگوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے جائز مسٔلے حل کرانے کیلئے انہیں استعمال کریں۔ انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد رچنا دوآبہ میں قائم کیا گیا تھایہاں کوئی پینے والے صاف پانی کی قلت کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا لیکن آج ہمیں یہاں بھی فلٹریشن پلانٹ لگانے پڑ رہے ہیں۔ ایم تھری انڈسٹریل سٹی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ موجودہ شہر سے بہت بڑا نیا شہر ہوگا تاہم ہمیں اس کے مستقبل کے مسٔلوں کے حل کیلئے واضح حکمت عملی طے کرنا ہوگی۔ انہوں نے پاور لومز مالکان اور مزدوروں کے مسائل کے حل پر بھی زور دیا ار کہا کہ کمرشلائزیشن کمیٹی کا اجلاس بھی جلد بلایا جائیگا۔

اس سے قبل صدر سید ضیا علمدار حسین نے بتایا کہ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ممبران کی تعداد سات ہزار ہے اور یہ ادارہ گزشتہ 44 سالوں سے بزنس کمیونٹی کے مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ ٹیکسٹائل اس شہر کی پہچان ہے مگر دوسرے شعبے بھی ملکی معیشت میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے فیصل آباد کے سرکردہ اور بڑ ے اداروں کا ذکر کیا اور بتایا کہ 4300 ایکڑ پر ایم تھری انڈسٹریل سٹی بسایا جا رہا ہے جبکہ اس میں اضافہ کیلئے مزید 3300 ایکڑ رقبہ حاصل کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی مجموعی برآمدات میں یہ شہر براہ راست یا بالواسطہ طور پر 50 فیصد کا حصہ ڈال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ فیصل آباد نے تیزی سے ترقی کی اس لئے اس کو بعض مسائل بھی درپیش ہیں جن کو فوری طور پر حل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے فیصل آباد کے صنعتی کلسٹرز کو باضابطہ صنعتی علاقے قرار دینے پربھی زور دیا اور کہا کہ اس سلسلہ میں قائم کمیٹی نے چار علاقوں کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کی سفارش کر دی ہے ۔ لہٰذا اس سلسلہ میں نوٹیفیکیشن فوری جاری کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ صنعتی مزدوروں کو طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے مزید ہسپتالوں کی ضرورت ہے۔ صوبائی وزیر محنت عنصر مجید نے کھرڑیانوالہ اور ملت روڈ پر چھوٹے ہسپتال بنانے کا یقین دلایا ہے مگر ابھی تک عملی اقدامات نہیں اٹھائے جا سکے۔ فیصل آباد چیمبر کی دیگر خدمات کے حوالے سے سید ضیا علمدار حسین نے بتایا کہ تاجروں نے ڈیم فنڈ کیلئے سو ا کروڑ روپے کے عطیات دیئے۔ اس طرح کھیلوں کی مختلف تقریبات کے سلسلہ میں بھی چیمبر نے بھرپور تعاون کیا۔ انہوں نے فیصل آباد سے براہ راست فضائی پروازوں سے سلسلہ میں کی جانے والی کوششوں کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ صرف فیصل آباد سے منافع بخش روٹس پر پروازیں چلا کر پی آئی اے اپنا ساڑھے سات ملین کا خسارہ کم کر سکتا ہے۔ انہوں نے ایم تھری انڈسٹریل سٹی میں 70 ایکڑ پر تعمیر کئے جانے والے مجوزہ ایکسپو سنٹر کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ اس کیلئے زمین پنجاب حکومت دے گی جبکہ وفاقی حکومت اس کی تعمیر کیلئے 3 ارب روپے دے گی۔ انہوں نے بتایا کہ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی 25 اپریل کو فیصل آباد آرہے ہیں جس کے دورن ایکسپو سنٹر کی تعمیر کیلئے ایک مفاہمتی یاد داشت پر بھی دستخط ہونگے۔ صوبائی اسمبلی کے رکن اور پی ایچ اے کے چیئرمین لطیف نذر نے بھی خطاب کیا اور بتایا کہ سڑکوں کے پیچ ورک کیلئے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور توقع ہے کہ یہ کام چند روز تک شروع ہو جائیگا۔ انہوں نے تاجروں سے کہا کہ وہ اپنے مسائل کے حل کیلئے ان سے رابطہ رکھیں تا کہ اس سلسلہ میں قانون سازی کی جا سکے۔ آخر میں میاں جاوید اقبال نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کمشنر اور چیمبر کے درمیان مستقل رابطوں کیلئے ایک رابطہ کمیٹی قائم ہونی چاہیئے انہوں نے فیصل آباد کی مصنوعات کی موثر تشہیر کیلئے ہر سال فیصل آباد ڈے منانے کی بھی تجویز پیش کی۔ آخر میں میاں جاوید اقبال اورصدر سید ضیا علمدار حسین نے دوسرے ممبران کے ہمراہ کمشنر محمود جاوید بھٹی کو جبکہ مس قراۃالعین نے چیئرمین پی ایچ اے لطیف نذرکوفیصل آبادچیمبر کی اعزازی شیلڈز پیش کیں ۔ اس سے قبل سوال و جواب کی نشست ہوئی جس میں رانا سکندر اعظم، جواد اصغر، اسلم بھلی، شاہد ممتاز باجوہ، میاں گلزار احمد، ثناء اﷲ خاں نیازی، تنویر ریاض، یعقوب اعوان، ذوالفقار علی، عامر نثار، حاجی محمد رفیع، چوہدری محمد نواز اورمس قراۃالعین نے بھی حصہ لیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں