موبائل اور دیگر ڈیجیٹل آلات کا استعمال موٹاپے پر کتنے اثرات رکھتے ہیں؟؟ نئی تحقیق

موٹاپا انسانی زندگی کے آغاز کےساتھ ہی شروع ہو گیا تھا جو آج تک جاری ہے اور اس کی وجوہات اور اس پر قابو پانے کے لئے بھی کئی ہدایات سامنے آئے ہیں لیکن آج کل انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے اور اس دور میں بھی انسان موٹاپا کا شکار بھی پہلے سے زیادہ ہے اور اس کی وجوہات جاننے کے لئے آج بھی مختلف ادارے ریسرچ کررہے ہیں-

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک حالیہ ریسرچ میں یہ معاملا سامنے آیا ہے کہ موبائل اور کمپیوٹر آلات چلانے سے بھی انسان موٹاپا کا شکار ہو جاتا ہے تاہم پہلے کی تحقیق میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال لوگوں میں ذہنی تناؤ پیدا کرنے سمیت انہیں مایوس کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نہ صرف موبائل و کمپیوٹر آلات استعمال کرنے بلکہ اس طرح کے دیگر ڈیجیٹل میڈیا آلات کے استعمال سے بھی لوگ موٹے ہوسکتے ہیں جو ان کی صحت سے کھیلنے کے مترادف ہے اور اس حوالے سے اس عادت کو محدود کرنا ہو گا-

رپورٹس کے مطابق سائنس جرنل ’برین امیجنگ اینڈ بہیویئر‘ میں شائع تحقیق میں ماہرین نے ڈیجیٹل میڈیا کے استعمال اور اس کے جسمانی صحت پر اثرات کا جائزہ لیا ہےاور اس دوران ماہرین نے132 رضاکاروں کا ڈیجیٹل میڈیا آلات یعنی موبائل، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ و آئی پیڈ جیسے آلات کے استعمال سے ان کی جسمانی صحت پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا۔ تحقیق کے دوران ماہرین نے رضاکاروں کی ذہنی و جسمانی صحت کا جائزہ لینے کے لیے نہ صرف ان کے آیم آر آئی ٹیسٹ کیے بلکہ ان سے ڈیجیٹل میڈیا استعمال کرتے وقت ان کے خیالات سے متعلق بھی دریافت کیا۔

تیار کی رپورٹ جو اب شائع ہو چکی ہے کہ مطابق ڈیجیٹل میڈیا آلات کے استعمال کے دوران کئی گھنٹوں تک ایک ہی جگہ پر بیٹھے رہنے سے انسان کا وزن بڑھنے لگتا ہے۔ اور نئی نسل میں نئی نسل میں موٹاپے کا ایک باعث ڈیجیٹل آلات کا بہت زیادہ استعمال بھی ہے جب کہ یہی آلات نوجوانوں میں ذہنی تناؤ اور چڑچڑے پن کا باعث بھی ہیں۔

ماہرین نے والدین سے بھی سفارش کی ہے وہ اپنے بچوں کو ڈیجیٹل میڈیا اور ایسے آلات استعمال کرنے سے بچائیں اور کھانا کھاتے وقت انہیں ان تمام آلات سے پرے ہٹا دیں تاکہ وہ موٹاپے سے کچھ تو بچ سکیں –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں