خواتین کا سولو گانا آئیٹم سانگ ، لیکن اگر مرد اداکار سولو پرفارم کرے تو؟؟ نئی بحث چھڑ گئی

اداکارہ مہوش حیات کو تمغہ امتیاز کیا ملا ہے مختلف حلقوں کی جانب اسے ان پر تنقید کا سلسلہ شروع کر دیاگیا تاہم شوبز حلقوں میں مہوش حیات کو اس کا درست حق دار قراردیا گیا ہے – اب ایک مرتبہ پھر کھل کر حریم فاروق سامنے آئی ہیں جنہوں نے واضح کیا ہے کہ مہوش حیات عالمی سطح کی اداکارہ ہے اور انہیں یہ تمغہ امتیاز ملنا ان کی صلاحیتوں کا ثبوت ہے-

حریم فاروق نے مزید کہا کہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ مہوش حیات کے کردار پر سوالات اٹھانے والوں نے اس بات پر کوئی سوال نہیں اٹھایا کہ ایک خاتون کو مبینہ طور پر جنسی ہراساں کرنے والے مرد کو کیسے ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکارہ حریم فاروق نے یہ بھی سوال اٹھایا ہے کہ جب خواتین کسی فلم میں گانے پر ڈانس کرتی ہے تو ان کی پرفارمنس کو ’آئٹم سانگ‘ کہا جاتا ہے جب کہ کوئی مرد اس طرح کی پرفارمنس کرتا ہے تو اسے ’آئٹم سانگ‘ نہیں کہا جاتا۔ انہوں نے یہ اظہار خیال میڈیا فیسٹیول کے ایک ایونٹ میں پینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا .

حریم فاروق کے پوچھے گئے سوال پر کوئی بھی جواب سامنے نہیں آیا، تاہم حریم فاروق کے ساتھ پینل میں بیٹھے اداکارعثمان خالد بٹ نے کہا کہ یقینا مرد اداکار کے ایسے ڈانس کو بھی ’آئٹم سانگ‘ ہی کہا جائے گا۔ تو اس کے جواب میں حریم کا کہنا تھا کہ یہ صرف آپ کہہ رہے ہیں باقی کوئی بھی مرد کے سولو ڈانس کو ’آئٹم سانگ‘ نہیں سمجھ رہا اور درحقیقت یہی بڑا مسئلہ ہے۔

پینل نے پاکستانی صحافت اور شوبز انڈسٹری میں خواتین کے کردار، اہمیت اور افادیت پر بات کی اور کئی ایسے مسائل کو اجاگر کیا، جن پر عمومی طور پر بات نہیں کی جاتی۔

حریم فاروق کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا کہ جنسی ہراسگی کیس میں ملوث اداکار کو بھی ایوارڈ کے لئے نامزد کیا گیا تھا اس پر کسی نے کوئی توجہ نہیں دی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی کو اس حوالے سے پریشانی نہیں ہو گی-

واضح رہے کہ علی ظفر کے خلاف میشا شفیع کی جانب سے جنسی ہراسگی کا کیس ابھی زیر سماعت ہے لیکن اس کے باوجود علی ظفر کی فلم طیفا ان ٹربل کو ایوارڈز کے لئے نامزد کیا گیا اورخود علی ظفر کو بہترین اداکار کے لئے بھی نامزدگی دی گئی ہے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں