زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں 3 روزہ انٹامالوجیکل کانفرنس شروع، نئے چیلنجز پرغور

فیصل آباد(ویب ڈیسک)زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں تین روزہ بین الاقوامی انٹومالوجیکل کانگرس شروع ہوگئی۔ پاکستان انٹومالوجیکل سوسائٹی ‘شعبہ انٹومالوجی اور کورٹیوا ایگری سائنس کے اشتراک سے منعقد ہونے والی کانگریس میں پاکستان سمیت چین اور ترکی کے ماہرین انٹومالوجی کے شعبہ میں نئے چیلنجزاور ان کے دیرپا و پائیدار حل پر اپنے تحقیقی مقالے پڑھنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر ماحول دوست ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کیلئے نئے رجحانات پر بھی غور وخوض کریں گے۔ کانگریس کا افتتاحی اجلاس اقبال آڈیٹوریم میں منعقد ہوا جس کے مہمان خصوصی صوبائی وزیرسوشل ویلفیئر و بیت المال چوہدری محمد اجمل چیمہ تھے جبکہ غازی یونیورسٹی ڈی جی خاں کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد طفیل ‘ یونیورسٹی آف سرگودھا کے وائس چانسلرڈاکٹر محمد افضل اور کوٹلی یونیورسٹی کے وائس چانسلرڈاکٹر دلنواز گردیزی نے مہمانان اعزازکے طو رپر سیشن میں شرکت کی۔

مہمان خصوصی کے طو رپر اپنے خطاب میں صوبائی وزیربیت المال و سوشل ویلفیئر چوہدری اجمل چیمہ نے کہا کہ ہمیں دوسری زرعی اجناس کے ساتھ ساتھ خوردنی تیل‘ زیتون ‘فصلات کے بیجوں اورکراپ پروٹیکشن کیلئے استعمال کئے جانیوالے کیمیکلز میں بھی خود کفیل ہونا ہوگا جس کیلئے ماہرین کو اپنی صلاحیتوں کواستعمال میں لانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے قومی معیشت کے تمام شعبہ جات میں سامنے آنے والی آراءو تجاویز پر سنجیدگی سے غور کرے گی تاکہ ہم سب اس ملک کی خوشحالی اور ترقی کیلئے حصہ دار بن سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان ہمیشہ سے نئے آئیڈیاز کوپسند کرتے ہیں اور یونیورسٹی قیادت کی طرف سے دی جانیوالی تجاویز وہ یقینا ان تک پہنچائیں گے۔

استقبالیہ خطاب میں یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر ظفر اقبال رندھاوا نے تحفظ پیداوار کے ماہرین پر زور دیا کہ وہ پیداوار کو نقصان دینے والے کیڑوں کے ساتھ ساتھ دوسرے مفید کیڑوں کی تلفی روکنے کیلئے ایسی حکمت عملی متعارف کروائیں جس سے صرف اہداف کو ہی نشانہ بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ ماہرین کو فصلوں پر زہریلے کیمیکلزکے استعمال میں دوست کیڑوں اورانسانی صحت کوپہنچنے والے نقصا ن کوگرفت میں لاتے ہوئے حیاتیاتی تنوع کویقینی بنانے کی راہ ہموار کرنا ہوگی تاکہ ماحول دوست ٹیکنالوجی کے ذریعے قدرت کی پیداکردہ خوبصورتیاں متاثر نہ ہونے پائیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹیوں میں ایسی قیادت لانے کی کوشش کی جائے جو تمام حوالوں سے قائدانہ صلاحیت کی حامل ہواور جامعات کے ایکٹ میں ضروری تبدیلیاں لاکر وائس چانسلرزمنتخب کرنے کے طریقہ کارکو بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہر سال اربوں ڈالرکا خوردنی تیل‘ فصلوں کے بیج ‘کراپ پروٹیکشن کیمیکلزاور مختلف بیماریوں سے بچاﺅ کیلئے ویکسین درآمد کرتا ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ ان درآمدات میں نمایاں کمی کیلئے پاکستانی سائنس دانوں کی صلاحیتوں پر بھروسہ کرکے انہیں ایٹمی ٹیکنالوجی میں کام کرنیوالے سائنس دانوں جیسا ماحول اور وسائل فراہم کئے جائیں توکوئی وجہ نہیں کہ وہ چند ہی برسوں میں درآمدی بل میں نمایاں کمی وقوع پذیر نہ کر سکیں۔ انہوں نے اپنے فلسفے کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تحقیق طلب اُمور کی ترجیحات مقرر کرکے سائنس دانوں سے اہداف کے حصول کے ضمن میں پیشکشیں طلب کرتے ہوئے کم وسائل میں ٹارگٹ حاصل کرنیوالی ٹیم کو سرمایہ اور مطلوبہ ماحول مہیا کرے اور اخراجات کے بجائے ان کا پرفارمنس آڈٹ کرے تووہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستانی سائنس دان ضرور حیرتیں تخلیق کریں گے۔

انہوں نے حکومت کے نیا پاکستان ہاﺅسنگ پروگرام کو سراہتے ہوئے پیشکش کی کہ وہ صوبائی حکومت کو شہر کے اندرکثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر کیلئے زمین دینے کےلئے مشروط طو رپر تیار ہے کہ اس میں خواہش مند یونیورسٹی ملازمین کیلئے بھی کوٹہ مختص کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ کلیہ جات کی سطح پر ایلومنائی سپورٹ فنڈ کا قیام عمل میں لا رہے ہیں تاکہ یونیورسٹی سے گریجوایٹ ہونیوالوں کو اپنی مادرِ عملی سے روابط بڑھانے اور اس کیلئے کچھ کرنے کا پلیٹ فارم مہیا کیا جا سکے۔

انہوں نے سابق طلبہ کو پیشکش کی کہ اگر وہ یونیورسٹی کی کسی بلڈنگ‘ کوری ڈوریا ہاسٹل کومخصوص عرصہ کیلئے اپنے یا کسی پیارے کے نام سے موسوم کرتے ہوئے اس کی بہتری کیلئے وسائل فراہم کریں تو یونیورسٹی اس کا خیرمقدم کرے گی۔انہوں نے کانگریس کے منتظمین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گزشتہ چالیس برسوں کے دوران انٹومالوجی میں اس سطح کا پروگرام نہیں دیکھا جس کیلئے وہ تمام انتظامی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں کروڑوں روپے کے سائنسی آلات باصلاحیت ٹیکنیشنزنہ ہونے کی وجہ سے ناکارہ ہورہے ہیںلہٰذا وہ چاہتے ہیں کہ مستقبل قریب میں پی ایچ ڈی سکالرشپس کے بجائے ٹیکنیکل سٹاف کی بیرون ملک تربیت کیلئے وسائل فراہم کئے جائیں تاکہ مہنگے سائنسی آلات کے پوری طرح استفادہ کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھاکہ یونیورسٹی حکومت کی سفارش اور تربیتی وسائل کی فراہمی پرسینکڑوں نوجوانوں کو ایسی تربیت فراہم کر سکتی ہے جس کے بعد وہ نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرون ملک بھی پرکشش ملازمت اور اپنا کاروبار شروع کرنے کے قابل بن سکیں گے۔

اس موقع پر پاکستان انٹومالوجیکل سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر حافظ عبدالقیوم نے جامعہ زرعیہ کے تعارف اور بین الاقوامی سطح پر اس کی شناخت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ اس یونیورسٹی میں انٹومالوجی کی تعلیم 1918ءسے دی جا رہی ہے اس شعبہ کے ایک سپوت میاں افضل حسین کو پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلربننے کا اعزاز بھی حاصل ہے جبکہ پنجاب زرعی یونیورسٹی لدھیانہ کے دو درجن سے زائد وائس چانسلربھی اسی مادر ِ علمی کے گریجوایٹ تھے۔کانگریس کے افتتاحی سیشن سے شعبہ کے چیئرمین ڈاکٹر منصور الحسن ساہی‘ ڈاکٹر سہیل احمد‘ ڈاکٹر وسیم اکرم‘ ڈاکٹر جلال عارف‘ ڈاکٹر ثمینہ نذیر‘ ڈاکٹر وقاص وکیل‘ ڈاکٹر عابد علی و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں