زرعی یونیورسٹی میں ماڈل کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ بلڈنگ کا سنگ بنیاد ، چینی سفیر نے اینٹ لگائی

فیصل آباد(ویب ڈیسک)پاکستان میں متعین چینی سفیر مسٹر یاﺅ چنگ نے کہا ہے کہ مستقبل قریب میں وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین کے دوران دوسرے شعبوں کے ساتھ ساتھ زرعی ترقی کے فروغ میں اہم اور غیرمعمولی پیش رفت ہوگی جس کیلئے چینی حکومت اور عوام پاکستانی قیادت کے دورہ چین کے شدت سے منتظر ہیں۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے اقبال آڈیٹوریم میں انٹومالوجیکل کانگریس اور بعدازاں یونیورسٹی میں ماڈل کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ بلڈنگ کا سنگ بنیاد رکھنے اور چین کی دو جامعات چی چانگ یونیورسٹی کے کالج آف ایگرکلچرو بائیوٹیکنالوجی اور ہوبے اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف پلانٹ بروٹیکشن و سائل سائنس کے جامعہ زرعیہ کے ساتھ باہمی تعاون کے معاہدے کی تقریب سے خطاب کے دوران چینی سفیر نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی قیادت کے ساتھ یہاں پاک چائنہ ایگریکلچرل ڈسپلے سنٹر کے قیام کی تجویز بھی سامنے آئی ہے جسے جلد ہی عملی جامہ پہنانے کیلئے راہ ہموار کی جا ئے گی۔

انہوں نے کاکہ مجوزہ ڈسپلے سینٹر کے ذریعے پاکستان میں فارم میکانائزیشن اور زراعت کومنافع بخش پیشہ بنانے کے حوالے سے جدید اور سستی ٹیکنالوجی متعارف کروائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چینی حکومت پاکستانی اداروں کے ساتھ ماہرین اور نوجوانوں کے باہمی تبادلوں اور چینی جامعات میں اعلیٰ تعلیم کیلئے مزید سکالرشپس کی پیشکش کرنے جا رہی ہے جس سے دونوں حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کی سطح پر بھی تعلقات میں مزید گہرائی اور گرمجوشی پیدا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی زراعت کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے اور دونوں ممالک کے مابین مجوزہ زرعی شراکت داری سے مشترکہ اہداف اور چیلنجز سے نبردآزما ہونے کیلئے ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے پہلے دورہ چین کے دوران چینی قیادت کے ساتھ زرعی شعبہ میں تعاون پر ورکنگ گروپس کی تشکیل کے بعد جوائنٹ فریم ورک ایگریمنٹ تیار کیا جا رہا ہے جو دونوں ممالک کی زرعی ترقی اور خوشحالی کیلئے اہم بنیاد ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ جان کر انتہائی مسرت ہوئی ہے کہ چین کی 29جامعات زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ساتھ باہمی تعاون کے فروغ میں شراکت دار ہیں اور وہ توقع رکھتے ہیں کہ مستقبل قریب میں یہ مزید وسیع ہوگی۔انہوں نے کہا کہ وہ زرعی یونیورسٹی اور چینی جامعات میں قریبی تعلقات اور باہمی تعاون کو مزید پھلتا پھولتا دیکھنے کے آرزو مند ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہرچند دونوں ممالک اپنی غذائی ضروریات سے زیادہ زرعی اجناس کی پیداوار حاصل کر رہے ہیں تاہم نچلی سطح پر ویلیو ایڈیشن اور پراسیسنگ کے فروغ دے کسان کی آمدنی میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

ریلوے کے پارلیمانی سیکرٹری میاں فرخ حبیب نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان غربت ختم کرنے کے حوالے سے چینی ماڈل سے بے حد متاثر ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاکستان میں روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنے کیلئے زراعت سے اہم کوئی شعبہ نہیں لہٰذا ان کے آئندہ دورہ چین کے دوران دوسرے شعبوں کے ساتھ ساتھ زراعت میں باہمی تعاون کو نئی بلندیوں سے ہمکنار کرنے کے سلسلہ میں اہم پیش رفت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ملک میں ایسی زرعی ترقی کے خواہش مند ہیں جس سے دیہی سطح پر لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہو اور غربت ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ چین دنیا میں تیزی سے ترقی کرنے والا ملک ہے اور عمران خان کے گزشتہ دورہ چین کے دوران سال 2019ءکو دونوں ممالک کے مابین زرعی تعاون کی مضبوط بنیاد سے تعبیر کیا تھا لہٰذا وہ سمجھتے ہیں کہ امسال چین کے ساتھ جوائنٹ فریم ورک ایگری منٹ پر دستخط کے بعد پاکستانی زراعت پائیدار ترقی سے ہمکنار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ چین نے گزشتہ دہائیوں کے دوران 70کروڑ لوگوں کو غربت سے نجات دلاکر اپنے پیروں پر کھڑا کیاجو معاشی شعبہ میں انسانی تاریخ کی سب ے بڑی کامیابی ہے۔

یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر ظفر اقبال رندھاوا نے کہا کہ ہرچند ممالک کے مابین باہمی تعلقات میں بڑی دلچسپی ہمیشہ قومی مفاد ہوتا ہے تاہم پاکستان اور چین کے خوشگوار اور گہرے تعلقات پوری دنیا کیلئے ایک روشن مثال سے تعبیر کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی نے 31چینی جامعات کے ساتھ باہمی تعاون کے سمجھوتے کررکھے ہیں جن میں شراکت داری کے مزید مواقع اور پہلو تلاش کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ارب ہا ڈالروں کی فنڈنگ آئی اور سینکڑوں پراجیکٹ شروع کئے گئے لیکن بدقسمتی سے عوام کے معیار زندگی پر ان کا کوئی مثبت اثر نہیں پڑ سکا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مقابلہ میں دوسرے ممالک نے بچت اور وسائل کا بہترین استعمال کرکے ترقی کی بنیاد ڈالی لیکن آج خوش قسمتی سے اس ملک کو عمران خان جیسا زیرک اور ویژن رکھنے والا قائد نصیب ہوا ہے جو اسے ترقی کے ساحل مراد سے ضرور ہمکنار کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ہم اس ملک اور اداروں میں کوئی ایسا سسٹم وجود میں نہیں لا سکے جو شخصیات کے ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر اداروں کو صحیح معنوں میں آگے بڑھانے کاباعث بنا ہو۔ تقریب میں ڈین کلیہ زراعت ڈاکٹر محمد اسلم خاں‘ پاکستان میں سی پیک کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر صفدر‘ لاہور میں چینی قونصل جنرل ‘ کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے ڈین ڈاکٹر چو چانگ منگ‘ پاکستانی ڈین ڈاکٹر اشفاق احمد چٹھہ‘ ڈائریکٹر بیرونی روابط ڈاکٹر رشید احمد‘ڈاکٹر منصور الحسن ساہی‘ ڈاکٹر وسیم اکرم‘ ڈاکٹر سہیل احمد‘ ڈاکٹر وقاص وکیل‘ ڈاکٹر عابد علی‘ ڈاکٹر محمد صغیر‘ ڈاکٹر دلدار گوگی‘ ڈاکٹر فہد رسول ‘ رجسٹرار چوہدری محمد حسین‘ یونیو رسٹی کے ڈینز و ڈائریکٹرزبھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں