علی ظفر اور میشا شفیع ہراسگی کیس کا نیا موڑ، لاہور ہائیکورٹ نے کیا حکم جاری کردیا؟؟

گلوکارہ میشا شفیع کی جانب سے الزامات عائد کئے گئے تھے کہ گلوکار اور اداکار علی ظفر نے انہیں ہراساں کیا ہے جس کے بعد یہ کیس لاہور کی سیشن عدالت میں زیر سماعت رہا جبکہ گزشتہ ماہ لاہور کی سیشن عدالت نے کیس کی آخری سماعت میں کہا تھا کہ کیس کا فیصلہ
15 اپریل تک سنا دیا جائے گا –

لیکن گلوکارہ میشا شفیع کی جانب سے سیشن کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف لاہورہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ہے جس نے فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا ہے کہ سیشن کورٹ علی ظفر اور میشا شفیع کا فیصلہ 90 دن میں ہر صورت نمٹائے-

میڈیا رپورٹس کے مطابق گلوکارہ میشا شفیع کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ سیشن کورٹ کی جانب سے 15 دن میں فیصلہ سنانا حقائق کے برعکس ہے۔ ساتھ ہی اداکارہ نے درخواست میں عدالت سے استدعا کی تھی کہ انہیں کیس میں گواہان پیش کرنے کی مہلت دی جائے۔ اوراس درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس مسعود جہانگیر نے کیس کی سماعت کی۔

عدالت نے گلوکارہ کی درخواست پر سیشن کورٹ کو حکم دیا کہ وہ کیس کا فیصلہ 90 دن میں سنائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس 19 اپریل 2018 کو میشا شفیع نے اس مہم کے تحت ایک ٹوئٹ کے ذریعے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں ساتھی گلوکار علی ظفر نے متعدد بار ہراساں کیا۔ الزامات کے مطابق علی ظفر نے ایسے وقت میں جنسی طور پر ہراساں کیا، جب وہ خود کفیل اور معروف گلوکارہ و اداکارہ کے ساتھ ساتھ 2 بچوں کی ماں بھی تھیں۔ انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر کئی سال تک خاموشی اختیار کی تاہم اب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے، جس کی وجہ سے وہ اس معاملے کو سامنے لا رہی ہیں۔

بعد ازاں میشا شفیع کی جانب سے الزامات عائد کیے جانے کے بعد علی ظفر نے ان تمام الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف عدالت میں جانے کا اعلان کیا تھا۔

علی ظفر اپنے خلاف جھوٹا کیس دائر کرنے پر ڈٹ گئے تھے اورانہوں نے عدالت سے کیس کو سنے جانے کی استدعا کی تھی-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں