“می ٹو” مہم میں مزید تیزی ، خوبرو اداکارہ کو بے لباس ہونے کا کس نے کہا؟؟ ہوشربا خبر

بالی وڈ ہو یا لالی وڈ یا پھر ہالی وڈ ، ہر فلم نگری میں خواتین کو ہراساں کئے جانے کے واقعات معمول کا حصہ ہیں لیکن بھارت میں خواتین اداکارائوں کو ہراسا کرنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے بعد می ٹو مہم شروع کی گئی تھی تاہم اب یہ معاملہ فلم انڈسٹری سے نکل کر ٹی وی میڈیم پر پہنچ گیا ہے-

شوبز ویب سائٹ ’پنک وِلا‘ کے مطابق بھارت میں ’می ٹو‘ مہم میں شامل ہونے والی تازہ ترین آواز ٹی وی اداکارہ جاسمین بھاسن کی ہے ، جس نے نیا الزام عائد کیا ہے اور اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ انڈسٹری کے شروع کے دنوں میں ایک فلم ڈائریکٹر نے آڈیشن کے دوران اُن سے بے لباس ہونے کا مطالبہ کر دیا تھا –

خوبرو اداکارہ کا کہنا تھا کہ ’’ یہ پانچ سال قبل کی بات ہے کہ میری ایجنسی نے مجھے ایک کاسٹنگ ڈائریکٹر کے پاس بھیجا ۔ وہ ایک نئی فلم کے لئے آڈیشن کر رہا تھا ۔ اُس نے مجھ سے پہلا سوال ہی یہ کیا کہ اداکارہ بننے کے لئے میں کس حد تک جا سکتی ہوں ۔ پھر کہنے لگا کہ اپنے کپڑے اتار دو تا کہ میں دیکھ سکوں کہ مختصر لباس میں تم کیسی لگو گی ۔

جاسمین بھاسن نے مزید بتایا کہ ان سوالات سے وہ سمجھ گئیں کہ آغاز سے ہی معاملہ خراب ہے اور ڈائریکٹر کو اپنی ایجنسی سے بات کرنے کا کہہ کر انہوں نے اجازت لی اور پھر کبھی اس کے دفتر کا رخ نہیں کیا ۔ تاہم اداکارہ نے ڈائریکٹر کا نام تاحال نہیں بتایا ۔

اس نئے الزام کے بعد بھارتی ٹی وی میں نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ خواتین کو ہراساں کرنے کا معاملہ کب ختم ہو گا اور ایسے کرنے میں ملوث افراد کے خلاف آواز کون اٹھائے گا-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں