کہانی چک جھمرہ کی


تحریر افضال احمد تتلا

باہمی دشمنیوں اور دھڑہ بندیوں کی وجہ سے مشہور کیے جانے والی فصیل آباد کی تحصیل چک جھمرہ کے بارے میں مزید کچھ کہنے سے پہلے میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں اس شہر کے سحر سے نکل نہیں پاتا جس طرح اس علاقے کی تمام رونقیں میری سرشاری کا سبب بن جاتی ہیں اسی طرح اس کی محرومیوں کو دیکھ کر اداسی کی ایک لہر میرے وجود میں اتر جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ میں کہی بھی جاؤں اپنے اس شہر کے مسائل اور وسائل سے لوگوں کو آگاہ کرنے کوشش کرتا رہتا ہوں حالانکہ اب تو میرے قارئین سمیت دیگر دوست احباب بھی مجھے یہ کہنا شروع ہوگے ہیں کہ آپ جھمرہ (مطلب جھمرہ کے بغیر بھی اپنی کوئی بات مکمل کرلیا کرو ) سے کیوں نہیں نکلتے؟ مگر ان کو کیسے بتاؤ کہ میں تو جھمرہ سے نکل جاؤ مگر جھمرہ میرے اندر سے نہیں نکل سکتا اور چک جھمرہ میرے اندر سے کیوں نہیں نکلتا اس کا جواب میں اپنی اس تحریر کے آخر میں دونگا۔آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد کی تحصیل چک جھمرہ کی بات کریں تو یہ خط زمین ہموار میدانی شکل میں ہے زمین کا یہ ٹکڑا سطح سمندر سے تقریباً 605 فٹ بلند ہے اس تحصیل کا کل رقبہ 1لاکھ 21ہزار 75 ایکڑ اراضی کے لگ بھگ ہے۔

2017 کی مردم شماری کے مطابق اس تحصیل کی آبادی 3 لاکھ 32ہزار 4 سو 61 افراد ہے اس طرح یہ تحصیل آبادی کے لحاظ سے ڈسٹرکٹ فیصل آباد کی سب سے چھوٹی تحصیل ہے۔یہ تحصیل 14 یونین کونسلز اور 68 دیہاتوں پر مشتمل ہے آبادی کے لحاظ سے تحصیل چک جھمرہ کا سب سے بڑا گاؤں 188ر۔ب نلے والا ہے جس کی آبادی 19ہزار 2 سو 20 افراد پر مشتمل ہے جبکہ سب سے کم آبادی والا گاؤں471 ج۔ب چکیرا ہے اس کی آبادی 435 افراد ہیں۔چناب کالونی گزیئیر کے مطابق جھمرہ شہر چک نمبر 297 ر۔ب کی زمین پر آباد ہوا ہے یہاں پر یہ بات بتاتا چلوں کہ چک جھمرہ کا سٹی ایریا 4 بازاروں پر مشتمل ہے اور ہر بازار کا نام اس کی خاصیت کی بنا پر رکھا گیا تھا جیسے کہ ریلوے اسٹیشن کی جانب جانے والے بازار کو ریل بازار جس بازار میں موچیوں کی زیادہ دوکانیں تھی اس کو موچی بازار جبکہ ماضی میں یہاں چک جھمرہ میں کاٹن فیکٹریاں ہوتی تھی ان فیکٹریوں کی جانب جانے والے بازار کو کارخانہ بازار کہتے تھے اسی طرح ایک مین بازار ہے۔

تحصیل چک جھمرہ کی وجہ تسمیہ کے پیچھے بھی بڑی دلچسپ روایت کچھ یوں ہے کہ چنیوٹ سے ہجرت کرکے آنے والی قوم رجوکہ نے تقریباً چار سو سال قبل ( ساندل بار) یہاں آکے پڑاؤ کیا تب اس جگہ بارشوں کے پانی سے ایک تالاب بنا ہوا تھا تالاب کے کنارے “ون” کا ایک درخت تھا جس کا سایہ ہمہ وقت تالاب کے پانی میں رقص کرتا ہوا نظر آتا چونکہ رجوکہ جانگلی قوم ہے اور اس قوم کا پسندیدہ رقص”جھمر”ہے لہذا مقامی لوگ اس کو جھمر والی جگہ کے نام سے پکارنے لگے جھمرہ”جھمر”کی بگڑی ہوئی شکل ہے تاہم اس کے ساتھ چک کا لفظ لگنے کی وجہ انگریزحکومت بنی انگریز سرکار موجودہ فیصل آباد (اُس وقت کے ساندل بار) کو آباد کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی تھی مگر جھمرہ کی زرخیز زمینوں نے بکثرت کپاس کی فصل اگنا شروع کر دی تو نہ چاہتے ہوئے بھی یہاں ایک غلہ منڈی بن گئی جبکہ سرکار لائلپور کی بغل میں کسی اور علاقہ کو ٹاوٴن کا درجہ دینے سے کتراتی تھی لہٰذا جھمرہ کے ساتھ چک کا لفظ جوڑ کر اس کو چک جھمرہ بنا دیا گیا اگر یہ ٹاون بنایا جاتا تو اس کو ٹاوٴن والی تمام سہولتیں مہیا کرنا سرکار کی ذمہ داری بن جانی تھی تاہم 1896 میں انگریز سرکار نے یہاں ریلوے اسٹیشن تعمیر کروایا تب چک جھمرہ کی آبادی 1086 افراد پر مشتمل تھی عوام کی جان ومال کے تحفظ کیلئے 13286 روپے خرچ کرکے یہاں تھانہ اور ڈرینج سسٹم بنایا گیا تھا یہ تھانہ کئ سال تک تھانہ چنیوٹ روڈ کے نام سے جانا جاتا رہا 1905ءیا1906ء میں باقاعدہ اس کو تھانہ چک جھمرہ کا نام دیا گیا تھا تب تک آبادی2100 نفوس کے لگ بھگ بڑھ چکی تھی اس علاقے میں کپاس کی فصل بہت اچھی ہوتی تھی اسی بناء پر یہاں ایک غلہ منڈی بن گئی مگر اس غلہ منڈی کی بھاگ دوڑ زیادہ تر ہندوؤں کے ہاتھ میں تھی اُس کے وقت کے مشہور آڑھتی بنسری لال, سیٹھ برلارام اور لال چند تھے 1901ء تک چک جھمرہ میں کاٹن کی پانچ فیکٹریاں بن چکی تھی تاریخی حوالوں کے مطابق یہاں سب سے پہلے عصمت اللہ اینڈ ہیرانند,فضل دین اینڈ محمد حیات نامی فیکٹریاں بنائی گئی ان کے بعد ہندو تاجر لالہ بشن داس کپور نے ایک مل بنائی جو منڈی کے آڑھتی بھی تھے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران گورنمنٹ برطانیہ نے یہاں ائیربیس بنایا جس سے چک جھمرہ کی اہمیت برھ گئی اور 1965ء کی انڈیا پاکستان جنگ میں انڈیا کی فوج نے اس ائیر بیس کو تباہ کرنے کی خاطر چک جھمرہ پر کئی حملے کیئے لیکن پاک فوج کے شیروں نے دشمن کے تمام ارادے خاک میں ملا دیئے تھے۔معلومات کے مطابق چک جھمرہ میں موجود بوائیز ہائیر سکنڈری سکول کا آغاز 1890ء میں پرائمری سکول سے ہوا جس کو 1910ء میں ہائی اور 1989ء میں ہائیر سکنڈری سکول درجہ دیا گیا اب تحصیل چک جھمرہ میں 2 بوائز,2 گرلز ڈگری کالجز, گرلز اینڈ بوائز ہائیر سکنڈری سکولز سمیت33 ہائی32 مڈل اور 142 گرلز اور بوائز گورنمنٹ پرائمری سکولز موجود ہے۔چک جھمرہ کو باقاعدہ ٹاوٴن کا درجہ 1931ء میں دیا گیاجبکہ 2001ء میں یہ شہر تحصیل کا درجہ حاصل کرسکا۔اب اس علاقے کی اہم فصلوں میں گندم اور گنا کا شمار ہوتا ہے تاہم چاول,سرسوں مکئی ودیگر غذائی اجناس کی کاشت بھی کثرت سے کی جاتی ہے۔ساندل بار کی تاریخ میں یہاں کے پرندوں کی تقریباً350 اقسام کا ذکر کیا ہے جن میں عقابی الو, ہدہد, بٹیر, مچھی مار اور چڑیا قابل ذکر ہیں۔مونسپل کمیٹی چک جھمرہ کے پہلے چیئرمین لالہ کندن لال تھےجبکہ مونسپل کمیٹی چک جھمرہ کے موجودہ چئیرمین ملک زاہد محمود شہزاد اور وائس چیئرمین عمر لیاقت چٹھ ہیں چک جھمرہ کی دیگر مشہور شخصیات کا ذکر کیا جائے تو ان میں سب سے پہلے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے خادمِ خاص علی بخش کا نام آئے گا اسی طرح موجودہ یعنی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال کے صوبائی وزیر محمد اجمل چیمہ, سابقہ سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری محمد افضل ساہی,سابقہ ایم این اے طارق محمود باجوہ اورچوہدری محمد شریف ٹرکاں والا کا تعلق بھی تحصیل چک جھمرہ سے ہی ہے۔ چک جھمرہ پر برادری ازم اور دھڑہ بندی کا الزام لگانے والوں کے لیے یہ بات قابل غور ہے کہ اس علاقے نے غیر کاشتکار برادری سے محبت کا ثبوت دیتے ہوئے آزاد علی تبسم کو بھی صوبائی اسمبلی کی نشست پر برجمان کروایا تھا جو اپنی شرافت اور علم دوستی کی وجہ سے جھمرہ کے صحافتی حلقہ میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔اگر کھیل کے میدانوں میں اس تحصیل کا نام بلند کرنے والوں کا ذکر کیا جائے تو کبڈی کے ناموار کھلاڑی ریاض میانہ, موجودہ قومی کرکٹ ٹیم میں کھیلنے والے وقاص مقصود,اتھلٹکس میں سید حیدر شاہ,حبیب اللہ تتلا کے علاوہ بہت سے بین الاقوامی سطح کے اتھلیٹس کا تعلق چک جھمرہ سے ہے اس علاقے میں کھیلوں کو مزید فروغ دینے کے لیے یہاں ایک سپورٹس جمنیزیم اور دو اتھلٹکس سٹیڈیم بھی بنائے جارہے ہیں۔دھڑہ بندیوں اور باہمی دشمنیوں کا بھی اس علاقے میں بہت زور ہے-

ایک رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ فیصل آباد کے ناموار 23 بڑے دشمن دار گروپوں میں سے سب سے بڑے دشمن دار گروپ کا تعلق بھی چک جھمرہ سے ہی ہے چک جھمرہ میں تھانہ چک جھمرہ اور ساہیانوالہ کے نام سے دوپولیس اسٹیشنز,ریسکیو1122 کا آفس, تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال, حیوانات کا ہسپتال, تین ریلوے اسٹیشن اور 3676 ایکڑ کے رقبہ پر فیڈمک انڈسٹریل اسٹیٹ بھی موجود ہے۔اب میں آتا ہوں اپنے جواب کی طرف کہ چک جھمرہ مجھ سے کیوں نہیں نکل پاتا اس جواب کے لیے میں ایک مثال پیش کرونگا۔ ایک درخت لگا ہوتا ہے ایک بندہ آتا ہے اس کے نیچے بیٹھتا ہے اس کی چھاؤں لیتا ہے اس کا پھل کھاتا پھر اٹھتا ہے کپڑے جھاڑتا ہےاور چل پڑتا ہے مڑ کے دیکھنا تک بھی گوارا نہیں کرتا وہ یہ بھول جاتا ہے اس درخت نے مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیا تھا دوسرا رویہ پڑھیے گا آدمی درخت کے نیچے بٹھتا ہے چھاؤں لی پھل کھایا اور پھر کلہاری لی اور اس کو کاٹنا شروع کردیا یہ رویہ آپ کو سوسائٹی میں عام ملے گا یہ ظالم لوگ ہوتے ہیں کیونکہ جس سے فائدہ لیتے ہیں اسی کو کاٹنے لگ پڑتے ہیں تیسری طرح کے لوگ کچھ بہتر ہیں وہ آتے ہیں درخت کے نیچے بیٹھتے ہیں چھاؤں اور پھل سے مستفید ہوتے ہیں اور پھر دوسروں کو بتاتے ہیں دیکھوں کتنا اچھا درخت ہے یہ چھاؤں بھی دیتا ہے اور پھل بھی,چوتھی قسم میں ولی اللہ لوگ شامل ہوتے ہیں جو درخت کی چھاؤں لینے اور پھل کھانے کے بعد اس کی حفاظت کرتے ہیں کیونکہ وہ سوچتے ہیں کہ یہ درخت اگر ہمیں پھل دے رہا ہے تو دوسروں کو بھی دے گا اس کی حفاظت کرنی چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے استفادہ حاصل کر سکیں یہاں تک کہ آنے والی نسلوں کےلیے بھی ایسے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔میں چک جھمرہ کی ایسے ہی پھل دار درخت کی مانند سمجھتا ہوں جس نے مجھے میٹھے پھل کے ساتھ ساتھ کڑی دھوپ سے بھی بچایا ہے۔اس لیے کوشش کرتا ہوں کہ اگر چوتھی نہیں تو کم از کم تیسری قسم کے لوگوں میں تو اپنے آپ شامل رکھوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں