ماسٹر پلان کے مطابق دائود نگر ڈسپوزل اسٹیشن علاقہ کی ضرورت ، 30 کروڑ روپےخرچ ہو چکے

فیصل آباد(ویب ڈیسک) مدینہ ٹاؤن خیابان کالونی،رضا گارڈن،عبداﷲ گارڈن،چک نمبر204رب اور ملحقہ علاقوں کی 3لاکھ پر مشتمل آبادیوں کو سیوریج کے مسائل سے نکالنے اور مستقل بنیادوں پر حل کے لیئے داؤد نگر ڈسپوزل اسٹیشن کے لیئے جگہ کا انتخاب فیصل آباد ماسٹر پلان کے مطابق انجینئرز کی طرف سے تیار کردہ فیزیبلیٹی سٹڈی اور فیلڈ سروے کے بعد تقریبا چار سال قبل کیا گیا تھا اور علاقہ میں دستیا ب موزوں زمین کا انتخاب کر کے خریدی گئی تھی، اس ڈسپوزل اسٹیشن کو مطلوبہ علاقوں کو سروس دینے کے لیئے مین سیور لائینیں بھی پہلے ہی بچھائی جا چکی ہیں ااور اب تک اس پراجیکٹ پر واسا کے 30کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔

اس اثناء میں علاقہ میں واقع پرائیویٹ اسکول کے زعماء نے صرف اپنے ذاتی مفاد میں اس پراجیکٹ کو رکوانے کے لیئے ہر طرح کے حربے آزمانہ شروع کیئے جن میں سابقہ حکومت کے منتخب ممبران اسمبلی شیخ اعجاز ،طاہر خلیل سندھو وغیرہ کو بھی اپنی حمائیت پر آمادہ کر کے پراجیکٹ کو تاخیر کا شکار کیا گیا ،حتی کہ واسا انتظامیہ کی طرف سے انہیں ہر طرح کے اعتماد میں لینے کی بارہا انتہائی کوششیں کی گئیں اور انہیں بتایا گیا کہ شہر بھر میں40کے قریب ڈسپوزل اسٹیشن قائم ہیں جن میں سے 30ڈسپوزل اسٹیشن شہر کے انتہائی گنجان آباد رہائشی و کاروباری علاقوں میں واقع ہیں اور وہاں شور شرابے اور بدبو کا کوئی امکان نہیں ہوتا اور کبی بھی کوئی مسئلہ درپیش نہ ہوا تھا لیکن بد قسمتی سے تمام معاملے کو زاتی مفاد کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے اقلیتوں کے ساتھ زیادتی کا رنگ دیتے ہوئے مذہبی منافرت بھی پھیلانے کی کوشش کی گئی اور اسکول کے معصوم بچوں کو ڈھال بناتے ہوئے واسا کے خلاف مظاہرے بھی کیئے گئے حالانکہ شہر میں ریلوے روڈ پر قائم مسیحیوں کے سب سے بڑے چرچ کے مین داخلی دروازے پر کئی دہائیوں سے قائم ڈسپوزل اسٹیشن اپنا کام کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ گلشن کالونی ،میٹروپول،اکبر آباد،اقبال سٹیڈیم ،گلستان کالونی،شاداب کالونی،ڈی ٹائپ کالونی،عبداﷲ پور،منصور آباد ڈسپوزل اسٹیشنز شہر کے انتہائی گنجان آباد علاقوں میں عرصہ دراز سے کام کر رہے ہیں ،گلشن کالونی سے ملحقہ سرکاری اسکول کی کھڑکیاں ڈسپوزل اسٹیشن کے احاطہ میں کھلتی ہیں،میٹروپول ڈسپوزل اسٹیشن گلبرگ کے علاقہ میں مسجد کے ساتھ واقع ہے ،شاداب کالونی ڈسپوزل قبرستان اور جنازگاہ کے ساتھ ہے،الہی آباد ڈسپوزل ایک بڑے سرکاری ھسپتال اور لڑکیوں کے سرکاری کالج کے ساتھ قائم ہے،جبکہ نور پور ڈسپوزل اسٹیشن سرکاری گرلز اسکول اور مسجد کے ساتھ واقع ہے،واسا انتظامیہ نے بشپ افتخار اور ان کے ساتھیوں کو یہ یقین دہانی بھی کروائی کہ اس ڈسپوزل اسٹیشن کی تعمیر جدیدڈیذائن کے مطابق کی جائے گی جس سے ان کے ہر طرح خدشات بالکل ختم ہو جائیں گے لیکن یہ نہائیت ہی افسوسناک امر ہے کہ ذاتی سوچ اور مفاد کو ترجیح دی گئی ،

یہاں یہ بات بھی قابل زکر ہے کہ ڈسپوزل اسٹیشن کا پراجیکٹ قبضہ مافیا کی کوششوں کی وجہ سے پہلے ہی 4سال کی تاخیر کا شکا ر ہو چکا تھا اور واسا حکام نے ماضی میں سرکاری کام میں رکاوٹیں ڈالنے پر سول عدالت میں استغاثہ بھی دائر کر رکھا ہے جس میں بشپ افتخار قانون کو مطلوب ہے اور اس کے چند ساتھیوں نے ضمانت کروا رکھی ہے ،کمشنر اور ڈپٹی کمشنرفیصل آباد اور پولیس حکام نے واسا حکام کی درخواست پرعوامی مفاد کے اہم منصوبہ کو مزید تاخیر کا شکار ہونے سے بچاتے ہوئے پائیہ تکمیل تک پہنچانے کے لیئے واسا کو مطلوبہ قابل قدرسپورٹ فراہم کی اور سالوں سے تاخیر کا شکار منصوبے پر تیزی سے تعمیراتی کام کا آغاز کیا جا چکا ہے فیصل آباد کے شہری فیصل آباد کی موجودہ سیاسی قیادت، انتظامیہ،پولیس اور موجودہ واسا انتظامیہ کے مشکور ہیں کہ واسا زمین کا قبضہ واگزار کروا کر شہری مفاد کے منصوبے پر تعمیراتی کام کا آغاز کیا، اگر واسا نے جلد یہ پراجیکٹ جلد مکمل نہ کیا تو کینال کے ایسٹرن سائیڈ کی 3لاکھ کے قریب تمام آبادیاں جو کہ سیوریج کی سروسز کے حوالے سے پہلے ہی انتہائی پیچیدگی کا شکار ہیں ان کی تکالیف میں خدانخواستہ اور بھی یقینی اضافہ ہو جانے کا احتمال تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں