10 کروڑ سے زائد صارفین کے باوجود “ٹک ٹاک” پر پابندی ، کیا فحاشی وجہ بنی؟؟؟

بھارت کی حکومت کھل کر سوشل ویڈیو ایپ “ٹک ٹاک” کے خلاف کھل کر سامنے آ گئی ہے اور حکومت کی جانب سے کئے گئے مطالبے کے بعد گوگل اور ایپل نے اپنے اپنے اسٹور سے “ٹاک ٹاک” کو ختم کردیا . واضح رہے کہ بھارت کی حکومت نے 2 روز قبل گوگل اور ایپل کو ایک خط لکھا تھا جس میں ہدایت کی گئی تھی کہ دونوں ادارے ٹک ٹاک کو اپنے اپنے سٹورز سے ہٹا دیا جائے-

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ریاست تامل ناڈو کے دارالحکومت چنئی (سابقہ مدراس) کی مدراس ہائی کورٹ نے رواں ماہ اپریل کے آغاز میں ہی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ ملک میں ٹک ٹاک کی ڈاؤن لوڈنگ پر پابندی لگائی جائے۔ فاضل عدالت کے مطابق جو افراد اپریل سے قبل ٹک ٹاک اپنے موبائل میں ڈاؤن لوڈ کرچکے ہیں انہیں کچھ نہ کیا جائے، مگر اس ایپلی کیشن کی مزید ڈاؤن لوڈنگ پر پابندی عائد کی جائے۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹک ٹاک سے بھارت کی قومی سلامتی اورغیرت کو خطرہ ہے، اس سے نئی نسل تیزی سے گمراہی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اسی طرح یہ بھی ریمارکس دئیے گئے کہ ٹک ٹاک کے ذریعے نوجوان نسل اور خصوصی طور پر نابالغ اور بلوغت کی عمر کو پہنچنے والے بچے غیر اخلاقی ویڈیوز بنا رہے ہیں، اس لیے اس کی مزید ڈاؤن لوڈنگ پر پابندی عائد کی جائے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایپلی کیشن “ٹک ٹاک” کو اسٹورز سے ہٹائے جانے کے بعد اب بھارت میں دیگر صارفین اس ایپلی کیشن کو ڈاؤن لوڈ نہیں کر سکیں گے تاہم اس حوالے سے گوگل، ایپل اور خود ٹک ٹاک نے مزید کوئی بیان نہیں دیا- رپورٹس کے مطابق بھارت میں ٹک ٹاک پر سب سے زیادہ متحرک کم عمر لڑکے اور لڑکیاں دکھائی دیتی ہیں جو فحش اور نامناسب ویڈیوز بنانے سے بھی گریز نہیں کرتیں۔

واضح رہے کہ بھارت میں 10 کروڑ سے زائد افراد نے ٹک ٹاک کو اپنے موبائل میں ڈائون لوڈ کر رکھا ہے جو صارفین کی بڑی تعداد ہے جس میں بتدریج اضافہ ہورہا تھا جسے اب روک دیا گیا ہے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں