مہنگائی کنٹرول کر لیں ورنہ ………

تحریر : رضوان خان
[email protected]

آج عمران خان کی حکومت کو آئے 8 ماہ ہو گئے ہیں – مہنگائی عروج پر ہے – اور میرے سامنے میڈیا کی ویب سائٹ پر ایک خبر کل سے میرا منہ چڑھا رہی ہے کہ حکومت کا گیس کی قیمتوں میں ایک بار پھر 80 فیصد تک اضافے کا عندیہ…

عمران خان نے پہلی بار اپنی اننگز کا آغاز کیا تھا اور عوام کو ان سے بہت سی امیدیں تھیں جو بہت سے لوگوں کی تو دم توڑ چکی ہیں مگر بہت سے لوگ ابھی تک پرامید ہیں کہ مسائل سے نکلتے ہی عمران خان عوامی فلاح کے لیے بہت کچھ کریں گے –

اپوزیشن جماعتیں اس مہنگائی کی صورت حال کو پوری طرح سے کیش کر رہی ہیں – اور حکومت گرانے کی تحریک کی بات کر رہی ہیں – ابھی تک تو عوام نے انکی بات پر کچھ زیادہ کان نہیں دھرے مگر اگر صورتحال اسی طرح رہی تو حالات بدل بھی سکتے ہیں –

یہاں عمران خان کو ایک بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے – اس ملک کا تقریباً 85 فیصد ووٹر عام آدمی ہے – اور ایک عام آدمی کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ملک میں کس کو پکڑ لیا گیا اور کسے چھوڑ دیا گیا – عام آدمی کو اس بات کی بھی کوئی خاص ٹینشن نہیں کہ ملک پر قرض کتنا چڑھ گیا ہے –
عام آدمی کو تو بس اس بات کی ٹینشن ہوتی ہے کہ میں نے اپنی کم آمدنی سے اپنا گھر کیسے چلانا ہے – آپ اداروں کو ٹھیک کرنے کے لیے سارا بوجھ اس غریب پر ڈالیں گے تو وہ آپ سے لازمی مایوس ہو گا – اور عام آدمی آپ سے مایوس ہو گیا تو کچھ بھی نہیں بچے گا –

آپ کو چاہیے تھا کہ عام آدمی پر بوجھ نہ ڈالتے چاہے اس کے لیے آپ کو کچھ بھی کرنا پڑتا- معاشی اصلاحات ذرا لیٹ ہو جاتیں کوئی بات نہیں – قرض بھی جہاں اتنے عرصے سے لے رہے تھے تھوڑا اور لے لیتے – مگر عام آدمی کو قربانی کا بکرا نہ بناتے –

بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے اثرات سے عوام ابھی تک صدمے میں ہے ہر آدمی کا بجٹ براہ راست متاثر ہوا ہے اور آئندہ کے لیے ایسی خبروں کا چلنا مزید مایوسی پھیلانے کا سبب بنے گا –

اس لئے اب تک جو بھی ہو گیا ابھی بھی وقت ہے معاملہ سنبھال لیں – آپ فوری طور پر اعلان کریں کہ ایک یا دو سال تک قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا – اور فوری طور پر عوام کو ریلیف دینے کا کوئی پروگرام لائیں – باقی سب چیزیں چاہے زرا روک دیں – مگر مہنگائی پر کنٹرول کریں –

یہاں ایک اور چیز بہت اہم ہے – کاروباری حضرات قیمتوں میں اضافہ کسی اصول کے مطابق نہیں کرتے – مثلاً پٹرول اگر پانچ روپے بڑھا ہے تو اس تناسب سے چیز کا ریٹ اگر 5 روپے بڑھنا چاہیے تو وہ موقع کا فائدہ اٹھا کر 10 روپے مہنگی کر دیں گے –

یعنی انکی تو ڈبل چاندی ہو گئی کیونکہ کوئی پوچھنے والا تو ہے نہیں – اس چیز کو بھی دیکھیں – اسکا ایک حل یہ ہو سکتا ہے کہ کمپیوٹرائزڈ بل لازمی قرار دے دیا جائے – اور زیادہ ریٹ پر سخت کارروائی کی جائے – تا کہ مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کا بھی سدباب ہو سکے –
اس سے پہلے کہ لوگ اتنے مایوس ہوں کہ حالات آپ کے ہاتھ سے نکل جائیں خدا کے لیے حالات کو سنبھال لیں –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں