وزیر خزانہ کا استعفی حکومت کی ناکامی ؟؟


ازقلم ، محمد احمد مرتضی

اقتصادی و معاشی استحکام اور وزارت خزانہ کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کا سب سے اہم جزو اور حصہ ہوتی ہے ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کا دارومدار براہ راست وزارت خزانہ اور وزیر خزانہ کی قابلیت کے ساتھ بندھا ہوتا ہے وزیر خزانہ کی قابلیت اور شخصیت سرمایہ کاروں اور تاجروں کو سرمایہ کاری کے لیے مدعو کرتی ہے اور وزیر خزانہ اپنی پالیسیوں اور حکومتی اداروں کے ساتھ تعلقات کو بطور ضمانت استعمال کرتا ہے جس سے متاثر ہوکر سرمایہ کار اور تاجر تجارت کے فروغ کے لیے سرمایہ کاری کرتے ہیں سب سے اہم بات یہ کہ وزیر اعظم سمیت حکومت اور تمام وزراء وزیر خزانہ کی پالیسیوں پر اعتماد کرتے ہوئے سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اقدامات کرتے ہیں اور وزیر خزانہ کے تمام فیصلوں کو آن کرتے ہیں اور ان کی تصدیق اور سپورٹ کرتے ہیں کیونکہ جب تک تمام حکومتی ادارے اور لوگ وزیر خزانہ کی پالیسیوں پر اعتماد نہیں کریں گے-

ملک میں سرمایہ کاری ناممکن ہے اس لیے وزیر خزانہ ایک قابل اور محنتی شخصیت کا حامل ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنی وزارت اور پالیسیوں سے متعلق حکومت اور عوام کا اعتماد حاصل کر سکے 2018 ء کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں کی حکومت قائم ہوئی اور حکومت بننے سے پہلے ہی 2013ء کے عام انتخابات کی کمپئین کے دوران وزارت خزانہ کا قرعہ اسد عمر کے نام نکلا پچھلے سات سال سے پاکستان میں بسنے والے بچے بچے کو علم تھا جب بھی تحریک انصاف اقتدار میں آئی اور وزیر اعظم عمران نیازی صاحب بنے تو وزیر خزانہ اسد عمر ہی ہونگے 2013 ء کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہوئی اور  پاکستان تحریک انصاف اپوزیشن کا حصہ بنی لیکن حزب اختلاف کے بنچوں سے اسد عمر نے اس وقت کی حکومت اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر تنقید کے نشتر چلائے حالانکہ اسحاق ڈار کی پالیسیوں پر تاجروں اور سرمایہ کاروں نے اعتماد کا اظہار کیا اور دنیا کے بہترین معشیت دانوں نے اسحاق ڈار کی پالیسیوں کی تعریف کی اور سال 2015 کے لیے انہیں جنوبی ایشیا کے بہترین وزیر خزانہ کے ایوارڈ سے نوازا گیا لیکن اسد عمر ان پر مسلسل تنقید کرتے رہے اسحاق ڈار نے اپنی کوششوں اور کاوشوں سے پاکستانی معشیت کو مستحکم کیا اور 18000 پوائنٹس پر براجمان پاکستان 100 انڈیکس کو چار سالہ دور میں اسحاق ڈار 56000 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر لے گئے اور ڈالر 100 سے 105 روپے کی نفسیاتی سطح پر روکے رکھا جس پر انہیں اس بات پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ انہوں نے اسے مصنوعی طور پر ڈالر کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا لیکن 2018 ء کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف اقتدار میں آئی اور تقریبا نو ماہ میں اس حکومت کو معاشی اور اقتصادی بحران کا سامنا کرنا پڑا اور اسد عمر اپنی قابلیت اور شخصیت سے عمران خان اور پاکستانی عوام کو متاثر نہ کر سکے –

حالانکہ حکومتی ترجمان اور وزراء کا کہنا ہے پاکستان کی موجودہ معاشی اور اقتصادی صورت حال  اور بحران کی ذمہ دار مسلم لیگ ن کی حکومت اور اسحاق ڈار ہیں اب ان وزراء سے معصومانہ سوال یہ ہے کہ اگر معاشی عدم استحکام اور اقتصادی بحران مسلم لیگ ن کی وجہ سے ہے تو وزیر خزانہ اسد عمر سے استعفی کیوں لیا گیا ؟ جبکہ ان کا قصور نہیں ہے  اگر یہ استعفی موجودہ صورت حال اور بحران کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے تو یہ مان لینا چاہیے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور عمران خان معاشی میدان میں بری طرح سے ناکام ہوئے ہیں اور موجودہ معاشی اور اقتصادی بحران کا ذمہ دار موجودہ حکومت کی ناقص حکمت عملی اور پالیسیوں کا نتیجہ ہے اسد عمر واحد شخصیت تھے جنہیں عمران نیازی صاحب نے خود اپنی جماعت کا حصہ بنایا اور انہیں پی ٹی آئی  کا دماغ قرار دیا لیکن جب وہ اپنی پالیسیوں سے متاثر نہ کرسکے اور ناکام ہوئے تو اس ناکامی کا ملبہ اسد عمر پر ڈال کر استعفی لے لیا گیا کسی بھی وزیر سے استعفی لینا یا اس کی وزارت کا محکمہ تبدیل کرنا وزیراعظم کا استحقاق ہے-

وزیراعظم صاحب اگر آپ کا فوکس پانچ سال حکومت کرنے اور آئندہ انتخابات کی جیت پر ہے تو آپ کو بڑے بڑے فیصلے کرنا ہونگے اور یہ فیصلے بروقت کرنا ہونگے کیونکہ سیاست اور حکومت میں وقت کی بہت اہمیت ہے اگر اپ نے تبدیلی کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو جناب لگے ہاتھ دیگر وزراء کی کاکردگی کا بھی احتساب کیا جائے اور جو اپنی وزارت میں ڈیلیور نہیں کر پارہے ان سے وزارت واپس لے کر کسی قابل شخصیت کو وزیر بنا دیا جائے اور اس تبدیلی کا آغاز سب سے پہلے 62 فیصد آبادی کے وزیر اعلی کی تبدیلی سے کیا جائے عثمان بزدار بے شک شریف النفس اور سیدھے سادھے آدمی ہونگے لیکن وزیراعظم صاحب حکومت چلانے کے لئے سادگی کے ساتھ ساتھ قابلیت بھی اہم ہوتی ہے  کیونکہ جناب حزب اختلاف کے بنچوں سے حکومت اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنا آسان اور اقتدار میں آکر عوام کے اعتماد پر پورا اترنا بہت مشکل ہے اگر آپ نے اب بھی بروقت اقدامات اور بڑے فیصلے نہ کئے تو آئندہ انتخابات میں کامیابی تو درکنار موجودہ حکومت کا پانچ سالہ دور اقتدار پورا کرنا بھی مشکل ہے اگر خان صاحب نے اقدامات نہ کئے تو نقصان تحریک انصاف اور قوم کا ہوگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں