ہم اور ہمارے پیسے بنانے کے طریقے

ہم سے مراد ہم عام اعوام نہیں کہ جمہوریت کے اس دؤر میں جو کچھ بھی کِیا کرایا ہے ہم اعوام کا ہے۔بلکہ ہم ”HUMM‘‘ سے مراد ” How  you  make  money  “ہے۔اس کام کے لئے انٹرنیٹ نے تو پوری دنیا کو اپنے شکنجے میں لے رکھا ہے۔ جب بھی ہم اپنی تفریح وتسکین کی خاطر کوئی ویب سائٹ کھولتے ہیں تو پیسہ کمانے کے اشتہارات بارش کی شکل میں ایسے نازل ہوتے ہیں کہ جس کام کے لئے نیٹ آن کیا تھا وہیں کا وہیں رہ جاتا ہے اور آگے کئی اور کام شروع ہو جاتے ہیں۔زیادہ سے زیادہ پیسہ کیسے کمائیں اسی بات کی کھوج میں ہم نے اپنی ساری موج مستی ختم کر دی ہے۔دولت حصول ایک ایسی مضرِصحت بیماری ہے جس کو اپنانا ہر کسی کی دلی خواہش ہے۔دیکھا جائے تو ہمارے شب وروز گزرتے ہی اسی بخار میں ہیں کہ دولت کیسے آئے گی۔یہ ایسا نامراد بخار ہے کہ کوئی بھی ٹیبلٹ یا کیپسول لے لیں اُترنے کا نام نہیں لیتا۔انٹرنیٹ نے ہماری ساری نوجوان نسل کو ایسا یرغمال بنایا ہے کہ ہر کوئی موبائل ہو یا کمپیوٹر نیٹ چلا کر کسی نہ کسی کونے میں بھکاریوں جیسی شکل بنائے بیٹھا ہے۔ ہر نوجوان بس یہی کہتا ہے کہ بس جی اب کوئی بڑا ہی کام کرنا ہے۔ پتہ نہیں سارا دن کمپیوٹر پر بیٹھ کر انہوں نے کون سا بڑا کام کرنا ہے۔ان کا خیال ہے کہ جاپانی بیوقوف ہیں جنہوں نے دو ٹائروں والی موٹر سائیکل بنائی۔وہ تو ایک ٹائر سے بھی چل سکتی تھی۔ اسی لئے ون ویلنگ کا مظاہرہ ہم ہر روزاپنی سڑکوں پر دیکھتے ہیں۔ہماری نئی نسل تو کام کو کام(Calm)کے معنوں میں لیتے ہیں جس کا مطلب آرام و سکون ہے۔

دولت کی لت بھی کیا چیز ہے بندہ دو جمع دو کے چکر سے باہر ہی نہیں آتا۔ دو دن کی تو زندگی ہے۔ دو دو کر کے اگر چار پیسے اکٹھے ہوجائیں تو اب بس کر دینی چاہیے نہ کہ دو دو سے بات چوکوں اور چھکوں تک پہنچ جائے ویسے بھی سانسوں کی ڈور کا کیا بھروسہ زیروپر آوٹ ہونے سے ٹوٹ جائے۔ دولت تو کب آئے گی یار اب تو میں تیرے انتظار میں بوڑھا ہو گیا ہوں۔ایک پٹھان فون پر بار بار یہی کہے جارہا تھا۔بعد میں پتہ چلا کہ خان صاحب بیٹے سے مخاطب تھے جس کا نام دولت خان تھا۔ہمارے پٹھان دوست اپنے بچو ں کے نام رکھنے میں بھی کافی سخی واقع ہوتے ہیں۔ جو بچہ جس دن پیدا ہو اکثراسی نام سے منسوب کر دیتے ہیں۔جمعہ خان،منگل خان،زر خان اور عیدخان تو وہ خان ہیں جن کو میں زاتی طورپر جانتا ہوں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے پاس نام رکھنے کا ٹائم نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ناموں میں کیا رکھا ہے بس پرفارمنس اچھی ہونی چاہیے۔ہمارے ایک دوست کا نام بازوخان ہے۔ بازو کی بُری عادت یہ ہے کہ وہ حرام کھانے سے بازنہیں آتا۔ گھر والوں کو بازو کے بازو مڑوڑمڑوڑ کر خود مڑوڑ لگ چکے ہیں لیکن مجال ہے کہ بازو اپنی حرکتوں سے باز آئے۔

اسی میک منی کے چکر میں مُنی ناچ ناچ کر بدنام ہوئی تھی۔میک منی کا یہ چکر چاہے بلیک منی کا ہو یا سفید منی کا برق رفتاری سے جاری و ساری ہے۔ ہر کوئی اس گندے دھندے میں اندھے کی طرح لگا ہوا ہے۔لیکن اس کاہر گز یہ مطلب نہیں کہ قانون بھی اس دوڑ میں شامل ہے۔قانون اندھا ضرور ہوتا ہے لیکن یہ ایسا جن نہیں کہ جس سے چمٹے دس سال چھوڑنے کا نام نہ لے۔اس کے شکنجے میں آیا عمربھرپھر اسی کے گن گاتا ہے۔جتنے مرضی ”تگڑے“وکیل کرلیں قانونی کاروائی ایسی ”تگڑی جپھی“ لگاتی ہے کہ بندہ ساری عمر پھر دیوار سے لگا رہتا ہے۔دیوار سے یاد آیا کہ جیل کی تو دیوریں بھی سنا ہے کہ بہت اونچی شان والی ہوتی ہیں کیونکہ آج کل بہت بڑی بڑی شان والے ان کے ہاں مہمان ٹھہرتے ہیں۔ہم غریب عوام تو جہاں خالی دیوار دیکھتے ہیں پانی لگانے بیٹھ جاتے ہیں اور اتنا پانی لگاتے ہیں کہ دیوار کا بیڑا غرق کر دیتے ہیں مجال ہے کہ کوئی وہاں سے ناک پر ہاتھ رکھے بغیر گزر سکے۔ناک کی پکڑ بھی اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ ”ناک میں دم“ جو مہنگائی کی صورت میں ہم اعوام پر کیا گیا ہے شائد اسی طرح مر کھپ جائے۔بہرحال یہ تو ہم اعوام ہیں جنہوں نے ناک پر ہاتھ رکھا ہے ہمارے ہی بعض ڈاکٹروں نے بعض مریضوں کی نبض پر ایسا ہاتھ رکھا ہے کہ دل کی دھڑکن ہر وقت تیز رہتی ہے۔ یہ وہ ڈاکٹر ہیں جنہوں نے میڈیکل کی نہیں بلکہ قانون کی تعلیم حاصل کی ہے۔ اسی لئے تو کہتے ہیں کہ قانون اندھا ضرور ہوتا ہے لیکن اس کے ہاتھ میں ڈنڈا بھی ہوتا ہے۔ امید ہے کے اس گندے دھندے میں شامل تمام اندھے اسی ڈنڈے کی وجہ سے سیدھے ہونگے۔

ہمارے ہیروتو پتہ نہیں کن مہم جوئیوں میں مصروف ہیں لیکن ہماری ہیروئنز کی توکیا بات ہے۔ ہر میدان میں اپنا لوہا منوا رہی ہیں۔پیسے بنانا تواب پرانی بات ہو چکی۔پیسے بچانا اور پھر باہر منتقل کرنا کوئی ا ن سے سیکھے۔اب تو دیکھا دیکھی دوسرے ترقی یافتہ ملکوں کی ہیروئنز نے بھی ہمیں کاپی کرنا شروع کر دیا ہے۔ چند دن پہلے کی بات ہے کہ چیگ ریپبلگ کی ہیروئن سے آٹھ کلو ہیروئن برامد ہوئی تھی۔ موصوفہ شائد کافی کا استعمال زرا زیادہ کرتی تھیں جو کافی کام ”چُک“ کے رکھا تھا وہ تو قانون کی گرفت میں آئیں توتمام رازوں سے پردہ اُٹھا۔منی بنانے کا یہ بھی کیسا کامیاب کاروبار ہے اگرگرفت میں نہ آئیں تو پیسے بہت زیادہ اور اگر بدقسمتی سے گرفت میں آجائیں تو شہرت کی بلندیوں کو چھونے کے مراحل کافی حد تک آسان ہو جاتے ہے۔قانون کے آٹھ دس رکھوالے اپنی گرفت کو مضبوط کیے آگے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں۔اوپر سے ان ہیروینز نے گرمی سے بچنے کے لئے اتنا سرخی پوڈر لگایا ہوتا ہے کہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے چکر میں گھیرا ڈالے اس پتلی تماشہ سے محظوظ ہو رہے ہوتے ہیں۔ سارے ملک کا میڈیا ان کو کوریج دیتا ہے اور منٹوں سیکنڈوں میں کہانی ہر گھر میں پہنچ جاتی ہے۔کاش ہم سب مل کر اس ملک اور اپنے آپ پر رحم کریں۔آمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں