بلدیاتی نظام اور سیاسی سہولت کار


تحریر، افضال احمد تتلا
[email protected]

جمہوریت عربی زبان کا لفظ ہے جمہور کے معنی عوام یاسب لوگ کے ہوتے ہیں لہذا جمہوریت سے مراد عام لوگوں کی حکومت ہے جمہوریت کے لئے انگریزی لفظ ڈیموکریسی استعمال ہوتاہے یہ لفظ دو یونانی الفاظ Demos اور Kratos سے اخذ کیا گیا جن کے بلترتیب معنی لوگ اور حکومت ہیں اس طرح جمہوریت کا مطلب ہوا عوام کی حکومت گویا یہ ایک ایسا طرز حکومت ہے جس میں عوام خود یا اپنے منتخب نمائندوں کے زریعے حکومت کرتے ہیں بادشاہت نظام کے خاتمہ کرنے والا یہ جمہوری نظام جب متعارف ہوا تو اس نظام کے پیچھے سب کے ووٹ کی یکساں اہمیت کا نعرہ کارفرماں تھا بقول مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال
جمہوریت اک طرزحکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گناکرتے ہیں تولہ نہیں کرتے

کے مصداق اس نظام میں معاشرے کے تمام افراد کی رائے حق دہی کی اہمیت یکساں ہے جمہوری نظام کے تحت انتخابات کے دوران بلٹ بکس میں ڈالے جانے والی ووٹ “پرچیاں ” ایک ہی ترازو میں تولی جاتی ہیں ان میں خواندہ اور ناخواندہ ، عام و خاص, چور،ڈکیت, قاتل ودیگر اجرام میں ملوث افراد اور شریف شہری جو صبح سے لےکر شام تک اپنے خاندان اور ملک وقوم کی کفالت کو اپنا منشور بنائے رکھتا ہے ان کی رائے برابری کادرجہ رکھتی ہے –

ترقی یافتہ ممالک نےتو اس جمہوری نظام کو اپنا کراپنے آپ کو مزید مستحکم بنالیا ہے مگرترقی پزیر ممالک بشمول وطن عزیز کاحکومتی نظام اس جمہوری سسٹم کی بھول بھولیوں میں پھنسا ہوا دکھائی دیتا ہے اور مبیّنہ طور پر نااہل وکرپٹ افراد اس نام نہاد جمہوری نظام کے ثمرات سمیٹ کر حکومتی ایوانوں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوتے جا رہے ہیں اس کی واضح مثال ملک بھر میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات اور منتخب بلدیاتی نمائندے ہیں۔حالیہ بلدیاتی انتخابات میں گلی محلے کے ترقیاتی کاموں اور پکی سڑکوں کی تعمیروتکمیل کے لئے ہونے واے لوکل باڈی الیکشن کے نومنتخب امیدواروں میں ایسے افراد بھی شامل تھے جن کے حوالے سے گذشتہ دنوں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس کے مطابق صرف صوبہ پنجاب کےدارالحکومت لاہور کی 294 یونین کونسلز میں نومنتخب چیئرمینوں، وائس چیئرمینوں اور جنرل کونسلرز کی اکثریت اپنے علاقوں میں دہشت کی علامت سمجے جاتے ہیں اور تھانہ سطح پر ان نام نہاد عوامی منتخب لیڈروں کا ریکارڈ انتہائی کریمنل ہے۔پولیس کے مطابق متعدد قماربازی،منشیات فروشی ڈکیتی، قتل،اقدام قتل جیسے مقدمات میں ملوث رہے ہیں یہ اسی جمہوری نظام ہی کا پھل ہے کہ صوبائی دارالحکومت میں ڈکیتی کا ملزم پابندسلاسل ہونے کے باوجود بھی جنرل کونسلر منتخب ہوگیا ہے تھانہ فیکٹری ایریاانویسٹی گیشن پولیس کی زیرحراست ملزم طاہر نوید مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ پر یو سی 124 وارڈ نمبر 6 سے 328 ووٹ لیکر جنرل کونسلر منتخب ہوا تھا ملزم کو انتخابات کا میدان سجنے سے تین دن پہلے 28 اکتوبر کو ساتھی سمیت گرفتار کر لیا گیا تھا ملزمان سے 5 لاکھ روپے نقدی ، ایک موٹرسائیکل ، دو پسٹلز اور پندرہ موبائل فونز برآمد ہوئے تھے ملزمان سے پوچھ گچھ کے بعد ایک پریس کانفرنس میں پولیس نے بتایا تھا کہ ملزمان گزشتہ دنوں ایکسائز آفس سے لاکھوں روپے چھننیے کے ساتھ ساتھ والٹن روڈ پر مختلف موبائل شاپس سے گن پوائنٹ پر متعدد موبائل فونز بھی اڑا چکے ہیں اخباری خبر کے مطابق ڈکیت کونسلر ڈاکو ہونے کے علاوہ بینک میں بطور ڈیٹا انٹری آپریٹر ملازم بھی ہے ان انکشافات نے الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کی قلعی بھی کھول دی ہے کیونکہ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے مطابق سرکاری ملازم انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کی حیثیت بھی سوالیہ نشان بن گئی علاوہ ازیں (ن) لیگ کی جانب سے امیدواروں کے چناو کے عمل سے متعلق بھی سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔بلدیاتی انتخابات کے بعد ذرائع سے ایک خبر ملی تھی کہ سپشل پولیس نے ہر یونین کونسل کی سطح پر مقامی تھانہ سے مل کر نومنتخب چیئرمین ، وائس چیئرمین اور کونسلرز کی ایک سپشل اور مفصل رپورٹ تیار کرناشروع کی ہے۔ذرائع کے مطابق لوکل باڈی الیکشن سے قبل بھی سپشل برانچ اورسکیورٹی برانچ پولیس نے امیدواروں کی جو رپورٹس تیار کی تھیں اس میں بھی ہر امیدوار کے بارے میں تفصیل اکھٹی کی گئی تھی اور امیدواروں کے بارے میں واضح لکھا تھا کہ ان کا سابقہ ریکارڈ درست نہیں ہے اور ان تمام رپورٹس کو سابقہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہبازشریف سمیت دیگر اہم شخصیات کو بجھوایا گیا تھا –

مگر اس تمام کارروائی کے باوجود ان چیئرمین مینوں، وائس چیئرمین مینوں اور جنرل کونسلرز نے مختلف پارٹیوں کے ٹکٹ سے الیکشن بھی لڑا اور انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیابی بھی حاصل کی اور بعداز کامیابی عوامی ترقیاتی کاموں کی بجائے ان نو منتخب چھوٹے سیاستدانوں نے مبیّنہ طور پر گلی محلہ کی غنڈہ گردی کے ساتھ ساتھ اپنے دیگر مبیّنہ کاروبار جن میں قماربازی،منشیات فروشی،چوری و رہزنی اور جسم فروشی جسے گھناؤنے جرائم کو مزید چمکانا شروع کردیا۔جس سے ہمارے حکومتی نظام اور قانون نافظ کرنے والے اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان بن کر رھ گئی ہے۔یہ سیاسی غنڈے عوام کو بھی معاشرتی اخلاق کے انتہائی پست سطح پر لے جاتے ہیں۔دیہی علاقوں میں تو عوام سب کچھ جانتے ہوئے بھی ایسے افراد کا چناو کرنے کےلئے مجبور ہوتے ہیں جن کا شمار اپنے علاقوں کے بدکردار لوگوں میں ہوتا ہے اس کی وجہ صرف اور صرف دہشت ہے اگر کوئی شخص ایسے افراد کی خواہش کے مطابق اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کرتا تو اس کو اپنا گاؤں اور علاقہ چھوڑنا پڑتا ہے۔اسی لیے ہمارے معاشرے میں یہ مقعولہ مشہور ہے کہ”سیاست شریف آدمی کے بس کا روگ نہیں” ان تمام حقائق کومدنظر رکھتے ہوئے۔عوام کے ذہین میں ایک سوال کلبلا رہا ہے کہ ان نو منتخب جرائم پیشہ چیئرمین مینوں ، وائس چیئرمینوں اور جنرل کونسلرز کو ٹکٹ دینے والے والی سیاسی شخصیات نے کس دباؤ میں آکر کریمنل رکارڈیافتہ افراد کو پارٹی ٹکٹ تھما دیے تھے؟ کیا یہ افراد اتنے ہی طاقتور ہیں کہ سیاسی پارٹیوں کو ان کے سوا کوئی بھی نچلی سطح پر عوامی نمائندہ دکھائی ہی نہیں دیا۔ٹھیک ہے سیاسی شخصیات نے ان غنڈوں کو ٹکٹ دے کر اپنی پارٹی کو بلدیاتی سطح پر کامیابی تو دلا دی لیکن شاید یہ کسی نے بھی نہیں سوچا کہ آنیوالے دنوں میں جب ان نام نہاد لیڈروں کے قماربازی کے اڈوں پر پولیس چھاپے مارے گئی تو بدنامی کس کی ہوگئی؟ ٹکٹ تھمانے سے پہلے ان سیاسی شخصیات نے ایک بار بھی سوچا تھا کہ ہم ان قمار بازوں کی صورت میں ملک میں جو بیج بو رہے ہیں اسکے عوامی سطح پر کیا اثرات مرتب ہونگے اور یہ چور اچکے کل کلاں صوبائی یاقومی اسمبلی کی سطح پر آگے تو کیا گل کھلائے گیئں۔ایسے ہی کریمنل رکارڈیافتہ افراد کا انتخابات میں آنا کئی نئی دشمنیوں کو جنم دے گیا ہے جس کے نتیجہ میں دوران الیکشن پنجاب کے ہی ضلع فیصل آباد میں قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی سمیت لڑائی جھگڑے کے 55 مقدمات درج ہوئے تھے۔ان مقدمات کی زد میں سابقہ وزیر مملکت عابد شیر علی اور ایم۔پی۔اے طاہر جمیل بھی آگئے تھے۔یہ صرف صوبہ پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کے حالات ہیں جب کے سندھ کے حالات اس سے بھی ابتر ہیں یہاں سیاسی چپقلش کی وجہ سے آٹھ افراد زندگی کی بازی ہارگے۔ اگر سیاسیت کے میدان کے شہسوار ہی جرائم پیشہ افراد ہونگے تو انتخابات کا اکھاڑہ خون کی ہولی کے بغیر کیسے سجے گا؟ ان انتخابات میں ہونے والی مارا ماری کی وجہ سے پروان چڑھنے والی یہ نفرتیں اب کئ دیہایاں عوام کو بگھتنا پڑے گی جبکہ جتنے والے جیت گے لیکن ہارنے والے امیدوار ابھی تک ان منتخب شدہ نمائندوں کا کریمنل ریکارڈ ہاتھوں میں لئے ان کی جیت کو “دہشت” سے منسوب کرتے نظر آرہے ہیں۔کیا یہ ہے جمہور (عوام) کی حکومت کہ جس میں خواندہ اور ملک وقوم کا درد رکھنے والے شہری کو انتخابات میں حصہ لینے کیلئے کسی بھی سیاسی پارٹی کا ٹکٹ لینا ہی جوئے شیر لانے کے مترادف ہیں جبکہ قتل سمیت دیگر بڑے جرائم میں ملوث افراد کے دروازے پے پارٹی ٹکٹز خود چل کر آتے ہیں آخر میں عوام حکومت سے بس ایک سوال کرتے ہیں کہ بلدیاتی الیکشن کروانے کا مقصد نچلی سطح پر ترقیاتی کاموں کو احسن طریقے سے کروانا تھا کہ انتخابات کی آر میں چوراچکوں کو اختیاردے کر ان پر مسلط کرنا تھا یہ ایک حقیقت ہے کہ جرائم پیشہ افراد ایسے خطرناک سانڈوں کی ماند ہوتے ہیں جو بے جا بپھرے رہتے ہیں اور بپھرے ہوئے سانڈ کبھی کسی کے نہیں ہوتے ان کے سامنے ان کا مالک بھی آجائے تو اس کو بھی روندنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے اس لئے نئے بلدیاتی نظام کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں اپنے سیاسی نظام کو ان سانڈوں سے پاک کر لینا چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو سیاسی نظام کا حصہ بن کر اپنے ناجائز دھندوں کو کھلے عام چلانے کے مواقع فراہم کرنے والے سہولت کاروں ( پارٹی ٹکٹ دینے والی شخصیات) کا بھی محاسبہ کرنا چاہئے تاکہ جمہوریت کی حقیقی تعریف ” عوام کی حکومت,عوام کے لئے اور عوام کے ذریعے”کو عملی جامہ پہنایا جاسکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں