رخ پہ بھولی ہوئی پہچان کا ڈر تو ۔۔۔۔۔۔ آیا ، کم سے کم بھیڑ میں اک شخص نظر تو آیا


تحریر خاور جاوید رانا

کسی شخص کا ایک جنگل میں گزر ہوا ۔ اس نے دیکھا کہ سب جانور قہقہے لگا کر ہنس رہے ہیں، جبکہ ” ڈونکی راجہ” ہونقوں کی طرح منہ کھولے بٹر بٹر انہیں ہنستے ہوئے دیکھ رہا ہے ۔ دوسرے روز وہ شخص پھر ادھر سے گذرا تو اس نے کیا دیکھا کہ آج تمام جانور سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے کھڑے ہیں جبکہ ” ڈونکی راجہ ” اکیلا ہی قہقہے لگائے چلا جا رہا ہے۔ اس شخص نے پاس سے گزرتی ہوئی لومڑی سے پوچھا کہ یہ سب کیا ماجرا ہے ؟ تو لومڑی نے ترنت جواب دیا کہ معاملہ واملہ کیا ہونا ہے ۔ کل شیر جی نے لطیفہ سنایا تھا جسے سن کر سب جانور محفوظ ہو رہے تھے ۔ ڈونکی راجہ کو آج اس کی سمجھ ائی ہے۔ جس بنا پر وہ ڈھینچوں ڈھینچوں قہقے لگا رہا ہے ۔ خیر یہ تو ایک لطیفہ تھا ۔ یقینا آپ اس سے لطف اندوز ہوئے ہونگے ۔

ایسی ہی صورتحال کل اس وقت قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیدا ہو گئ کہ جس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین جناب بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعظم پاکستان عمران خاں نیازی کو ” Selected Prime minister ” کہہ کر مخاطب کیا تو ان کی اس بات پر تحریک انصاف کے ممبران اسمبلی نے ہاہا کار مچانا شروع کر دی اور احتجاج کرنے لگے کہ چیئرمین صاحب کا طرز کلام درست نہیں ہے ۔

یہ اسکا طرز تخاطب بھی خوب ہے محسن
رکا رکا سا تبسم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خفا خفا آنکھیں

چیرمین پاکستان پیپلز پارٹی اپنے ہونٹوں پر ہلکا سا تبسم سجائے ان لوگوں سے اس غل غپاڑے اور شورو غوغا کے اسباب دریافت فرماتے رہے ۔ چیرمین صاحب کا کہنا تھا کہ یہ الفاظ تو انہوں نے آٹھ ماہ پہلے بھی قومی اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب کے دوران ادا کیے تھے ۔ تب تو تم لوگوں نے ڈیسک بجا کر میرے ان الفاظ کو بیحد سراہا تھا اور اس کا خیر مقدم بھی کیا تھا ۔

شاعری کرتی ہے اک دنیا فراز
پر تیری سادہ بیانی اور ہے

اگر غور کیا جائے تو پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں یہ پہلا موقعہ ہو گا کہ حزب اقتدار نے حزب اختلاف کے خلاف صداے احتجاج بلند کی ہو ۔ ورنہ یہ فرائض منصبی تو ہمیشہ ہی سے اپوزیشن کو ادا کرنا پڑتے تھے ۔

یہ حقیقت ہے کہ چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے آج سے آٹھ ماہ قبل بھی ان الفاظ کو ادا کیا تھا ۔ لیکن اس وقت تو جناب چیرمین کے یہ الفاظ ان بیچاروں کے سروں پر سے گزر گئے تھے ۔ یہ تو بھلا ہو حسن نثاروں اور مبشر لقمانوں کا جنہوں نے انہیں بتایا کہ بلاول بھٹو نے یہ الفاظ ان کی تعریف میں نہیں بلکہ تذلیل میں ادا کیے تھے ۔ تب جا کر ان کو سمجھ آئی کہ واقعی ہی یہ تو بڑی بے عزتی والی بات تھی۔ بیچارے ماجھے ساجھے وسیم اکرم پلس ۔

وزیر اعظم عمران نیازی کو اپنے لوگوں پر غصہ تو بہت آیا ہوگا لیکن وہ کیا ہے کہ ” اظہار بھی مشکل ہے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے بھی نہیں” کے مصداق انہوں نے خاموشی میں ہی عافیت جانی ۔ ورنہ وہ بھی تو کہہ دیتے کہ مائی باپ آپ نے بھی تو شاہ محمود قریشی کے ایماء پر ڈیسک بجایا تھا ۔ ہم نے تو آپ کی تقلید میں اس کار خیر میں حصہ لیا تھا کہ ہو نا ہو بلاول بھٹو زرداری نے انگریزی میں کوئی اچھی بات ہی کہی ہوگی کہ جو آپ اچھل اچھل کر ڈیسک کو بجا رہے تھے۔ اب وہ دن اور آج کا دن، وزیراعظم صاحب کو بلاول جی کی انگلش دانی سے جیسے چڑ ہو چکی ہے۔ اور تو وہ کچھ کر نہیں پائے لیکن اپنے جلسوں میں بلاول بھٹو زرداری کی انگریزی میں تقاریر کرنے کے پیچھے ہاتھ دھو کر ضرور پڑ گئے ۔ اس پر بھی دانشورانِ پاکستان نے ان کے خوب لتے لئیے اور ٹھکائی کی ۔

پاکستان میں کنٹرولڈ ڈیموکریسی کے جہاں بے پناہ مضر ثمرات ہیں وہاں پر یہ بھی ایک المیہ یہ بھی ہے کہ یہاں ان لوگوں کو اسمبلیوں میں تو پہنچایا جاتا ہے ۔ حتی کہ انہیں وزارت عظمیٰ کے منصب پر بھی فائز کر دیا جاتا ہے کہ جن کا اپنا کچھ ” vision ” نہیں ہوتا اور یوں بھی انہیں سیاسی بصیرت کے حامل افراد سے چڑ ہوتی ہے ۔ انہیں تو وہ لوگ ہی چاہئیے ہوتے ہیں کہ جو اقتدار کے سنگھاسن پر وسیم اکرم پلس بن کر براجمان رہیں اور جب یہ ڈور ہلایں تو وہ کٹھ پتلیوں کی طرح تھرکنے لگیں ۔ ملک اور ملکی معیشت جائے بھاڑ میں ۔۔ بس حاکمیت اور اقتدار اعلی ان کے پاس رہنا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں