عمران خان نے بلاول بھٹو کو ایسا کیا کہہ دیا کہ ملک بھر میں ہلچل مچ گئی ، جیالے مشتعل

وزیراعظم عمران خان اکثر مخالفین پر الزامات عائد کرتے رہتے ہیں لیکن اس مرتبہ تو حد ہی ہو گئی ہے کہ انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کو ایسا کیا کہہ دیا کہ اپوزیشن کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے – تاہم انہوں نے یہ جان بوجھ کر کہا ہے یا پھر ان کی زبان پھسل گئی ہے –

وزیراعظم عمران خان آج وانا میں جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے کہ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو ” صاحبہ ” کہہ دیا – اب اس موقع پر عمران خان کی زبان ایک بار پھر پھسل گئی؟ یا انہوں نے جان بوجھ کر بلاول بھٹو کو صاحب کے بجائے صاحبہ کہہ کر مخاطب کیا؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ میں ’بلاول صاحبہ‘ کی طرح پرچی (وصیت) پر نہیں آیا، میرے اقتدار میں آنے کا مقصد کرپٹ لوگوں کو شکست اور ملک کو ترقی دینا ہے۔ جب تک زندہ ہوں نہ کسی کو این آر او دوں گا اور نہ ہی معاف کروں گا،لوٹا ہوا پیسہ ہر صورت واپس لائوں گا۔ جمہوریت بچانے کے نام پر سارے کرپٹ جمع ہوگئے ہیں ان کا مقصد ہے کہ عمران خان پر دباؤ ڈال کر این آر او لے لیں اور اپنا چوری کا پیسہ بچا لیں لیکن میں ایسا کچھ نہیں ہونے دوں گا –

انہوں نے واضح کیا کہ قوم مطمئن رہے تمام کرپٹ لوگوں کا وہ اکیلے ہی مقابلہ کریں گے،پیسا آرہا ہے، بس تھوڑا سا صبر کرنا ہوگا، تبدیلی نظر آنا شروع ہوجائے گی ، یہاں پر ایسے لوگ بھی ہیں جو نوجوانوں کو انتشار کی طرف لے کر جارہے ہیں، اُن کی سوچ ہے کہ قبائلی علاقے کے لوگوں کے دکھ اور درد کو کیش کرکے فائدہ اٹھایا جائے اور انتشار پھیلایا جائے۔ ان کے کئی لیڈر ایسے ہیں، جن لیے باہر سے پیسا آرہا ہے، جو جماعتیں اپنی کرپشن بچانا چاہتی ہیں وہ بھی ان کی مدد کر رہے ہیں، قبائلی علاقوں میں امن چاہتے ہیں انتشار نہیں۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بلاول بھٹو کو کو “صاحبہ” کہہ کر پکارنے پر ان پر سخت تنقید کی جارہی ہے اور اپوزیشن اس حوالے سے کھل کر سامنے آ گئی ہے –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں