موبائل فون کارڈ پر ٹیکسز بحال ، 100 روپے پر کتنی کٹوتی ہو گی ؟؟ تشویش ناک خبر

پاکستانی عوام پر ایک اور پہاڑ گرا دیا گیا ہے کیونکہ عدالت عظمنی نے موبائل فون ٹیکس سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے جس کے مطابق جون 2018 کو جاری کئے گئے سٹے آرڈر کو واپس لے لیا گیا ہے جس کے بعد موبائل فون کارڈز پر ٹیکسز بحال کر دئیے گئے ہیں جس کے بعد اب 100 کے کارڈ پر 75 روپے ملیں گے جبکہ 25 روپے ٹیکس کٹوتی ہو گی –

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے موبائل فون کمپنیوں سے اضافی ٹیکس وصولی سے متعلق کیس کی سماعت کی اس موقع پر چیف جسٹس نے موبائل فون ٹیکس سے متعلقہ کیس کا مختصر فیصلہ صادر کر دیا جسے مطابق سپریم کورٹ ٹیکس معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی ، پبلک ریوینیو اور ٹیکس معاملات پر مداخلت کیے بغیر عدالت یہ از خود نوٹس مقدمہ نمٹاتی ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ3 مئی 2018 کو موبائل ٹیکس کا معاملہ سپریم کورٹ میں آیا،یہ معاملہ انسانی حقوق سیل کے ذریعے بنچ کے نوٹس میں لایا گیا اور انہوں نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے کے جائزے کے بعد نوٹسز جاری کیے گئے،عدالت نے معاملے کا جائزہ لیا کہ یہ بنیادی انسانی حقوق میں آتا ہے۔

خیال رہے کہ جون 2018 میں موبائل کارڈ پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر )اور موبائل کمپنیز کی جانب سے وصول کیے جانے والے ٹیکسز کو معطل کرتے ہوئے ان احکامات پر عمل کرنے کے لیے 2 دن کی مہلت دی تھی۔

واضح کیا گیا ہے کہ اب صارفین جب موبائل کارڈ استعمال کریں گے تو 100 روپے کے کارڈ پر 25 روپے کٹوتی ہو گی اور صارفین کو 75 روپے بیلنس ملے گا ، اس صورتحال پر صارفین کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آ رہا ہے –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں