میں تو بھول چلی بابل کا دیس ……… پیا گھر پیارا لگے !!!


تحریر ۔ خاور جاوید رانا

آثار بتا رہے ہیں کہ اپنے چھوٹے میاں صاحب نے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرنے کا ارادہ باندھ ہی لیا ہے ۔ گرچہ یہ میرا اپنا اندازہ ہے اور پھر میں نا ہی کوئی قیافہ شناس ہوں اور نہ ہی رمل فال نکالنے والا کوئی پامسٹ ۔ یہ تو زمینی حقائق و شواہد ہیں کہ جو میرے نقطہٴ نظر کی توثیق کر رہے ہیں’ لہذا یہ سب حرف بحرف سچ بھی ہو سکتا ہے اور نہیں بھی ! اگر میرا اندازہ من و عن سچ ثابت یوتا ہے تو پھر کچھ بعید نہیں کہ چھوٹے میاں صاحب آئیندہ ایک دو روز میں پاکستانی ارباب اختیار کے انٹرپول سے رابطہ کرنے سے قبل ہی لندن سے سیاسی پناہ بھی طلب کر لیں ۔ ۔

اور مجھے اپنی اس بات پر صد فیصد یقین بھی ہے کہ ایسا ہی کچھ ہونے جا رہا ہے ۔ ورنہ مسلم لیگ نون کے پارلیمانی اجلاس میں میاں شہباز شریف کی جگہ رانا تنویر حسین کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نامزد نہ کر دیا جاتا اور پھر یہ سب کچھ اتنا سرعت کے ساتھ کیا گیا ہے کہ جہاں ” نون لیگ حلیف جماعتیں” انگشت برآں ہیں وہاں نون لیگ کے اپنے بھی کنفیوژن کا شکار ہو چکے ہیں ۔

اس ساری کاروائی کے پس پردہ کیا عوامل کارفرما ہیں یہ تو نون لیگی قیادت ہی جانے یا پھر پاٹے خان ایسوسی ایشن جانے،جو کہتے نہیں تھکتے تھے کہ ہم کسی کو”NRO” نہیں دیں گے، بہرحال اگر نکے کا ابا چاہے تو پھر کون مائی کا لعل ہے کہ جو اس بات کی مخالفت کریگا۔ لہذا جو ہوا وہ اچھا ہی ہوا اور آئیندہ بھی جو ہوگا وہ بھی اچھا ہی ہوگا ۔ مجھے تو اس بات کی خوشی ہے کہ میاں شہباز شریف اب مزید خجل خواری سے بچ جائیں گئے،کہاں 48 ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی میں دربدر ہونا اور کہاں ٹھنڈے ٹھار لندن کی بہاریں ۔ یوں بھی وہ کیا ہے کہ
” جس کا کام اسی کو ساجھے”

کہاں ناز و نعم میں پلے بڑھے یہ نون لیگی ! اور کہاں اپوزیشن کا کردار ۔ اس کٹھن کام کے لیے اپنا شہزادہ بلاول ہے نا ۔ یہ ٹھہرے پیدائشی حکمران جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی والوں کی تو تربیت ہی زندانوں میں ہوئی ہے ۔

تھا مجھے طفلی میں ہی ذوق اسیری اس قدر
کھیلتا رہتا تھا دروازے کے زنجیروں کے ساتھ

گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان کے مشیر ندیم افضل چن ایک ٹی وی ٹاک شو میں فرما رہے تھے کہ لیڈر آف دی اپوزیشن بلاول بھٹو زرداری ہی کو ہونا چاہئے ۔ ہوسکتا ہے کہ یہ ان کا کوئی سیاسی پینترا ہو، یا یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں مستقبل کو بھانپ لیا ہو ، لیکن کوئی ان سے اتفاق کرے یا کہ نا کرے لیکن میں ندیم افضل چن کی اس بات سے سو فیصد متفق ہوں، چیرمین پاکستان پیپلز پارٹی اس فریضہ کو بڑے ہی احسن طریقہ سے نبھا رہے ہیں ۔ وہ نا صرف قومی اسمبلی میں حکمرانوں کو ٹف ٹائم دے رہے ہیں بلکہ قومی اسمبلی کے باہر بھی بڑے تدبر اور بردباری کے ساتھ حکومت کی غلط اور غریب عوام کش پالیسیوں کے خلاف صداے احتجاج بلند کرتے نظر آرہے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں