زرعی یونیورسٹی کے ا نتظامی سسٹم کو ای گورننس سے منسلک کرنے کا فیصلہ ، وائس چانسلر

فیصل آ باد(ویب ڈیسک) زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے انتظامی سسٹم کو ای گورننس سے منسلک کرتے ہوئے اس میں ٹریکنگ سسٹم متعارف کر کے ایک ایسا ماڈل دیا جائے گا جسے دوسرے اداروں میں بھی دہرایا جا سکے تاکہ متعلقین کو زیرغور جملہ معاملات کی تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ رکھا جا سکے۔ یہ اعلان زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد اشرف (ہلال امتیاز) نے نیو سینٹ ہال میں اکیڈمک کونسل کے 286ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر محمد اشرف نے کہا کہ وہ اپنے عہدے کو اختیارات کا مرکز بنائے رکھنے کے بجائے فیصلہ سازی کا اختیار نچلی سطح پر منتقل کرنا چاہتے ہیں تاکہ معاملات کا ڈینز‘ ڈائریکٹرز و چیئرمین کی سطح پر ہی فیصلہ ممکن بناکر غیرضروری تاخیرکو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وائس چانسلر کا عہدہ محض رخصت منظور کرنے‘ این او سی جاری کرنے یا گھنٹوں پر محیط فائل ورک کے بجائے یونیورسٹی میں ٹیچنگ و ریسرچ کے معیار کو بہتر بناتے ہوئے اسے دنیا کی ٹاپ جامعات کی فہرست کا حصہ بنانے‘ اس کیلئے قومی و بین الاقوامی فنڈنگ ایجنسیوں سے تحقیقی وسائل حاصل کرنے اور قومی سطح پر پالیسی سازی کیلئے غور و فکر کرنے کا متقاضی ہے جس کیلئے وہ اپنی تمام توانائیاں صرف کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ 800سے زائد اساتذہ کی موجودگی میں آئی ایس آئی جنرلز میں کوالٹی ریسرچ پیپرز کی اشاعت انتہائی ناکافی ہے جس میں اضافہ کرنے اور ان کی خاطر خواہ سائی ٹیشنزکیلئے کام کرنا ہوگا تاکہ یونیورسٹی کو صحیح معنوں میں تعلیم و تحقیق کا گہوارہ بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ اساتذہ‘ سائنس دانوں‘انتظامی افسران و سٹاف اور طلباء و طالبات کیلئے سہولت کار کا کردار ادا کرے گی اور اس مقصد میں رکاوٹ بننے والوں کوہرگزبرداشت نہیں کیا جائیگا۔ ڈاکٹر اشرف نے نوجوان اساتذہ پر زور دیا کہ وہ خود کو ہائر ایجوکیشن کمیشن سے پی ایچ ڈی سپروائزری کیلئے منظورشدہ لسٹ کا فوری حصہ بنائیں تاکہ انہیں پی ایچ ڈی طلبہ کی رہنمائی کیلئے پینل کا حصہ بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن جامعات میں طلبہ و اساتذہ کی شرح کوبین الاقوامی سطح پر لانے‘ معیار تعلیم اور منظورشدہ لسٹ کے بغیرپی ایچ ڈی طلبہ کی رہنمائی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا لہٰذا تمام پیرامیٹرز میں بہتری یقینی بنانے کیلئے سنجیدہ اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے یونیورسٹی کے انرجی سسٹم انجینئرنگ کے چیئرمین کو ہدایت کی کہ آئی سی ٹی کی تین بلڈنگز کودو ماہ میں سولر انرجی سے منسلک کرتے ہوئے دو حتمی پیش رفت کی جائے تاکہ وہاں تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں کا آغاز کیا جا سکے۔ اکیڈمک کونسل نے مرکزی کیمپس میں آئندہ تعلیمی سیشن سے بی ایس سی (آنرز’فوڈ سائنس و ٹیکنالوجی‘ انوائرمنٹل سائنسز اور مائیکروبیالوجی‘ دیپالپور سب کیمپس میں زوالوجی اور باٹنی جبکہ ٹوبہ ٹیک سنگھ سب کیمپس میں بی بی اے‘ بی ایس کیمسٹری اور بی ایس زوالوجی کے انڈرگریجوایٹ ڈگری پروگرامز کے اجراء کی بھی منظوری دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں