ایم ٹی آئی ایکٹ مکمل ناکام ، کے پی میں نفاذ ہوا تو عوام علاج سے محروم ہو گئے،پی ایم اے

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن فیصل آباد کا ایک اہم اجلاس سرپرستِ اعلیٰ پی ایم اے فیصل آباد جناب ڈاکٹر طفیل محمد کی زیر ِصدارت منعقد ہوا جس میں صدر پی ایم اے فیصل آباد ڈاکٹر صولت نواز ،ڈاکٹر رائے محمد عارف ،ڈاکٹر محمد عرفان سمیت دیگر ممبران نے شرکت کی ۔اجلاس میں حکومت کی جانب سے ایم ٹی آئی ایکٹ کے فی الفور نفاذ کے بارے میں غور کیا گیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ خیبر پختونخواہ میں میں ایم ٹی آئی ایکٹ کے نفاذ کے بعد دیکھا گیا ہے کہ وہاں پر غریب عوام علاج معالجہ کی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں ۔ کے پی کے کی غریب مریض اپنے علاج معا لجہ کے لیے پنجاب اور کراچی کے مختلف ہسپتالوں میں آ رہے ہیں ، جبکہ ڈاکٹرز اس ایکٹ سے تنگ آکراپنی نوکریا ں چھوڑ کر دوسری صوبوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں ۔ اگر اس ایکٹ کو ملک کے باقی صوبوں میں بھی نافذ کیا گیا توجہاں ڈاکٹر ز مجبوراًملک چھوڑ کر جانے پر مجبور ہونگے وہیں غریب عوام علاج کے بغیر سسک سسک کر مرنے پر مجبور ہوجائینگے –

اجلاس میں بتایا گیا کہ اس ایکٹ کے تحت ہسپتالوں کو بورڈ آف گورنر ز کے ماتحت کیا جارہا ہے جو ہسپتالوں کو ٹھیکے پر دینے کے مترادف ہے ۔ جہاں اس نظام سے علاج مہنگا اور غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو جائے گا وہیں ڈاکٹر ز کی سرکاری نوکریاں بھی خطرے میں پڑ جائیں گی ۔ جس کی وجہ سے ڈاکٹرز مریضوں پر توجہ دینے سے قاصر ہوں گے۔ جس سے صحت کے نظام میں بہتری کے بجائے مزید بگاڑ پیدا ہوگا –

اجلاس میں مزید کہا گیا وزیر اعظم عمران خان اور وزیر صحت یاسمین راشد کے اس ایکٹ کے نفاذکے متعلق بیانیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نےاسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیاہے۔ پی ایم اے فیصل آباد حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ فی الفور اس ایکٹ کے نطاذ سے گریز کیا جائےکیونکہ اس ایکٹ کی موجودہ صورت میں اس کے نفاذ سے بہتری کی بجائے مزید خرابیاں پیدا ہوں گی جیسا کہ ہم کے پی کے میں دیکھ چکے ہیں ۔ اور اس مسئلےکو اپنی انااور ضد کا مسئلہ بنانے کی بجائے اس پر ٹھنڈے دماغ سے غور کیا جائے اور اس ایکٹ سے متعلق پی ایم اے کی پیش کردہ سفارشات کو مدنظر رکھا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں