جی سی یونیورسٹی برائے خواتین میں بے ضابطگیوں کی انکوائری ، کتنے دن میں مکمل ہوگی؟؟

گورنمنٹ کالج برائے خواتین فیصل آباد میں مبینہ طورپر ہونے والی بے ضابطگیوں کی انکوائری کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لئے ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے 4 رکنی انکوائری تشکیل دیدی ہے جو مالی سال 2016-2018 تک کے تمام مالی معاملات کی چھان بین کریگی جس کی رپورٹ 10روز ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو بھجوانے کی ہدایت کی گئی ہے –

مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں گورنمنٹ کالج برائے خواتین کو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی برائے خواتین کا درجہ دیا گیا اور اس وقت ڈاکٹر نورین عزیز کو وائس چانسلر تعینات کیا گیا تھا تاہم اب ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے جاری کئے گئے مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ سیکشن آفیسر یونیورسٹیز کی جانب سے یہ شکائت سامنے لائی گئی ہیں کہ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی آڈٹ انسپکشن رپورٹ میں بے ضابطگیوں کا نوٹس لیا گیا ہے جس پر مجاز اتھارٹی نے 2016 سے 2018 تک کے تمام مالی معاملات کی انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لئے چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کے سربراہ بہائوالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان کے خزانچی ڈاکٹر محمد عمر فاروق ہونگے جبکہ ممبران میں پروفیسر ڈاکٹر عاشق حسین ڈوگرایجوکیشن یونیورسٹی ، پروفیسر ڈاکٹر محمد الیاس طارق ڈیپارٹمنٹ آف کمیسٹری یونیورسٹی آف سرگودھا اور خرم شہزاد اسلم قریشی سیکرٹری تعلیمی بورڈ فیصل آباد شامل ہیں –

جاری کئے گئے مراسلے کے مطابق مجاز اتھارٹی نے تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان تمام بے ضابطگیوں کی چھان بین کریں جوہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے آڈٹ انسپکشن میں سامنے آئی ہیں اور جو ان بے ضابطگیوں کے ذمہ دار ہیں ان کا تعین کیا جائے اور اپنی سفارشات بھی بھجوائیں جائیں اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ انکوائری رپورٹ 10 روز میں مکمل کرکے بھجوانا لازمی ہے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں