انتقام کی سیاست کرنے پر مسلم لیگ ن نے حکومت کو کیا دھمکی دے ڈالی؟؟؟

پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے واضح کر دیا گیا ہے کہ اگر حکومت نے انتقام کی سیاست کرنی ہے تو وہ خود بھی اس کے لئے تیار ہو جائے کیونکہ پھر یہ معاملات رکتے نہیں ہیں ، اس حوالے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک کے جن اداروں کو کرپشن روکنے کے لئے کام کرنا ہے انہیں حکومت سیاسی انتقام کے طور پر استعمال کررہی ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کسی کام میں کوئی کوئی خرابی تھی تو محکمہ شکایت کرتا ہے لیکن این ایچ اے نے 4 سال تک کوئی شکایت نہیں کی۔ لیکن اب ایک سڑک کی تعمیر کو بہانہ بنا کر مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر امیر مقام کے بیٹے کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے – ٹھیکا این ایچ اے کے ساتھ ہے جسے کوئی شکایت نہیں لیکن 30 نومبر کو وزارت مواصلات نے خط لکھا کہ مجھے وزیر کا حکم ہے کہ میں آپ کو خط لکھوں کہ اس منصوبے میں کرپشن ہے اور اس کی تحقیقات کریں، تو اب ہم اسے سیاسی انتقام نہ کہیں تو کیا کہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ ہماری حکومت کا ٹھیکا نہیں، یہ 2009 کا ٹھیکا ہے جس کے بعد سیلاب آئے جو ایک سال تک کام ہوا وہ سب بہہ گیا اس کو دوبارہ مکمل کروانا پڑا جو 2013 میں مکمل ہو کر اب استعمال ہورہا ہے اور اب تک این ایچ اے کو کوئی شکایت نہیں اگر مسئلہ ہے تو وزیر کو ہے۔

مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر کا کہنا تھا ککہ کہ ایف آئی اے کہہ رہی ہے کہ 3 کروڑ روپے کا کام غلط ہوا، کام غلط ہونا کرپشن نہیں ہوتی، منصوبہ مکمل ہونے کے 4 سال بعد 18 نمونے لیے گئے جن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اس میں سے 14 نمونے درست تھے جبکہ 2 ایسے تھے جو ٹھیکیدار سے درست کروائے جاسکتے ہیں، یہ تمام کام کنسلٹنس سے منظور شدہ ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ تو ایک ارب روپےکا ٹھیکا تھا لیکن پشاور کا بی آر ٹی کے 100 ارب روپے کے ٹھیکے کا حال دیکھ لیں وہ کہاں پہنچ گیا ہے کیا وہاں اسلیے کرپشن نہیں کہ وہ عمران خان کا کام ہے، ان کا کہنا تھا کہ اگر کرپشن ہے تو بی آر ٹی میں ہے 40 ارب روپے کا منصوبہ 100 ارب پر پہنچ گیا۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے 3 ہزار ارب روپے کے ترقیاتی کام کیے ہیں لیکن آج ملک کا غریب مہنگائی میں پس رہا ہے آئی ایم ایف پر جانے کے بعد اب مہنگائی بڑھے گی- ہم اس ملک میں آمریت نہیں چاہتے لیکن کیا ایسا ممکن ہے کہ یہ حکومت اپنے 5 سال پورے کرلے؟

مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ اسکیم ایک دفعہ اسلیے دی جاتی ہے کہ نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے ہر سال کے لیے نہیں دی جاتی۔ آج حکومت کی پالیسی یہ کہ سیاسی اختلاف کے لیے ادارے استعمال کیے جائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت اگر ایمنسٹی سکیم لائے تو وہ حرام ہے لیکن اگر پی ٹی آئی حکومت نو ماہ کی حکومت میں ایمنسٹی سکیم لائے تو وہ حلال کیسے ہو سکتی ہے – یہ دوہرا معیارہے ایسے حکومت نہیں چلتی اور یہ حکومت بھی چلتی نظر نہیں آ رہی-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں